شوگر کا تحفہ/تحریر/قاسم علی شاہ 0

شوگر کا تحفہ/تحریر/قاسم علی شاہ

شوگر کا تحفہ/تحریر/قاسم علی شاہ

میرے بہت سے محبت کرنے والے دوست احباب، شاگرد اور عزیز و اقارب ایسے ہیں جو ملاقات کے لیے آتے ہیں تو اپنے ساتھ کسی بیکری کا کیک، مٹھائی یا ریفائن آٹے (میدے) سے بنی اشیا لے آتے ہیں۔ میں ان تمام چیزوں کے مضر صحت اثرات سے بخوبی واقف ہوں۔ ان کی وجہ سے معاشرے میں شوگر کا مرض بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 3 کروڑ لوگ شوگر میں مبتلا ہو رہے ہیں جب کہ روزانہ 300 افراد کی ٹانگ (وغیرہ) کٹ رہی ہے۔ شوگر بڑھانے والے اسباب بے حد بڑھ گئے ہیں، اگر آپ کو میری بات پر یقین نہ آئے تو ذرا بازار کی طرف نکل جائیے۔ آپ کو جتنی بیکریاں نظرآئیں گی، اتنی تعداد میں فارمیسیاں بھی نظر آئیں گی۔ یہ سب کچھ صرف دس سالوں میں ہوا ہے۔
میں فرداً فرداً سب سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے عزیزوں کو تحفہ دیں لیکن تحفے میں زہر نہ دیں۔ کسی کے گھر جانا ہے تو بے شک کم مقدار میں ہو، اپنے ساتھ تازہ پھل، کھجور، شہد یا کوئی خالص چیز لے جائیں، اس بات سے قطع نظر کہ اس کی قیمت زیادہ ہے، تاکہ آپ کی لائی ہوئی چیز اگر کسی کے منہ میں جائے تو وہ اس کے لیے شفا کا ذریعہ بنے، شوگر جیسی خطرناک بیماری کا نہیں۔
شوگر کا تحفہ/تحریر/قاسم علی شاہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں