0

تجدید عہد کا دن/تحریر/سمیع اللہ غزنوی

سمیع اللہ غزنوی
“تجدید عہد کا دن”

ایک خاندان میں چینی کا ایک قیمتی اور قدیمی گلدان ہوا کرتا تھا۔ ایک نوجوان نے بوڑھے سے اس کی اہمیت کے بارے میں پوچھا۔ جواب ملا کہ یہ کہیں نسلوں سے خاندان میں قیمتی ورثے کی حیثیت سے چلا آ رہا ہے۔ خاندان کا ہر فرد اور ہر نسل پر فرض ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے۔ نوجوان نے کہا اس کی حفاظت کا وقت ختم ہوا ہے۔ کیونکہ چینی کا وہ گلدان موجودہ نسل کے ہاتھوں سے پھسل کر فرش پر گرا اور چکنا چور ہوا۔
بوڑھے نے کہا حفاظت کا دور ختم ہوا، ندامت کا دور کبھی ختم نہ ہوگا۔
14 اگست 1947 کو ملک کا آزاد ہوا۔ آزادی کے بعد کی نسلیں جنہوں نے غلامی دیکھی نہیں۔ ان کے نزدیک 14 اگست کی اہمیت صرف اتنی ہے کہ کیلنڈر میں 14 اگست کی تاریخ سرخ روشنائی سے چھپی ہوئی ہے جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ آج تمام سرکاری دفتروں اور بینکوں میں عام تعطیل ہوگی۔14 اگست ایک سرکاری تہوار ہے۔ جس میں کچھ تقریبات ہوتے ہیں۔ بچے روڈ پر نکلتیں ہے۔ سڑکوں پر لوگ گیت گاتے ہیں۔ گلیوں میں نعرے لگاتےہیں ۔
یہ آزادی جو صدیوں کے کوششوں سے حاصل ہوئی۔ چند سال بھی نہ گزرے۔ ہم اسے بھول گئے۔ وہ آزادی جسے حاصل کرنے کے لیے لاکھوں افراد نے اپنی جانیں قربان کی۔ مولانا محمد علی نے گول میز کانفرنس میں واسرائے برطانیہ کے سامنے کہا تھا ” اب میں آزادی لیے بغیر اپنے غلام ملک واپس نہیں جاؤں گا اگر آپ نے ہندوستان میں ہمیں آزادی نہیں دی تو یاد رکھیے آپ کو ہمیں اپنے یہاں قبر کی جگہ دینی ہوگی”۔ اس کے علاوہ وطن عزیز کی آزادی کے دن 15 لاکھ مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ مسلمان جو اپنا وطن چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرکے آرہے تھے۔ راستے میں ہندوؤں نے انہیں قتل کیا۔ عورتوں کی عزتیں لوٹی گئی۔ بچوں کو زندہ درگور کیا گیا۔ لوگوں کو گھروں سے بے گھر کیا گیا۔ہندوستان کی جن جن علاقوں مسلمان اقلیت میں تھے۔ ایک منظم پروگرام کے تحت ان علاقوں کو مسلمانوں سے صاف کیا جانے لگا۔ مسلمانوں کا اتنا قتل عام ہوا جس کی مثال ہندوستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
اس سخت اور کٹھن مر حلوں کے بعد جو لوگ پاکستان ہجرت کر کے آئے۔ایک امید لےکر آئے۔ مسلمانوں نے جس فکر کو لے کر پاکستان کے خواب دیکھے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد ہی ان کے خوابوں پر بانیان پاکستان نے پانی پھیر دیا۔ ہم نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اللہ تعالی ہمیں دوہری غلامی (انگریز اور ہندوؤں) کی لعنت سے آزاد کرے گا تو ہم دنیا کے سامنے ایک حقیقی اسلامی معاشرے کا نقشہ پیش کر کے دکھائیں گے اور اس ملک کو خلق خدا کے سامنے روشنی کا مینار بنائیں گے۔ یہی فکر اقبال کی تھی۔ یہی جوش اور ولولہ پاکستان کے لیے اٹھنے والے قدموں کی تھی۔ یہی تڑپ اور آرزو ہر اس شخص کی تھی جس نے اپنا گھر بار، اپنا صدیوں پرانا آبائی گاؤں چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی تھی۔ یہی اس فرد کی تمنا تھی جو ہندوستان سے اپنے خاندان کے ساتھ نکلا مگر جب پاکستان پہنچا تو خوشی سے اکیلا ہی سر بسجود ہوا ۔
قدرت کا سارا نظام اصولوں کے تابع ہے۔ آزادی اور اقتدار کے لیے بھی کچھ اصول ہوں گے۔ آزادی انعام کے طور پر ملتی ہے اور سزا کے طور پر چھن جاتی ہے۔ نعمت اسی کو ملتی ہے جو حقدار ہو آخر رب کریم ایک ناس پاس قوم کو کیوں کر نعمت سے نوازے۔ عطاءکا پہلا حق یہ ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ شکر سے لبریز دل روشن ہوتا ہے۔ شکر گزار روشن دماغ ہوتا ہے ۔ نا شکر گزار بے ضمیر اور بد دماغ ہوتا ہے۔ ناشکری کا نتیجہ بددیانتی کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔ اور جہاں ناشکری اور بددیانتی جمع ہوں۔ وہاں منافقت کا بازار گرم ہوتا ہے۔ منافق کا زبان کچھ اور دل کچھ اور ہوتا ہے۔ منافق زبان کے ساتھ دو قدم اٹھاتا ہے مگر چار قدم دل ہی دل میں پیچھے چلا جاتا ہے۔ جس قافلے میں ایسے افراد شامل ہو انہیں نہ کبھی سمت ملی اور نہ منزل۔ جہاں سے اگے روانہ ہونا چاہیے تھا وہاں سے وہ پسپائی اور رسوائی کی راہ پر نکلتا ہے۔
پاکستان کی صورت میں جو نعمت ہمیں ملی ۔ہمارے اسلاف کی بے لوث قربانیوں کی بدولت اللہ تعالی نے ہمارے حالات بدل دیے۔ ہمیں ایک ملک عطا کیا۔ مگر ہم روز اول سے ہی ناشکری کی راہ پر گامزن رہے۔ اللہ نے اپنا عہد پورا کیا مگر ہم نے بد عہدی کی۔ اللہ نے ہمیں عظیم نعمت سے نوازا مگر ہم نے منافقانہ روش اختیار کیا۔
11 اگست 1947 کو پہلی مجلس آئین سازی کے سامنے یہ سوال آیا کہ نو زائدہ پاکستان میں طرز حیات اور نظام حکومت کیا ہو۔ کیا یہ بات 1900 سے لے کر 1947 تک طےنہیں ہوئی۔ کیا علامہ اقبال نے یہ طے نہیں کیا تھا۔ کاش کی مجلس اتنی فرصت نکال کر ان مہاجرین سے پوچھ لیتا جنکی آنکھوں میں اپنی پوری خاندانوں کی مقتل گاہیں تھیں۔ اور خوابوں میں پاکستان کی اسلامی طرز حیات اور اسلامی طرز حکومت کے خواب تھے۔ ان لاکھوں بہنوں سے پوچھا جاتا جنہوں نے اپنی جان پر پاکستان کو ترجیح دی۔ ان بچوں سے پوچھا جاتا جنہیں پاکستان آتے آتے پیاس کی شدت کی وجہ سے پیشاب پلایا گیا۔ جو بات نصف صدی میں بارہا کہی گئی ۔جس کے لیے قربانیاں دی گئی۔ پوری وضاحت اور سیاق و سباق کے ساتھ کہی گئی۔ اس بات کو نظر انداز کر کے پہلے ہی مجلس میں نئے سرے سے قانون سازی، آئینی تجاویز کی مشاورت شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے اور آج تک ہمارے قوانین اور تجاویز تجربے سے گزر رہے ہیں جن کے نتائج نہ کبھی ٹھیک ہو سکتے تھے اور نہ ہی ٹھیک ہوں گی۔ ہم نے اس آئین کے سات کیا کچھ نہیں کیا۔ آج ہماری آئین تاریخی اعتبار سے بددیانتی ، بدعنوانی کی ایسی سیاہ عبارت اور شرمناک حوالے سے پر ہے ۔جسے پڑھتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے ۔ جسے لکھتے ہوئے ہاتھ تھرتھراتے ہیں۔آئین کا پہلا اور بنیادی شق کہ” ملک میں کوئی بھی قانون قران و سنت کی منافی نہیں بنایا جائے گا “جو صرف الفاظ تک محدود ہے۔جیسی ہی صفحے پلٹتے رہیں گے تو معلوم ہوگا۔ جتنے قوانین بنے ہیں وہ سب قران و سنت سے ہٹ کر بنائے گئے ہیں۔ یہ سب ہماری لفاظی، حروف کی ہیراپیری اور نیتوں کا کوٹ ہے۔ یہی ہماری منافقانہ طرز حیات ہے۔ جسے ہم نے ناشکری کے نتیجے میں اختیار کیا ہیں ۔
یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ ہماری آزادی کے تحریک صرف اور صرف مذہب کی بنیاد پر اٹھی۔ اس کے علاوہ ہمارے قائدین کے پاس کوئی نعرہ نہیں تھا۔ قیام پاکستان سے پہلے ہم سب ایک اسلامی نظام اور ایک اسلامی ضابطہ حیات پر متفق تھے۔ اسی کے نفاذ کے وعدے پر ہمیں ملک ملا۔ پر ہماری نیت بدل گئی ۔جس عہد و قرار سے بھاگے ہوئے ہیں اس کی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔ ہمارے اوپر جتنے بھی کوڑے برس رہے وہ فقط اس عہد کے توڑنے کی وجہ سے ہے۔
یہ باتیں اس عہد کو یاد دلانے کے لیے لکھی گئی ہیں۔ان جذبوں کو ابھارنے کے لیے لکھی گئی جن جذبوں سے وطن عزیز پاکستان ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے سامنے آیا ۔ہم نے پہلے ہی دن یہ کہہ کر عہد توڑا کہ پاکستان میں طرز حکومت اور ضابطہ حیات کیا ہونی چاہیے۔
عہد تو توڑ دیا مگر ندامت سزا کی صورت میں باقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں