
شکیل أحمد ظفر
وہ جب بھی ہجرت پاکستان کی کہانی سنانے بیٹھتے تو ان کی آنکھیں ان درد ناک مظالم کا،نوحہ بیان کرنے لگتیں،جو انہوں نے اس وقت سہے تھے۔
ان سے بچے بڑے شوق سے کہانی سنتے تھے مگر کیا ہوتا کہ وہ خود بھی زارو و قطار روتے اور بچوں، بڑوں کو بھی رُولا دیتے تھے۔
دادا جان قیامِ پاکستان کے وقت اپنی عمر کی بچیسویں بہار دیکھ رہے تھے،
وہ شادی کے بندھن میں بندھ چکے تھے اور ان کے ہاں ایک بیٹے اور بیٹی کی پیدائش ہوچکی تھی۔
ان کے والدِ ماجد مولوی میاں کریم بخش ضلع ریاست پٹیالہ،تحصیل بریٹے منڈی اور گاؤں کھتری والے کے رہائشی تھے۔
میاں کریم بخش،تقسیمِ ہند سے قبل علاقے بھر میں اچھی شہرت کے حامل فرد سمجھے جاتے تھے۔
ان کی خدمت میں دور دراز سے لوگ آکر بیٹھتے اور علم و ادب کے موتیوں سے اپنی جھولیاں بھر جاتے تھے۔
وہ صرف علم ایک سچے متلاشی ہی نہیں تھے بلکہ علم کی خیرات بانٹنے والے ایک عظیم عالم دین بھی تھے۔
وہ نبض شناس حکیم بھی تھے،
یعنی وہ جسمانی بیماریوں کابھی علاج کرتے تھے اور روحانی بیماریوں کے بھی وہ ماہر مُعالِج تھے۔
جاننے والے بتاتے ہیں کہ ان کے ہاتھ پر کئی سکھوں اور ہندوؤں نے اسلام قبول کیا تھا۔
جب پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا،تو شدید افراد تفری کا دور شروع ہوگیا تھا۔
ہندو اور سکھ بلوائی، مسلمانوں پر ایسے ٹوٹ پڑے تھے گویا کہ وہ انہیں کبھی شناسا ہی نہ رہے ہوں۔
ان کے خاندان کے کل نوے افراد تھے،جن میں سے 87 لوگوں نے مادر وطن کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔
بابا جی عبد اللہ کا بیٹا بیٹی بھی اس سانحہ وطن کے نذر ہوگئے تھے۔
جب ان کے خاندان کے اتنے لوگ شہید ہوگئے تو ایک دفعہ وہ چُھپتے چُھپاتے اپنے گاؤں چھتری والے میں پہنچ گئے۔
وہاں کے لوگ انہیں کہنے لگے کہ اب آپ کا رہا ہی کون ہے؟ لہذا آپ ہمارا ہی مذہب قبول کرلیں! ہم آپ کی شادی بھی کریں گے اور رہائش کے لیے گھر بھی دیں گے۔
دادا جان کو یہ ساری باتیں سن کر نہایت تکلیف ہوئی مگر انہیں کچھ کہے بغیر وہاں سے روپوش ہونے کی ترکیبیں سوچنے لگے۔
ان کے ذہن میں ایک خیال آیا، جسے انہوں نے عملی جامہ کچھ اس طرح پہنایا کہ
ایک بھنگی جو کہ اس گاؤں کا ہی رہنے والا تھا،اس سے دادا جان نے کہا کہ مجھے ملیر کوٹ میری خالہ کے پاس پہنچا دیں مگر اس نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا:
”نہیں،میں یہ کام نہیں کرسکتا کیوں کہ آپ کے واپسی نہ آنے کی صورت میں گاؤں والے مجھے قتل کردیں گے۔“
مگر دادا جان کی ان کی کمزوری پکڑ چکے تھے اور وہ یہ تھی کہ وہ چرس پینے کا عادی تھا،دادا جان نے اسے فائدہ اٹھاتے ہوئے طمع دی کہ آپ میں کو چرس پلاؤں گا،آپ مجھے وہاں تک لے چلیں! نشیٔ کو نشہ ہی چاہیے اور کیا؟منشیات کا سامان مل جائے تو اس کی دنیا پُر لطف بن جاتی ہے۔
وہ تیار ہوگیا،دادا جان اس طرح سے ملیر کوٹ جا پہنچے لیکن وہاں کی صورت حال ان کی توقع کے بالکل برعکس نکلی۔
ان کی خالہ اسلام سے سکھ مت اختیار کرچکی تھی اور اس نے انہیں بھی ترغیب دی کہ وہ بھی سکھ ازم قبول کرکے ان کا لباس پہن لیں اور گلے میں تلوار لٹکالیں۔
آپ کی جان بخش دی جائے گی مگر یہ سن کر ان کا چہرہ فق ہوگیا اور انہیں شدید رنج ہوا۔
وہ غصے سے تپتپا اٹھے اور کہنے لگے:
”دیکھیں! اگر ہم نے یہی کرنا تھا تو ہمیں اپنے والد،والدہ،دادا، دادی،چچے چچیاں اور بیٹا بیٹی شہید کروانے اور گھر بار لُٹانے کی کیا ضرورت تھی؟
اللہ گواہ ہے کہ یہ سب کچھ ہم نے اسلام کے لیے کیا ہے اور اسی دین اسلام کی خاطر پاکستان جانے کے مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے۔
میں ہرگز اسلام کی انمول دولت سے خود کو تہی دامن نہیں کرسکتا۔“
یہ کہتے ہی وہاں سے نکل گئے،
کچھ دن بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے وطن عزیز آنے کی راہ ہموار کردی،
مگر وہ آئے کیسے؟ یہ ایک تلخ بلکہ بہت ہی تلخ داستان ہے۔
جسے احاطہ تحریر میں لانا اس کم از کم اس وقت میرے بس کی بات نہیں ہے۔
مضمون کی طوالت کے پیش نظر اختصار سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں سے گزارش کرنا چاہوں گا جو یہ کہنے سے دریغ نہیں کرتے:
”اس بٹوارے سے ہمیں کیا حاصل ہوا ہے؟ اس تقسیم نے ہمیں کیا دیا ہے؟ اس سے تو انگریزوں کا نظام ہی بہتر تھا۔ زمانہ سستا تھا، قانون کی عمل داری تھی۔ہر طرف امن ہی امن تھا۔اس قدر مصیبتیں تو نہیں تھیں…“
دراصل یہ باتیں کرنے والے لوگ پاکستان کی تاریخ سے آشنا نہیں ہیں اور اِنہیں آزادی کی قدر و قیمت کا ادراک ہی نہیں ہے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ “جس نے غلامی کی اذیّت نہیں سہی، وہ آزادی کی اصل قدرو قیمت کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتا،
کیونکہ کہا جاتا ہے کہ چیزیں اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں۔
جس نے غلامی کا طوق اپنی گردن میں نہیں پہنا،اس صحیح معنوں میں آزادی کی نعمت کا احساس ہی نہیں ہوسکتا۔
ذرا چند لمحوں کے لیے خود کو ایک کشمیری یا فلسطینی تصوّر کرکے دیکھیں یا نام نہاد ’’سیکولر بھارت‘‘ کا شہری مان لیں۔
پورے بدن میں جھرجھری سی نہ پیدا ہو جائے تو کہیے گا!!۔
کیا ہم یہ یہ تصوّر بھی کر سکتے ہیں کہ ہمیں یا ہماری اولاد کو اپنی مرضی کے لباس کے انتخاب کی بھی اجازت نہ ہو۔
تو سچ تو یہ ہے کہ آج سے 75 برس قبل ہمارے آباؤ و اجداد نے اپنے بنے بنائے مکانات،بسے بسائے گھر،جائدادیں،کاروبار، پُرکھوں کا وِرثہ یوں ہی بے وجہ نہیں چھوڑ دیا تھا۔
انہوں نے آزادی کی اتنی بھاری قیمت بے سبب ادا نہیں کی تھی بلکہ ان کے پیشِ نظر یہ بات تھی:
“جب سر پر آزاد،خود مختار اور مسلم ریاست کا سایہ ہی نہ تو یہ سب مال و دولت اور اسباب و متاع کوئی وُقعت نہیں رکھتے۔”
کسی بھی وقت ہندو مکار اپنی مادی طاقت کے زور پر ہم سے یہ سب کچھ چھین سکتا ہے اور ہمیں آزادی سے عبادت الٰہی کا فریضہ سر انجام دینے سے بھی محروم کرسکتا ہے۔
1947ء میں ہونے والی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کے دامن میں عبداللہ میاں کے سانحے جیسے کئی سانحات، المیے، دل دوز واقعات، دل خراش داستانیں سموئی ہوئی ہیں، اِک اک داستاں دُہرائیں تو آنکھیں لہو رنگ ہونے، دل پھٹنے لگتا ہے۔
یہ ہماری مظلوم تاریخ کا حصہ ہے:
پنجاب میں فسادات کی شروعات راولپنڈی سے ہوئی، جہاں سے ہندوؤں اور سکھوں نے راہِ فرار اختیار کیا۔ راولپنڈی سے شروع ہونے والے فسادات کی آگ نے قریبی ضلع جہلم کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فسادات سے متاثرہ ہندو اور سکھ جب گڑ گاؤں، امرَتْسر، انبالہ، گورداس پور اور اطراف کے علاقوں میں پہنچے تو فسادات کی آگ نے ان علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
پنجاب میں ہر طرف سربریت کا راج تھا۔ ریل گاڑیوں کے ڈبے انسانی لاشوں سے اٹے ہوئے تھے۔ ریل کی پٹری کے دونوں طرف لاشیں بکھری ہوئی نظر آتی تھیں۔ بلوائی ریل گاڑیوں پر منظم انداز میں حملے کرتے تھے۔
ہجرت کے ان المناک لمحات میں کئی ماؤں نے اپنے دودھ پیتے بچے صرف اس لیے کنوؤں میں پھینکے تھے،کہیں ان کے رونے کی آواز سے دشمن کر ہماری موجودگی کا پتا نہ چل جائے۔
ہزاروں مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ دیا گیا تھا۔
ہماری کئی مسلم بہنوں،بیٹیوں نے اپنی ناموس کے تحفظ کے لیے خود کشی کرلی تھی۔
نہ جانے اس وقت کتنے مسلمان مہاجر وبائی امراض پھیلنے کی وجہ سے جان بحق ہو گئے تھے۔
آج بھی جب اپنے نیک دل والد ماجد عبد العزیز صاحب کی زبانی ان واقعات کو سنتے ہیں تو دل میں ایک ہیجان سا برپا ہو جاتا ہے اور میں اپنے آپ کو آپ کوستا ہوا کہتا ہوں:
میرے جسم میں تو شہدا کا خون دوڑتا ہے مگر میں اس خون سے کتنی وفا کر رہا ہوں اور اپنے وطن عزیز کے بقا و سلامتی کے مقدس مشن کے لیے میں نے اب تک کیا کیا ہے؟ اور مجھے آگے کیا کرنا چاہیے؟
پھر میں بارگاہ لم یزل کے حضور دعا گو ہوجاتا ہوں کہ
یا اللہ! مجھے وطن کی مٹی کا وفادار بنائے رکھنا اور مجھے اپنے اسلاف کی قربانیوں کی لاج رکھنے والا مخلص و محب پاکستانی بناکر،ثابت قدم رکھنا۔