0

عین جالوت کا وہ دن جب تاریخ نے تقدیر امت کا فیصلہ سنایا / تحریر / عبدالجارسلہری

عین جالوت کا وہ دن جب تاریخ نے تقدیر امت کا فیصلہ سنایا / تحریر / عبدالجارسلہری

عین جالوت کا وہ دن جب تاریخ نے تقدیر امت کا فیصلہ سنایا۔
تحریر عبدالجبارسلہری
تاریخ کے افق پر بعض دن ایسے بھی آتے ہیں جو فقط تقویمی تاریخ نہیں بلکہ تقدیرِ اُمم کے تعین کا نشان ہوتے ہیں۔ 3 ستمبر 1260ء کا دن بھی انہی میں شامل ہے، جب وادیٔ عین جالوت کے سبزہ زار، نخلستان میں تلواریں بجلی کی مانند ٹکرائیں، نیزے بجھتے ہوئے ستاروں کی طرح ٹوٹے، اور ایک ایسے فیصلے پر مہر ثبت ہوئی جس نے اسلامی تہذیب کو فنا ہونے سے بچا لیا۔ یہ وہ لمحہ وہ گھڑی تھی جب تاتاری طوفان بغداد کی گلیوں کو خون سے لت پت کر چکا تھا، مسلمانوں کی مزاحمت و مداخلت کے سامنے رُک گیا۔ گویا وقت نے یوں کہا: ”بس، اس سے آگے اب ہرگز نہیں۔“

تاتاری یا منگول افواج تیرہویں صدی کے وسط تک ایشیا کے بیشتر حصے روند چکی تھی۔ چنگیز خان کے جانشین ہلاکو خان نے 1258ء میں بغداد فتح کر کے عباسی خلافت کا تختہ الٹ دیا۔ کتب خانوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا کہ دریائے دجلہ میں علم کی سیاہی کی لہریں تیرنے لگیں، اور لاکھوں جانیں خاک و خون میں غرق ہو گئیں۔ اسلامی دنیا خوف اور پستی کا شکار ہو گئی۔ شام، مصر اور حجاز کے دروازے کھلے ہوئے دکھائی دینے لگے۔

مصر اس وقت غلاموں کے زیرِ نگیں تھا۔ سلطان سیف الدین قطز ایک جانب داخلی سازشوں سے نبردآزما تھا اور دوسری طرف اسے تاتاری آندھی کا سامنا، یہی وہ موقع تھا جب تاریخ نے مملوک قیادت کو آزمایا، اور انہوں نے رب العالمین کے حضور سرخرو ہو کر دکھایا۔

ہلاکو خان نے شام کو پامال کرنے کے بعد مصر کو خط لکھ کر سرِ تسلیم خم کرنے کا حکم نامہ بھیجا۔ قطز نے یہ پیغام پڑھا، مگر اطاعت کی بجائے علمِ بغاوت بلند کیا۔ قاہرہ میں جمع ہونے والی انجمن میں قطز نے وہ تاریخی جملے کہے جو آج بھی ہمارے عزم و استقلال کی علامت ہیں:
”اے مسلمانو! آج اسلام تمہیں پکار رہا ہے۔ اگر تم نے دشمن کے مقابلے میں جان نہ دی تو یہ دین تمہارے سوا اور کون بچائے گا؟“

قطز نے نہ صرف فوجی تیاری کی بلکہ علماء اور عوام کو بھی ایک ساتھ کھڑا کر دیا۔ علامہ ابن عبدالسلام جیسے علما نے جہاد کو فرض قرار دیا، حتیٰ کہ اپنی تمام جائیداد بیچ کر فوج کے لیے اسلحہ فراہم کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنگ سیاسی اقتدار کی نہیں بلکہ تہذیبی و تمدنی بقا کی جنگ تھی۔

عین جالوت موجودہ فلسطین کے علاقے میں ایک سرسبز وادی ہے، جس کے اطراف پہاڑیاں ہیں۔ یہ جگہ فوجی اعتبار سے نہایت موزوں و اہم تھی، کیونکہ گھات لگانے کے لیے وادی کے اطراف کا جغرافیہ سازگار تھا۔ قطز نے اپنے سپہ سالار بیبرس کو اگلی صفوں میں تعینات کیا، اور خود قلبِ لشکر میں موجود رہا۔

طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی طبل جنگ بج اٹھا۔ منگول لشکر، جسے کتب خانوں کی راکھ اور شہروں کی بربادی پر ناز تھا، پوری قوت کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ ابتدا میں بیبرس نے پسپائی اختیار کر کے دشمن کو یقین دلایا کہ مسلمان دب کر پسپائی اختیار کر گئے ہیں۔ تاتاری فوج تعاقب میں آگے بڑھی تو گھات لگائے ہوئے غلام دستے ٹوٹ پڑے۔

یہی وہ لمحہ تھا جب قطز نے اپنا نقاب اتار کر بلند آواز میں للکارا:
”وا اسلاماہ! اے اسلام کے جانبازو! اے غیرت مند مسلمانو! تم اسلام کے ہیرو ہو۔“

یہ صدا گویا بجلی بن کر سپاہ کے دلوں میں اتری۔ مسلمان فوج نے یکجان ہو کر حملہ کیا اور تاتاری صفوں میں کھلبلی مچا دی۔ ان کے کمانڈر کتبغا کو ہلاک کر دیا۔ غروبِ آفتاب تک وادیٔ عین جالوت میں وہ منظر رقم ہو چکا تھا جسے تاریخ نے مسلمانوں کی عظیم فتح کے طور پر محفوظ کر لیا۔

عین جالوت وہ پہلا معرکہ تھا جس میں منگول ناقابلِ شکست ثابت ہونے کا تاثر کھو بیٹھے۔ یہ وہ دیوار بنی جس نے اسلامی دنیا کو مکمل تباہی سے بچا لیا۔ اگر مملوک اس دن ہار جاتے تو قاہرہ، مکہ اور مدینہ بھی بغداد کی طرح کھنڈر بنا دیئے جاتے۔ اس فتح نے اسلامی علمی و تمدنی ورثے کو محفوظ کر لیا۔

عین جالوت کے بعد مصر اور شام میں مملوکوں کا اقتدار مضبوط ہو گیا۔ بیبرس بعد میں تخت نشین ہوا اور صلیبیوں و تاتاریوں دونوں کے خلاف فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ مغرب میں جب یہ خبر پہنچی کہ مشرقی اسلامی دنیا فنا نہیں ہوئی بلکہ ازسرنو ابھری ہے، یورپی مؤرخین نے اسے تاریخ کے بڑے موڑ میں شمار کیا۔

3 ستمبر کا سورج جب وادیٔ عین جالوت پر غروب ہوا تو یہ غروب نہیں بلکہ ایک نئی صبح کی بشارت تھی۔ یہ معرکہ صرف شمشیر و سناں کا نہیں بلکہ ایمان و عزم اور استقلال کا معرکہ تھا۔ قطز اور بیبرس کی قیادت میں مسلمان اس مقام پر کھڑے ہوئے جہاں تاریخ نے ان کی جرات و ہمت کو امر کر دیا۔

اگر بغداد کی بربادی اسلامی تہذیب کا سب سے اندوہناک منظر تھا تو عین جالوت کی فتح اس تہذیب کا سب سے روشن مینار ہے۔ جب ایک قوم اپنے ایمان، اتحاد اور قیادت پر اعتماد کرے تو کوئی طوفان، خواہ وہ تاتاری ہو یا سامراجی، اسے کوئی نیست و نابود نہیں کر سکتا۔

3 ستمبر 1260ء کا دن فقط ماضی کی ایک یاد نہیں، بلکہ حال اور مستقبل کے لیے چراغِ راہ ہے۔ عین جالوت میں جب قطز نے نقاب اتار کر ”وا اسلاماہ“ کی صدا لگائی، تو یہ صرف ایک نعرہ نہیں تھا، یہ تہذیب کی بقا کی پکار تھی۔ وہی پکار آج بھی تاریخ کے اوراق سے ابھر کر ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے۔

آج اُمتِ مسلمہ کے سامنے تاتاریوں کی صورت نہیں، مگر چہرے بدلے ہوئے ہیں۔ کہیں معاشی استحصال ہے، کہیں فکری یلغار، کہیں اسلحے کی دوڑ، اور کہیں ایٹمی تباہی کا سایہ۔ فلسطین کی مٹی پر بہتا خون، شام کے اجڑے شہر، کشمیر کی سسکیاں اور امت کی منتشر صفیں گویا پکار پکار کر کہہ رہی ہیں: ”کیا کوئی قطز باقی ہے؟ کیا کوئی بیبرس اٹھے گا؟“

یاد رکھو! تاریخ کے دھارے کو وہی قوم موڑتی ہے جو خوف کو شکست دے کر ایمان کو اپنی ڈھال بناتی ہے۔ اگر تیرہویں صدی میں بکھری ہوئی امت کو ایک مردِ مومن کی قیادت نے تباہی سے بچا لیا، تو آج کی امت بھی نئے قطز اور نئے بیبرس کی متلاشی ہے۔

یقیناً تہذیبیں تبھی باقی رہتی ہیں جب وہ اپنی روحانی اساس، فکری وحدت اور اجتماعی عزم پر قائم رہیں۔ اگر یہ ستون گر جائیں تو سب کچھ ملبے کا ڈھیر بن جاتا ہے، جیسا بغداد میں ہوا۔ لیکن اگر یہ ستون قائم رہیں تو طوفان بھی رُک جاتے ہیں، جیسا عین جالوت میں ہوا۔

یہی وہ پیغام ہے جو اس وادی سے صدیوں بعد بھی سنائی دیتا ہے:
”اے مسلمانو! وقت تمہیں پھر پکار رہا ہے۔ اگر تم نے اپنے زخموں کو مرہم نہ بنایا، اپنے بکھرے ہوئے پرچم کو جمع نہ کیا، تو تاریخ تمہیں بھی اسی طرح مٹا دے گی جیسے وہ اقوام جو اپنے عزم کو بھول گئیں۔“

3 ستمبر، ایک آئینہ ہے۔ اس میں ہم اپنی موجودہ پستی کو بھی دیکھ سکتے ہیں اور اپنی ممکنہ بلندی کو بھی۔ مگر سوال فقط یہ ہے کہ کیا ہم اس آئینے میں اپنا چہرہ پہچاننے کے لیے تیار ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں