60

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ انسانیت کے لیے مشعلِ راہ/تحریر/سمیہ اسد جہلم کینٹ

نبی آخرالزماں ، ختمُ الرسُلِ وخاتم الانبیإ ، خوشبوۓ ارض وسمإ ، محبوب کبریاوجہٕ تخلیقِ کاٸنات ،ہم سب کے دلوں کی دھڑکن ہماری جان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمکی سیرتِ طیبہ کا ہر پہلو اپنے اندر خیر کا اک جہاں سموۓ ہوۓ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول و فعل جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرزد ہوا
وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کہلاتا ہے
قرآن مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں ” لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنہ “ البتہ تحقیق تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ا چھا نمونہ ہے ۔ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر ادا کو محفوظ رکھا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب اشیإ کے ناموں تک کو ان کی تفصیلات کے ساتھ محفوظ رکھا ۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعجاز ہے اور محب کی محبوب سے وفا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ورفعنا لک ذکرک ”ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کیا“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے سب سے بڑے گواہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے ہر پل ہر لمحہ آپ کی صحبت میں گزارا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ان سے بڑا گواہ کون ہو سکتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب مبارک کو زمین پہ۔نہ گرنے دیتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ ٕ مبارک کو شیشیوں میں محفوظ کر کے بطورِ مشک و عنبر اس کا استعمال فرماتے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کا سب سے بڑا ذریعہ صحابہٕ کرام ہیں آج ہم آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے چند روشن گوشوں کا ذکرکریں گے جو صحابہ کرام کے بیان کردہ ہیں ۔حلیہ مبارک: آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ سرخی ماٸل سفید تھا ، بال مبارک سیاہ ہلکےگھنگھریالے، ریشم کی طرح ملاٸم ، انتہاٸ خوبصورت جو کبھی شانہٕ مبارک تک دراز ہوتے تو کبھی گردن تک اور کبھی کانوں کی لو تک رہتےتھے۔ رُخِ انور ماہ کامل کی مانند چمکتا ہوا، سینہ ٕ مبارک چکلا کشادہ ، جسمِ اطہر نہ دبلا نہ موٹا انتہاٸ سڈول جس پہ کوٸ داغ دھبا نہیں تھا،دونوں شانوں کے بیچ پشت پر مہرِ نبوت کبوتر کے انڈے کے برابرسُرخی ماٸل ابھری کہ دیکھنے میں بھلی معلوم ہوتی، پیشانی مبارک کشادہ بلند چمکدار،ابروۓ مبارک کمان دار غیر پیوستہ ، دہن شریف کشادہ،ہونٹ مبارک یاقوتی مسکراتے تو دندان مبارک موتی کی مانند چمکتے، دانتوں کے درمیان ہلکی ہلکی درازیں تھیں بولتے تھےتو نور نکلتا تھا،سینہ مبارک پر بالوں کی ہلکی لکیر ناف تک تھی باقی جسمِ اطہر بالوں سے پاک تھا صحابہ کا اتفاق ہے کہ آپ جیسا خوب صورت نہیں دیکھا گیا۔ حضرتِ حسان بن ثابت ؓ شاعرِ رسول فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین مرد میری آنکھوں نے نہیں دیکھا اور آپ سے زیادہ خوب صورت مرد کسی عورت نے نہیں جنا آپ ہر قسم کے ظاہری وباطنی عیب سے پاک پیدا ہوۓ گویاآپ اپنی حسبِ مرضی پیدا ہوۓ ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلیٰ تریں اخلاق کے مالک تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چیخ کر بات کرتے نہ شور مچاتے نہ چلا کر بولتے بلکہ انتہاٸ نرم لہجے میں تحمل کے ساتھ ہر لفظ واضح بولتے کہ سننے والا باآسانی آپ کی بات کو سمجھ جاتا ، چال مبارک ایسی تھی گویا بلند جگہ سے اتر رہے ہوں قدم مبارک کو پوری طرح رکھ کر چلتے تھے کہ نعلین مبارک کی آواز نہیں آتی تھی ۔ہاتھ اور قدم مبارک ریشم کی طرح انتہاٸ نرم گدازاور قدم پُر گوشت ذاتی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی غصہ نہیں فرمایا دورِ جاہلیت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق اور امین کے لقب سے مشہور تھے ۔ جب بھی کوٸ فیصلہ کرنا ہولوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راۓ لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتداری کے باعث لوگ اپنی امانتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھواتے ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اوصافِ حمیدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع فرما دیٸے تھے ۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے اعلیٰ اخلاق کی تعریف کی ہے فرمایا ” وانک لعلیٰ خلق عظیم “ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے بلند مرتبے پر فاٸز ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو دیکھ کر کافر اسلام قبول کر لیتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے لیے بھی بہترین تھے انتہاٸ نرم خو نرم مزاج ان سے ہنسی مذاق کرتے ان کی دلجوٸ فرماتے اپنے گھر کے اکثر کام خود کر لیتے کپڑوں پہ پیوند لگاتے ، جوتے مبارک خود گانٹھ لیتے ۔ صبر واستقامت کے کوہِ گراں تھے۔دشنانِ اسلام نے آپ صلی اللہ علیہ آپ کو تکلیف پہچانے میں کوٸ کسر نہ چھوڑی کبھی آپ کو ساحر ومجنون کہا جاتا تو کبھی راستے میں کانٹے بچھا دیے جاتے، کبھی جسمِ اطہر پر غلاظت ڈال دی جاتی، اقتصادی ناکہ بندی اور سماجی مقاطعہ بھی کیا گیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آٸ۔
شجاعت وبہادری میں اپنی مثال آپ تھے جنگ کے موقع پر ہمیشہ آگے رہتے اور دشمن کے سب سے زیادہ قریب ہوتے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جب جنگ کے شعلے خوب بھڑک اٹھتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ لیا کرتے تھے۔نہایت کٹھن اور مشکل مواقع پر جب کہ بڑے بڑوں کے پاٶں اکھڑ گۓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر قاٸم رہے اور آگے ہی بڑھتے گۓ ۔
سخاوت میں اپنی مثال آپ تھے کبھی کسی سوالی کو خالی ہاتھ نہ جانے دیتے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کا مطالبہ کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی انکار نہ فرماتے ایک شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی بکریاں دیں کہ جس سے دو پہاڑوں کے درمیان والی زمین بھر گٸ اس نےاپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ مسلمان ہو جاٶ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ پھر محتاجی کا ڈر نہیں رہتا ۔
شفقت کا یہ عالم تھا کہ بچوں سے آتے جاتے سلام فرماتے ۔ ایک بچے کی چڑیا مر گٸ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گۓ اور اس سے تعزیت کی۔ ایک مرتبہ حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرتِ حسن کو پیار کر رہے ہیں تو فرمایا میرے دس بچے ہیں لیکن میں نے کبھی ان کو پیار نہیں کیا فرمایا جو رحم نہ کرے گا )بچوں عاجزوں یتیم اور ضعیفوں پر)اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے حقوق بھی بیان فرماۓ چنانچہ ایک مرتبہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اونٹ آ کر رونے لگا اور اپنے مالک کی شکایت کرنے لگا آپ نے اس کے مالک کوبلا کر فرمایا تم سے اس کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہو گا تم اس کا خیال رکھو ۔ اس سے زیادہ مشقت والا کام نہ لو۔
غلاموں کے حقوق سے امت کو آگاہ فرمایا غرض زندگی کا کوٸ گوشہ ایسا نہیں جس کا پہلو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ بتایا ہو ۔ قربان جاٸیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے وحشیوں کو بھی جینے کا ڈھنگ سکھا دیا
ہوں لاکھوں سلام اس آقا پر بُت لاکھوں جس نے توڑ دیے
دنیاکو دیا پیغامِ سکوں طوفانوں کے رُخ موڑ دیے
اُس ہادٸ عالم نے کیا کیا نہ دیا انسانوں کو
دستور دیا ، منشور دیا کٸ راہیں دیں کٸ موڑ دیے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے اور نجات کا ذریعہ جس پر چل کر ہم دونوں جہاں کی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اللہ پاک ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہٕ حسنہ پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ اور اس تحریر کو ناچیز کے لیے ذریعہ راحت ونجات بنا دے ۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں