مسئلہ فلسطین اور عالمی ضمیر کی آزمائش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی
دنیا کے نقشے پر سب سے زیادہ سلگتا ہوا مسئلہ آج بھی فلسطین ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں تاریخ، مذہب، سیاست اور طاقت سب ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ ایک طرف لاکھوں مظلوم فلسطینی ہیں جو اپنے گھروں، زمینوں اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، دوسری طرف عالمی طاقتیں ہیں جو انصاف اور انسانی اقدار کے دعوؤں کے باوجود خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اسرائیل کے قیام کو عرب دنیا کے قلب میں گھونپا گیا خنجر قرار دیا تھا اور پاکستان آج بھی اسی اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ محض سفارتی یا سیاسی موقف نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کیونکہ اسرائیل کی بنیاد ہی ظلم، جبر اور طاقت کے ناجائز استعمال پر رکھی گئی ہے۔
فلسطینی عوام کی جدوجہد آزادی کوئی نئی نہیں بلکہ ایک صدی پر محیط تاریخ رکھتی ہے۔ برطانوی استعمار کے دور سے لے کر اقوام متحدہ کے قیام تک فلسطینی اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے لڑتے رہے۔ 1948ء میں اسرائیل کے قیام نے لاکھوں فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کر دیا۔ یہ المیہ صرف زمین کے چھن جانے کا نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی اجتماعی شناخت اور ثقافت کو مسخ کرنے کی کوشش تھی۔ آج بھی لاکھوں فلسطینی مہاجرین دنیا بھر کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے لیے تعلیم، صحت اور روزگار کے دروازے بند ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے عالمی برادری جانتی ہے لیکن پھر بھی خاموش ہے۔
مسئلہ فلسطین کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھانے میں سب سے بڑا کردار امریکہ کا ہے۔ امریکہ عالمی سیاست میں انصاف اور برابری کا دعویدار ہے لیکن جب بات فلسطین کی آتی ہے تو وہ ایک کھلے عام وکیل اور محافظ کی طرح اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کی ہر قرارداد، ہر مظاہرے اور ہر جدوجہد کو طاقت کے زور پر کچلنے کے باوجود اسرائیل بے خوف ہے کیونکہ اسے امریکہ کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ ایک ناجائز ریاست کو طاقتوروں کی حمایت حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالمی انصاف کے ادارے بھی بے بس نظر آتے ہیں۔
اکثر عالمی رہنما دو ریاستی حل کی بات کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک خواب ہے جسے عملی جامہ پہنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود اسرائیل ہے۔ اسرائیل نے آج تک نہ تو فلسطین کے وجود کو دل سے تسلیم کیا اور نہ ہی بیت المقدس کے حقِ ملکیت کو مانا۔ دوسری جانب فلسطینی عوام بھی کسی قیمت پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ایسی صورت میں دو ریاستی حل محض کاغذی باتیں ہیں۔ اصل حل یہی ہے کہ فلسطینی عوام اپنی آزادی اور خود مختاری کے ساتھ اپنی ریاست قائم کریں اور بیت المقدس اس کا دارالحکومت ہو۔
حالیہ برسوں میں عالمی عدالت انصاف نے واضح طور پر اسرائیلی قیادت کو جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ لاکھوں فلسطینیوں کے قتل عام، عورتوں کی بے حرمتی اور بچوں کے قتل جیسے سنگین جرائم اسرائیلی فوج اور قیادت کے سر پر ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے بجائے عالمی کانفرنسوں میں بلایا کیوں جاتا ہے؟ کیا یہ انصاف کی توہین نہیں؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ مجرم کی حمایت کرنے والا بھی شریکِ جرم ہوتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی کھلے عام اسرائیل کی پشت پناہی کر کے دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ طاقتور کے لیے قانون اور انصاف کی کوئی قید نہیں۔
اگر مسئلہ فلسطین کا کوئی پائیدار حل نکل سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف امت مسلمہ کے اتحاد سے ممکن ہے۔ آج فلسطینی عوام اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن انہیں صرف بیانات اور قراردادوں سے نہیں بلکہ عملی تعاون کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے مسلم دنیا ابھی تک کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق نہیں ہو سکی۔ تاریخ ہمیں بوسنیا کے مسلمانوں کی قربانی یاد دلاتی ہے۔ لاکھوں افراد شہید ہوئے، ہزاروں عورتوں کی عصمت دری کی گئی لیکن عالمی ضمیر خاموش رہا۔ اگر آج مسلم دنیا نے فلسطین کے معاملے پر اتحاد نہ دکھایا تو ممکن ہے تاریخ پھر وہی المیہ دہرائے۔
پاکستان کا کردار ہمیشہ فلسطین کے حق میں رہا ہے۔ پاکستانی عوام کے دل فلسطینی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاکستان نے کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور فلسطینی عوام کی بھرپور اخلاقی و سیاسی حمایت کی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت نے اس مسئلے کو ہمیشہ وقتی اور جذباتی نعروں تک محدود رکھا۔ مذہبی و عوامی تحریکیں ضرور اس میدان میں فعال رہیں لیکن ریاستی سطح پر وہ سنجیدگی نظر نہیں آئی جس کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ فلسطین کے مسئلے کو اپنی خارجہ پالیسی کا مستقل حصہ بنائے اور عالمی فورمز پر عملی کردار ادا کرے۔
مسئلہ فلسطین صرف ایک خطے یا قوم کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔ کیا دنیا انصاف، مساوات اور انسانی حقوق کے اصولوں پر کھڑی ہوگی یا پھر طاقت کے سامنے سر جھکا دے گی؟ یہ وہ سوال ہے جو تاریخ آج عالمی ضمیر سے پوچھ رہی ہے۔ اگر دنیا نے مظلوم فلسطینی عوام کا ساتھ نہ دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
#siddiqmadan