0

حضور اکرم ﷺ کا خوبصورت مزاح/تحریر/ام عمر/کراچی

حضور اکرم ﷺ کا خوبصورت مزاح/تحریر/ام عمر/کراچی

حضور اکرم ﷺ کا خوبصورت مزاح/تحریر/ام عمر/کراچی
حضور اکرم ﷺ کا خوبصورت مزاح/تحریر/ام عمر/کراچی

نبی اکرم ﷺ کا مزاح کا انداز نہایت خوبصورت اور خاص تھا۔ آپ ﷺ اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ مزاح کرتے تھے، لیکن اس میں ہمیشہ سچائی اور سلیقہ ہوتا تھا۔ آپ ﷺ کا مزاح نہ صرف دوسروں کو خوش کرتا تھا، بلکہ اس میں اکثر کوئی حکمت یا اخلاقی سبق بھی پوشیدہ ہوتا تھا۔

اہل خانہ سے مزاح:

رسول اللہ ﷺ کا اپنے اہل خانہ خاص طور پر اپنی ازواجِ مطہرات، کے ساتھ خوشگوار تعلق تھا۔ اس رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آپ ﷺ اکثر ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے تھے۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک بار نبی کریم ﷺ ان کے گھر آئے اور ان کی گڑیاں دیکھ کر مسکرائے۔ جب آپ ﷺ نے ایک ایسے گھوڑے کو دیکھا جس کے دو پر لگے ہوئے تھے، تو پوچھا، “گھوڑے کے بھی پر ہوتے ہیں؟” حضرت عائشہ نے جواب دیا، “کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان کے گھوڑوں کے پر تھے؟” اس پر رسول اللہ ﷺ اتنا ہنسے کہ آپ ﷺ کی داڑھیں دکھائی دیں۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کے اپنے اہل خانہ کے ساتھ محبت اور بے تکلفی کو ظاہر کرتا ہے۔

حضرت عائشہ کے ساتھ آپ ﷺ کی دوڑ کا مقابلہ بھی محبت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ ایک بار آپ ﷺ ہار گئے اور دوسری بار جیت گئے۔ یہ چھوٹی چھوٹی سرگرمیاں آپ ﷺ کے رشتے کو اور بھی زیادہ پیارا اور زندہ دل بناتی تھیں۔ آپ ﷺ کبھی کبھار حضرت عائشہ کو محبت سے “یا عائش!” کہہ کر بھی پکارتے تھے، جو ان کے درمیان ایک دوستانہ اور گہرا رشتہ دکھاتا ہے۔

امہات المؤمنین بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مزاح کرتی تھیں، لیکن ان کا مزاح کبھی کسی کی توہین یا دل آزاری کے لیے نہیں ہوتا تھا۔ ایک بار، ام المؤمنین حضرت سودہ رضی ﷲ عنہ کو ڈرانے کے لیے حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے مزاحاً کہا کہ دجال آ گیا ہے۔ یہ سن کر حضرت سودہ خوف زدہ ہو کر ایک خیمے میں چھپ گئیں۔ جب رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے خیمے کے باہر سے آواز دے کر انہیں باہر بلایا اور تسلی دی۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ گھر کا ماحول کتنا بے تکلف اور خوشگوار تھا۔

صحابہ کرام سے مزاح:

نبی اکرم ﷺ کا صحابہ کرام کے ساتھ بھی ایسا ہی محبت بھرا اور بے تکلف رشتہ تھا۔ آپ ﷺ ان کے ساتھ بھی ہنسی مذاق کرتے اور ان کی خوشیوں میں شریک ہوتے تھے۔

ایک دفعہ سحری کے وقت کے بارے میں یہ ہدایت دی گئی کہ “جب تک کالا دھاگا سفید دھاگے سے الگ نہ ہو جائے۔” ایک صحابی، حضرت عدی بن حاتم، نے اسے کپڑے سینے والا دھاگا سمجھ لیا۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے آپ ﷺ کو اپنی غلطی بتائی۔ اس پر آپ ﷺ نے مزاحاً فرمایا، “پھر تو تمہارا تکیہ بہت بڑا ہو گا کہ رات اور دن دونوں اس میں سما گئے۔”

ایک اور دل چسپ واقعہ میں، نبی اکرم ﷺ ایک دیہاتی صحابی، حضرت زاہرؓ، کو بازار میں دیکھ کر پیچھے سے جا کر گود میں اٹھا لیتے ہیں اور مزاحاً کہتے ہیں، “اس غلام کو کون خریدے گا؟” حضرت زاہرؓ کہتے ہیں، “مجھے چھوڑ دیجیے، مجھے کون خریدے گا؟” جب انہیں پتا چلا کہ یہ نبی اکرم ﷺ ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے۔ اس مزاح کے ذریعے آپ ﷺ نے حضرت زاہرؓ کی دلجوئی بھی کی اور محبت کا اظہار بھی کیا۔

ایک بار، مجلس میں کھجوریں کھائی گئیں۔ آپ ﷺ نے مذاق میں اپنی اور باقی سب کی گھٹلیاں اٹھا کر حضرت علیؓ کے سامنے رکھ دیں۔ پھر کہا، “علی! تم نے تو بہت کھجوریں کھائی ہیں۔” حضرت علیؓ نے ہنستے ہوئے جواب دیا، “میں نے تو صرف کھجوریں کھائی ہیں، گھٹلیاں نہیں۔”

ایک صحابی نے آپ ﷺ سے سواری کے لیے اونٹ مانگا۔ آپ ﷺ نے مزاحاً کہا، “میں تم کو اونٹنی کا بچہ دوں گا۔” صحابی حیران ہوئے اور کہا، “یا رسول اللہ! میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟” آپ ﷺ نے مسکرا کر فرمایا، “ہر اونٹ کسی نہ کسی اونٹنی کا بچہ ہی تو ہوتا ہے۔”

مزاح کے اصول:

نبی اکرم ﷺ کا مزاح ہمیشہ سچائی اور صداقت پر مبنی ہوتا تھا۔ صحابہ کرامؓ نے جب آپ ﷺ سے پوچھا کہ “یا رسول اللہ! آپ بھی مذاق کرتے ہیں؟” تو آپ ﷺ نے فرمایا، “بے شک! میرا مزاح ہمیشہ سچ ہوتا ہے۔”

آپ ﷺ نے مزاح میں جھوٹ بولنے اور کسی کو پریشان کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے یہاں تک کہا کہ وہ شخص کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جو مزاح میں بھی جھوٹ بولے۔ اس کے برعکس، آپ ﷺ نے سچ بولنے والے کو جنت کے درمیان ایک گھر کی خوشخبری دی۔

آپ ﷺ کے مزاح سے ہمیں یہ اہم سبق ملتا ہے کہ مزاح ایسا ہو جو کسی کو تکلیف نہ دے، بلکہ محبت اور خوشی میں اضافہ کرے۔ آپ ﷺ کا مزاح ہمیشہ گہرا، باوقار اور باحکمت ہوتا تھا۔ اس میں نہ تو کسی کی توہین ہوتی تھی اور نہ ہی کسی کے ساتھ کوئی مذاق ہوتا تھا۔ یہ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتا تھا اور خوشی کے ساتھ ساتھ نیک عمل کی ترغیب بھی دیتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں