
دینی حمیت/تحریر /عثمان فاروق
دینِ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انسان کو نہ صرف روحانی سکون عطا کرتا ہے بلکہ معاشرتی، اخلاقی اور تہذیبی اقدار کی حفاظت کا درس بھی دیتا ہے۔ اسی دین کی حرمت، سربلندی اور بقا کے لیے جو جذبہ دل میں جاگے، اسے دینی حمیت کہا جاتا ہے۔ یہ وہ غیرتِ ایمانی ہے جو مسلمان کو حق و باطل کے درمیان تمیز سکھاتی ہے، ظلم کے خلاف کھڑا کرتی ہے اور دین کے وقار پر آنچ آنے سے پہلے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ بخشتی ہے۔
دینی حمیت کوئی وقتی جذبات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل بیداری، عقیدے سے سچی محبت اور فکری شعور کی علامت ہے۔ جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مرتدین کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا، تو یہ دینی حمیت ہی تھی جو ان کے دل میں موجزن تھی۔ جب امام حسینؓ نے میدانِ کربلا میں یزیدی نظام کے آگے جھکنے سے انکار کیا، تو انکار کی وہ قوت اسی حمیتِ ایمانی کی بدولت تھی۔
آج کے دور میں جب دین کے اصولوں پر طرح طرح کے حملے ہو رہے ہیں، اور جب دین کو ذاتی فائدے یا مفاد پر قربان کرنے کے رجحانات عام ہو رہے ہیں، تو دینی حمیت کی اشد ضرورت ہے۔ ایک سچا مسلمان اپنے دین کی حرمت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتا۔ وہ دین کو زمانے کے مطابق نہیں ڈھالتا بلکہ زمانے کو دین کی روشنی میں سنوارنے کی کوشش کرتا ہے۔
دینی حمیت کا مطلب تنگ نظری یا شدت پسندی ہرگز نہیں، بلکہ یہ حمیت محبت، فہم، استقامت اور اخلاص کا حسین امتزاج ہے۔ یہ حمیت علم کے زیور سے آراستہ ہو، کردار کی صداقت سے مزین ہو اور حکمت و دانائی سے معمور ہو، تب ہی معاشرہ خیر و فلاح کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں میں بچپن سے ہی دینی غیرت، شعورِ ایمانی اور اسلام سے وفاداری کے جذبات پیدا کریں۔ مساجد، مدارس، گھر اور معاشرہ سب اس بات کے ذمے دار ہیں کہ دین کے تقدس اور اس کی حدود کی حفاظت کو اپنا اولین فرض جانیں۔
دینی حمیت وہ روشن چراغ ہے جو اندھیرے میں بھی راہ دکھاتا ہے، وہ مضبوط قلعہ ہے جو فتنوں کی یلغار میں بھی محافظ بنتا ہے۔ آج اگر ہمیں ایک باوقار، بااخلاق اور متحد امت درکار ہے تو ہمیں دینی حمیت کو زندہ رکھنا ہوگا۔
دینی حمیت درحقیقت وہ قلبی حرارت ہے جو ایمان کے ساتھ پیدا ہوتی ہے اور جس کی بدولت ایک مومن دینِ اسلام کے وقار، اس کی تعلیمات اور شعائر کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو خود غرضی، بے حسی اور مصلحت پسندی سے نکال کر ایثار، قربانی اور غیرتِ ایمانی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
دینی تاریخ کا ہر روشن باب اسی حمیت کی شہادت دیتا ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ کا دورِ خلافت عدل و انصاف کا بے مثال نمونہ تھا، لیکن ان کی دینی حمیت کا یہ عالم تھا کہ ایک یہودی عالم نے جب قرآن کے مقابلے میں تورات کے کسی حکم کو ترجیح دینے کی کوشش کی، تو حضرت عمرؓ کا چہرہ غیظ و غضب سے سرخ ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا: “کیا ہمارے لیے قرآن کافی نہیں کہ ہم اس کے بعد بھی دوسری کتابوں سے رہنمائی چاہتے پھریں؟”
یہی حمیت ہمیں صحابۂ کرام، تابعین، ائمۂ مجتہدین اور اولیاءِ کرام کی سیرت میں جا بجا دکھائی دیتی ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ نے “خلقِ قرآن” کے مسئلے میں زمانے کے طاقتور حکمرانوں کے دباؤ کو قبول نہ کیا اور کوڑوں کی بارش سہہ کر بھی حق کا علم بلند رکھا۔
دینی حمیت کا مظاہرہ صرف میدانِ جنگ یا نظریاتی اختلافات میں نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی میں بھی نمودار ہوتا ہے۔ جب ایک نوجوان فحاشی اور بے راہ روی کے عام ماحول میں بھی اپنی نظریں جھکا کر رکھتا ہے، جب ایک ماں اپنے بچوں کو اسلامی اقدار کی روشنی میں پرورش دیتی ہے، جب ایک تاجر حلال و حرام کی تمیز کو مقدم جان کر سچ بولتا ہے، تو یہ سب دینی حمیت کے مظاہر ہی تو ہیں۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو صرف عبادات تک محدود کر دیا ہے، جب کہ دین ایک ہمہ جہت نظام ہے۔ دینی حمیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسلام کو غالب رکھیں۔ مسجد، مدرسہ، بازار، عدالت، میڈیا، سیاست—ہر مقام پر دین کی ترجیح واضح ہو۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم دینی غیرت کو محض جذباتی نعرہ بازی کے بجائے شعور و حکمت کے ساتھ اپنائیں۔
دینی حمیت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم امتِ مسلمہ کے مسائل سے لا تعلق نہ رہیں۔ فلسطین، کشمیر، روہنگیا، شام—جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہو، وہاں ہمارا درد مند دل بیدار ہونا چاہیے۔ ہم ان کے لیے دعا کریں، آواز بلند کریں، اور جو ممکن ہو وہ عملی اقدام کریں۔