0

نوائے گلگت بلتستان/تحریر/محمد اکبر خان

نوائے گلگت بلتستان/تحریر/محمد اکبر خان

گلگت بلتستان، جسے قدرت نے اپنی بے پناہ خوبصورتی سے نوازا ہے، جہاں بلند و بالا پہاڑ، صاف شفاف جھیلیں،عظیم گلیشیرز اور برف پوش وادیاں سیاحوں کے دلوں کو موہ لیتی ہیں، وہیں یہ خطہ سیاسی، معاشی اور سماجی پیچیدگیوں کے گہرے دھندلکوں میں بھی لپٹا ہوا ہے۔ یہ علاقہ اپنی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت و حساسیت کے باوجود قومی دھارے میں مکمل شمولیت سے محروم دکھائی دیتا ہے، اور وہاں کے باشندے بنیادی سہولیات اور ترقیاتی مواقع سے محروم نظر آتے ہیں۔ خطے میں ترقیاتی منصوبوں کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل میں بے روزگاری ایک وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ خواندگی کی شرح میں اضافے کے باوجود، روزگار کے محدود مواقع نوجوانوں کے روشن مستقبل کے خوابوں کو بکھیرتے دکھائی دیتے ہیں۔ زراعت اور پھلوں کی پیداوار جو یہاں کا اہم ذریعہ معاش ہے، وہ بھی جدید سہولیات، حفظان صحت کے اصولوں اور مارکیٹ تک رسائی نہ ہونے کے باعث اپنی پوری گنجائش سے استعمال نہیں ہو پا رہی۔ بنیادی ڈھانچے کی حالت، خاص طور پر دور دراز کی وادیوں میں تکلیف دہ ہے۔ سڑکیں خطرناک، صحت کی سہولیات ناکافی اور تعلیمی ادارے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، جیسے گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلاؤ اور قدرتی آفات کا بڑھتا خطرہ، اس معاشی عدم استحکام کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
ان تمام تر مشکلات کے حل کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کا آغاز سیاسی اقدام سے ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے تو خطے کو آئینی طور پر پاکستان کا باقاعدہ پانچواں صوبہ قرار دے کر سیاسی خلا کو پر کیا جائے۔ اس سے نہ صرف عوام کو ان کا جائز جمہوری حق ملے گا بلکہ ان کے مسائل کو قومی اسمبلی میں براہ راست نمائندگی مل سکے گی۔ دوسری طرف، معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سیاحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اس مقصد کے لیے سیاحوں کی سہولت کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، ان کے تحفظ کو یقینی بنانا اور خطے کو بین الاقوامی سطح پر پرکشش سیاحتی مقام کے طور پر متعارف کرانا انتہائی ضروری ہے۔ ساتھ ہی، مقامی زراعت اور پھلوں کے باغات کو جدید خطوط پر استوار کرنے، کولد سٹوریج کی سہولیات فراہم کرنے اور پھلوں کی برآمدات کو فروغ دینے سے معیشت میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس خطے میں پھلوں َے دیگر مصنوعات بنانے والی صنعتوں کا قیام بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام کو دور کرنے میں اہم. کردار ادا کرے گا اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت وہاں کی صوبائی حکومت سے مل کر صنعت کاروں کو وہاں سرمایہ کاری کے لیے ترغیبات دےسکتی ہے.
نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ہنر مندی کی تربیت کے اداروں کا قیام اور انٹرپرینیورشپ کے مواقع پیدا کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ وہ روزگار کے متلاشی بننے کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے بن سکیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ معیاری تعلیم اور بہتر صحت کی سہولیات ہر شہری کی دسترس میں ہوں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ماحول دوست پالیسیاں اپناتے ہوئے قدرتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔ آخر میں، گلگت بلتستان کے عوام کی رائے اور خواہشات کو مرکز میں رکھتے ہوئے، ان کے ساتھ مکمل اعتماد اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ یہ خطہ محض ایک خوبصورت مقام ہی نہیں بلکہ پاکستان کا ایک اہم حصہ ہے، جس کی ترقی اور خوشحالی دراصل پورے ملک کی ترقی اور خوشحالی ہے۔ اس کے مسائل کو سمجھنا اور ان کا حل تلاش کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری میں وسعت لاکر اس علاقے کو تیز رفتار ریل اور شاہراہوں کے نیٹ ورک سے منسلک کرنا انتہائی اہم ہے اس مقصد کے لیے تعمیر ملکیت اور حوالگی کا اصول اپنا کر ذرائع رسل و رسائل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے.
اس خطے کی ترقی سے نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام مستفید ہونگے بلکہ بہترین اور عمدہ انفراسٹرکچر کی موجودگی اسے عالمی سیاحت کا اہم مقاام بنا دے گی جس کے فوائد قومی سطح پر دیکھے جا سکیں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں