0

فلسطینی اتھارٹی بے بسی کی تصویر / تحریر / وسیم الحسن

جب دشمن مسجد اقصیٰ کی بنیادیں کھودنے لگا ہے اور قبضے کو مزید گہرا کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے، تو فلسطین اتھارٹی اپنی بے بسی پر ماتم کناں ہے، جبکہ مزاحمتی قوتیں اب بھی میدان میں ڈٹی ہوئی ہیں۔

دنیا میں ہمیشہ دو طرح کے لوگ رہے ہیں: ایک وہ جو طاقتور کے سامنے امن کے نام پر جھک جانا ہی عقلمندی سمجھتے ہیں، اور غلامی کی زنجیر کو ہی بقا کا ذریعہ مان لیتے ہیں۔ یہ لوگ بظاہر حقیقت پسند اور سمجھدار نظر آتے ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ضمیر کا سودا نہیں کرتا، اپنی ملت کی عزت و آزادی کے لیے ڈٹ جاتا ہے، اور طوفانوں سے ٹکرا کر حالات کا رخ موڑنے کی ہمت رکھتا ہے۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وقت آخرکار انہی جانبازوں کے موقف کو سچ ثابت کرتا ہے۔

فلسطین کے مسئلے میں بھی یہی تقسیم نمایاں ہے ایک طرف فلسطین اتھارٹی ہے جس نے عالمی طاقتوں کے دباؤ اور استعمار کے بنائے ہوئے قوانین کو تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات اور سمجھوتے کا راستہ اپنایا، انہوں نے امید باندھ رکھی تھی کہ سفارتی طریقوں سے فلسطینی عوام کو آزادی ملے گی۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ راستہ کمزوری اور بے اختیاری کی طرف لے گیا، آج وہی اتھارٹی اپنی حیثیت کھو چکی ہے اور خود بے بسی کے ساتھ چیخ و پکار کر رہی ہے۔

دوسری طرف مزاحمتی گروہ ہیں، جنہوں نے ابتدا ہی سے یہ پہچان لیا تھا کہ دشمن مکار اور بدعہد ہے، اور اس کے بنائے ہوئے منصوبے صرف فلسطینیوں کو مزید غلامی میں جکڑنے کے لیے ہیں۔ انہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور صہیونی طاقت کے سامنے ڈٹ جانے کو ہی بقا کی ضمانت سمجھا۔ ان پر تنقید بھی ہوئی، طعنے بھی دیے گئے، لیکن آج حالات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اصل بصیرت انہی کے پاس تھی۔

جب دشمن مسجد اقصیٰ کی بنیادیں کھودنے لگا ہے اور قبضے کو مزید گہرا کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے، تو فلسطین اتھارٹی اپنی بے بسی پر ماتم کناں ہے، جبکہ مزاحمتی قوتیں اب بھی میدان میں ڈٹی ہوئی ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جو سمجھوتے اور مزاحمت کی حقیقت کو کھول کر سامنے رکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں