باطل نظریات کی تردید کب ضروری ہوتی ہے؟از قلم: محمد عاصم حسن
متعلم: جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی
دنیا میں روز نئے نئے نظریات سامنے آتے ہیں، جن میں بہت سے باطل ہوتے ہیں۔ لیکن ہر باطل نظریہ کی تردید کرنا ضروری بھی نہیں اور ممکن بھی نہیں۔ کیونکہ جیسے قرآن میں فرمایا گیا:
(سورۃ الرعد آیت نمبر 17)
یعنی جو جھاگ اور میل کچیل ہے، وہ خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔
بے مقصد ہر غلط خیال کا جواب دینا اس کو مزید بڑھاوا دے سکتا ہے اور اس کی اشاعت کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ایسے نظریات کا ذکر نہ کیا جائے جن سے کوئی خاص نقصان نہ ہو۔
لیکن جب کوئی غلط نظریہ اتنا پھیل جائے کہ عوام میں دھوکہ اور فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، تب علمائے کرام پر فرض ہے کہ وہ اسے واضح الفاظ میں رد کریں اور عوام کو حقائق سے آگاہ کریں تاکہ لوگ گمراہ نہ ہوں۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ بعض افراد شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد اعتراضات اٹھاتے ہیں اور کچھ سادہ لوح حضرات ہر چھوٹے سوال پر جواب دینے لگتے ہیں، جو ان شہرت پسندوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ مزید اعتراضات پیدا کرتے ہیں۔ لہٰذا جہاں ضرورت نہ ہو، وہاں بلاوجہ تردید اور تشہیر سے گریز کرنا چاہیے۔
*نوٹ:*
باطل نظریات کی تردید کا دارومدار حالات پر ہے۔ ضروری ہے کہ عقل و حکمت سے کام لیا جائے تاکہ حق کی روشنی قائم رہے اور وقت ضائع نہ ہو۔