
خواتین کا پاکستان: چولہے سے ایوان تک
تحریر: ماں کا خواب، چولہے سے ایوان تک
✍️ ازقلم: میمونہ شفقت
وہ ایک ماں تھی… ایک بیوی، ایک بیٹی… جی ہاں! بات آپ ہی سے ہو رہی ہے — ایک سادہ مزاج، نرم خو، باوقار عورت سے جس کی موجودگی دل کو سکون دیتی ہے۔ وہ ماں — جو روز فجر سے رات کے اندھیروں تک اپنے شوہر، اپنی اولاد اور اپنے گھر کے لیے فکرمند رہتی ہے۔ وہ، جو اپنے خوابوں کو چھوڑ کر، اپنی صلاحیتوں کو پروئے بغیر، چولہے پر طرح طرح کے کھانے بنا کر زندگی گزار دیتی ہے۔ جس کے نرم و نازک ہاتھوں کو سخت محنت نے مضبوط بنا دیا ہے۔ جس نے اپنے ارمانوں کو سالن کی بھاپ میں اڑا دیا، اور ہر بار سب کی کامیابیوں میں میٹھا بنا کر مسکراتے ہوئے پیش کر دیا۔ رکیے… یہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ، یہ کہانی تو ابھی شروع ہوتی ہے۔ اس ماں کی، اس بیوی کی… جو آپ ہی کے گھر میں موجود ہے۔
ایک لمحہ ٹھہریں… کیا کوئی خیال ابھرتا ہے؟ کیا واقعی ایک ماں، ایک بیوی کا کوئی خواب نہیں ہو سکتا؟ نہیں نہیں… ایسا کیسے ممکن ہے؟ اگر خواب ہوتے، تو شاید شادی سے پہلے ہی پورے ہو چکے ہوتے۔ ان کے والدین نے جلدی شادی کر دی، وہ تو صرف ایک “ہاؤس وائف” بننا چاہتی تھیں… انھیں بس اچھے کپڑوں کی خواہش تھی، اور کبھی بیمار ہونے پر ایک اچھے ڈاکٹر کی۔ ایسا ہی ہے ناں؟ جی ہاں، بالکل ایسا ہی ہے… وہ ایک بیٹی تھی، جو پڑھنا چاہتی تھی — مگر پڑھ نہ سکی۔ وہ ایک بیوی تھی، جو شوہر کے ساتھ مل کر خواب دیکھنا چاہتی تھی — مگر دیکھ نہ سکی۔ وہ ایک ماں تھی، جو کچھ بننا چاہتی تھی — مگر بن نہ سکی۔ کیا یہ خیال کبھی آپ کے دل میں نہیں آتا؟ کیا ماں کا کام صرف گھر کی تعمیر ہے؟ کیا وہ کبھی اپنی جگہ سے ہٹ کر کوئی عمارت نہیں بنا سکتی؟ کیا وہ وہی اینٹ ہے، جس کی جگہ صرف چولہے کے سامنے ہے؟ کیا روٹی سے روٹی تک کا سفر ہی اس کی زندگی ہے؟

نہیں۔ یہ وہی عورت ہے جس نے پاکستان کے قیام میں اسلام کے شانہ بشانہ محنت کی۔ وہ ہر دور کے فتنے میں خاموشی سے لڑتی رہی۔ آج وہی عورت، ایوانوں تک جا پہنچی ہے۔ وہ، جو کبھی صبر کرتی تھی… آج فیصلے سنا رہی ہے۔ یاد رکھو! چولہے سے اٹھنے والی تپش بھی ایوانوں میں انقلاب لا سکتی ہے۔ ہاں، وہ آج بھی ماں ہے۔ وہ آج بھی بیوی ہے۔ اور ہاں، اس کا آج بھی چولہے سے رشتہ باقی ہے۔ مگر سوال یہ ہے: کیا صرف جوان بیٹیاں ہی اپنے خواب ایوان تک لے جا سکتی ہییں؟ کیا ہماری ماؤں کا کوئی حق نہیں؟ کیا ماؤں کی خواہشیں وقت کے ساتھ مٹ جانی چاہییں؟ کیا ہم ان کے خواب، ان کے ساتھ ہی دفن کر دیں گے؟ یا… ہم نے خود ان پر کوئی دروازہ بند کر رکھا ہے؟ سوچیے… کہیں دیر نہ ہو جائے… کہیں ایک ماں کا خواب نہ ٹوٹ جائے… کہیں صبر بکھر نہ جائے… کہیں وقت کی گھڑیاں تھم نہ جائیں… کہیں ایک ماں، خاموش ہو کر — روٹھ نہ جائے… چولہے سے ایوان تک کا سفر یہ صرف ماں کا نہیں، یہ پوری قوم کی پہچان ہے۔ میرا سوال ہے… یہ وہ صبر ہے جو آج بول پڑا ہے۔

میرا سوال ہے — ایک قوم سے، ایک شوہر سے، ایک بیٹے سے: کیا ہم اپنی ماؤں کو چولہے سے ایوان تک کا راستہ دے رہے ہیں؟