تحریک پاکستان میں خواتین کا کردار:
تحریک پاکستان برصغیر کی تاریخ کا اہم سنگ میل ہے جس نے ایک علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک میں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی جدوجہد میں شانہ بشانہ کردار ادا کیا۔ جس کے بغیر پاکستان کا حصول شاید ممکن نہ تھا۔ خواتین نے گھر کی چار دیواری سے نکل کر سیاسی میدان میں قدم رکھا ہر محاذ پر مردوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کا کردار محض معاونت تک محدود نہیں تھا بلکہ انہوں نے قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک کو ایک نئی سمت دی۔
بیسویں صدی کے آغاز میں جب برصغیر میں سیاسی بیداری اپنے عروج پر تھی، خواتین نے اپنے حقوق اور قوم کی آزادی کے لیے آواز بلند کرنا شروع کی۔ سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک نے جہاں مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کیا، ساتھ ہی خواتین میں بھی تعلیمی اور سیاسی شعور بیدار ہوا۔
قائداعظم کی قیادت میں خواتین کا متحرک کردار:
جب تحریک پاکستان نے زور پکڑا اور قائداعظم محمد علی جناح نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا نظریہ پیش کیا، تو خواتین نے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔
قائد اعظم اپنی تقاریر میں خواتین کو تحریک پاکستان میں فعال کردار ادا کرنے کی تلقین کرتے تھے۔
ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے نہ صرف اپنے بھائی کا بھرپور ساتھ دیا اور خود بھی ایک متحرک سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آئیں۔ انہوں نے خواتین کی تنظیموں کو مضبوط کیا، ملک بھر کا دورہ کیا، اور خواتین میں سیاسی شعور بیدار کیا۔
تحریک پاکستان کے دوران خواتین کا مختلف شعبوں میں کردار:
1. سیاسی سرگرمیاں :
خواتین مسلم لیگ کے جلسوں اور جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی۔ اور دوسری خواتین کو بھی گھروں میں جاکر تحریک کی حمایت اور جدوجہد کے لیے آمادہ کرتیں۔
بیگم شائستہ اکرام اللہ، بیگم رعنا، بیگم جہاں آراء شاہنواز، اور لیڈی ہارون جیسی خواتین نے نہ صرف سیاسی جلسے جلوس کیے بلکہ قانون ساز اسمبلیوں میں بھی مسلمانوں کے حقوق کی وکالت کی۔
2. فنڈ ریزنگ اور مالی امداد:
خواتین نے تحریک پاکستان کے لیے مالی وسائل اکٹھے کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے زیورات، قیمتی اشیاء، اور بچت کو تحریک کے فنڈ میں عطیہ کیا۔ بہت سی خواتین نے گھروں میں دستکاری کا کام کیا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو تحریک پاکستان کے لیے وقف کر دیا۔ یہ ان کی غیر مشروط محبت اور قربانی کا عملی ثبوت ہے۔
3. رضاکارانہ خدمات اور امدادی کام:
تقسیم ہند کے دوران اور اس سے قبل، خواتین نے بے شمار رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔ انہوں نے پناہ گزینوں کی مدد کی، ہسپتالوں میں زخمیوں کی دیکھ بھال کی، اور مہاجر کیمپوں میں خوراک اور لباس فراہم کیا۔ مسلم گرلز سٹوڈنٹس فیڈریشن اور آل انڈیا مسلم لیگ ویمنز نے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان تنظیموں میں شامل خواتین نے نہ صرف عملی امداد فراہم کی بلکہ مہاجرین کے اندر عزم وحوصلہ بھی پیدا کیا۔
4. عوامی بیداری مہم:
خواتین نے اخبارات اور رسائل میں مضامین لکھے، پمفلٹ تقسیم کیے، اور گھر گھر جا کر تحریک پاکستان کے مقاصد سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ انہوں نے مسلم لیگ کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں مردوں کی رسائی مشکل تھی۔ بیگم سلمیٰ تصدق حسین اور بیگم زری سرفراز جیسی خواتین نے اس شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
5. قید و بند کی صعوبتیں:
تحریک کے دوران خواتین کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ انہوں نے جیلوں میں تکالیف اور مصیبتیں جھیلیں لیکن ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان کی قربانیاں جدوجہد آزادی کا ایک روشن باب ہیں۔
تحریکِ پاکستان میں مردوں کی طرح بے شمار خواتین نے گمنامی میں اپنا کردار ادا کیا اور تاریخ میں جدوجہد اور قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کی۔
محترمہ فاطمہ جناح، امجدی بانو بیگم، سلمیٰ تصدق حسین، بی اماں، رعنالیاقت علی خان اور فاطمہ صغریٰ کے شانہ بشانہ بے شمار خواتین تھیں جنھوں نےاپنی زندگیاں جدوجہدِ پاکستان کے لیے وقف کیں۔ ان خواتین کا لازوال کردار، عظمت وحوصلہ اور مسلمانوں کے لیےعلیحدہ ریاست حاصل کرنے کا جذبہ مردوں سے کسی طور کم نہ تھا، جس کے باعث یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سماجی پابندیوں کا سامناکرتے ہوئے خواتین کی فعال شرکت نے تحریک پاکستان میں ایک نئی روح پھونکی۔ تحریکِ پاکستان میں نمایاں کردار ادا کرنے والی چند خواتین۔
محترمہ فاطمہ جناح:
فاطمہ جناح کو “مادر ملت” کا خطاب دیا گیا، جو ان کی قربانیوں اور قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے قائداعظم کے شانہ بشانہ کام کیا اور خواتین کو متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
قائداعظم ؒکی طرح مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح بھی سیاسی بصیرت، قیادت، جرأت مندی اور ایثار و قربانی کے جذبوں سے مالامال تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک پاکستان کے لیے ان کی بے لوث محنت اور انتھک جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح دانتوں کی ڈاکٹر تھیں۔ لیکن قائداعظم کی اہلیہ کی وفات کے بعد ان کی دیکھ بھال کے لیے اپنی پریکٹس چھوڑ کر اپنے بھائی محمد علی جناح کی قریبی ساتھی اور مشیر بن گئیں۔ 1940ء میں قرار دادِ پاکستان کی منظوری کے بعد برصغیر کے طول و عرض کے سیاسی دورے ہوں یا خواتین میں علیحدہ مسلم ریاست سے متعلق شعور بیدار کرنے کی مہم ہو، مسلمانوں کو متحد و منظم اور متحرک کرنا ہویا پھر تحریکِ پاکستان کے لیے مالی مسائل کا حل، محترمہ فاطمہ جناح قائداعظم کے شانہ بشانہ رہیں ۔ نہ صرف قائد اعظم کی زندگی میں بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی محترمہ فاطمہ جناح نے ملکی معاملات کے مفاد کو اہم رکھا۔
بیگم رعنا لیاقت علی خان:
بیگم رعنا لیاقت علی خان کی خدمات کا ذکر کیے بغیر تحریکِ پاکستان کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔
انھوں نے قرار دادِ پاکستان کے مسودے کی تیاری کے دوران چند اہم نکات پر اپنی رائے کا بھر پور اظہار کیا۔
بیگم رعنا نے تحریکِ پاکستان کی “جناح کمیٹی” میں بطور اقتصادی مشیرخدمات سرانجام دیں۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی بیگم ہونے کی وجہ سے پاکستان کی پہلی خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
بیگم رعنا کو سندھ کی پہلی خاتون گورنر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
عورتوں کو بااختیار بنانے سے متعلق پروگرام کا آغاز بھی رعنا لیاقت نے کیا۔
ہالیںڈ میں 1950ء پاکستان کی پہلی سفیر نامزد ہونے کا اعزاز بھی بیگم رعنا کو حاصل ہے۔
اٹلی اور تیونس میں بھی بطور پاکستانی سفیر خدمات سرانجام دیں۔1952ء میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی پہلی خاتون نمائندہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1973ء سے 1976ء کے دوران پاکستان کی پہلی خاتون گورنر (سندھ)کے طور پرفرائض نبھائے۔
پاکستان ویمن نیشنل گارڈ، ویمن نیول ریزرو ، گھریلوں صنعتوں ، تعلیمی اداروں بالخصوص ہوم اکنامکس کی تعلیم کے اداروں کے علاوہ پاکستان میں پہلی غیر سرکاری تنظیم اپوا (APWA) قائم کرنے کا سہرا بھی بیگم رعنا لیاقت علی خان کے سر ہے۔
بیگم شائستہ اکرام اللہ: ایک تعلیم یافتہ اور فعال سیاست دان تھیں۔ انہوں نے پہلی آئین ساز اسمبلی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
بیگم محمد علی جوہر:
بیگم محمد علی جوہر نے تحریک خلافت سے لے کر تحریک پاکستان تک مسلمانوں کو متحد کرنے اور ان میں آزادی کا جذبہ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
بی اماں:
مولانا محمد علی جوہر کی والدہ بی اماں کا بھی تحریکِ پاکستان میں کردار ناقابل فراموش ہے۔
بی اماں نے تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود تحریک پاکستان میں فعال کردار ادا کیا۔
بی اماں نے ایک قائد اور رہنما کے طور پر کانفرنسز کی صدارت بھی کی اور جدوجہد میں بھر پور حصہ لے کر خواتین میں حوصلہ پیدا کیا۔ تحریک پاکستان کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے چندہ جمع کرنا ہو یا پھر خواتین میں جذبہ بیداری، بی اماں ہر جگہ پیش پیش رہتیں اور خواتین کی ہمت اور حوصلے کے لیے ان کو وعظ و نصیحت کرتیں۔
1925ء میں تحریک خلافت کا چرچا گھر گھر تھا اور اس مسلم کاز کے لیے بی اماں نے سخت ترین پردے میں رہ کر مسلمان خواتین کو تحریک خلافت میں اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا۔ غیر ملکی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے چرخے تیار کر کے خواتین کو سوت کات کر اپنے لباس کے لیے کپڑا تیار کر نے کی ترغیب بھی دیتی تھیں۔ کھدر کو دیدہ زیب اور دلکش بنانے کا ہنر بھی خواتین کو سکھایا ۔
یہ اس عظیم ماں کے الفاظ ہیں جب ان کے بیٹوں مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کو گرفتار کر لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ “میں خوش ہوں میرے بیٹوں کے دل میں قوم کا درد ہے۔ جب اوکھلی میں سر دیا تو موسلوں کا کیا ڈر‘‘۔
اس عظیم خاتون کے اعلیٰ کردار کے باعث برصغیر میں خواتین کو حوصلہ اور ہمت حاصل ہوئی اور خواتین نے بھی میدان عمل میں مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد میں حصہ لیا۔
فاطمہ صغریٰ:
تحریک پاکستان کی جدوجہد کو بیان کرتے ہوئے فاطمہ صغریٰ جذباتی انداز میں ایک جگہ لکھتی ہیں کہ مجھے تحریک آزادی میں حصہ لینے کا بہت شوق تھا۔ اکثر اپنے والد آغا جان سے کہتی تھی کہ مجھے خواتین کے جلسوں میں جانے دیا جائے، لیکن آغا جان مجھے روک دیتے۔ لیکن ایک دن ایک جلوس سول سیکرٹریٹ کی طرف رواں دواں تھا، میں بھی اس میں شریک تھی، پولیس نے گھیر رکھا تھا، ہجوم سے ایک آواز بلند ہوئی کہ ہم یہاں پرچم لہرائیں گے، اس آواز نے مجھے ایک عجیب سا جذبہ اور طاقت دی، میں نے سبز پرچم جسے میں لہرا رہی تھی جھٹ سے بغل میں دبایا اور سیکرٹریٹ کے دروازے پر چڑھ گئی میں پولیس سے بے خوف عمارت کی طرف بڑھتی چلی گئی کہ چاہے جان چلی جائےلیکن یہ پرچم لہرانا ہے اوراللہ نے مجھے اپنے ارادے میں کامیاب کیا۔ فاطمہ صغریٰ کا یہ جرأت مندانہ اقدام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
تحریک پاکستان میں خواتین کا کردار ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ خواتین نے نہ صرف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا بلکہ ہر ممکن طریقے سے تحریک کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈالا۔ ان کی قربانیاں، عزم، اور حوصلہ نہ صرف پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعل راہ ہیں۔ اگر آج پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہے تو اس میں خواتین کا لہو، پسینہ، اور جدوجہد شامل ہے۔ جنہوں نے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا کر قوم کے لیے ایک الگ وطن حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کسی بھی قوم کی ترقی اور آزادی کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہیں.
از قلم: عذرا خالد
تحریک پاکستان میں خواتین کا کردار/تحریر/انیلہ افضال ایڈووکیٹ
تحریک آزادی اور اقبال کا کردار/تحریر/بلال احمد معاویہ اعوان