0

نوجوان نسل! عصر حاضر اور مسائل کے انبار/تحریر/نقرالدین کاکڑ

نوجوان نسل! عصر حاضر اور مسائل کے انبار/تحریر/نقرالدین کاکڑ

ایک طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ نوجوان نسل کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ جس پر قوم سہارا لیے کھڑی رہتی ہے۔ قوم کی ترقی کا راز اور طاقت کا سرچشمہ نوجوان نسل ہی ہوتی ہے۔ قوم کے لیے ایک مضبوط ستون, امید کی کرن ثابت ہوتی ہے۔ محنت شاقہ کرتی ہے۔ مستقبل کے حسین خواب آنکھوں میں سجائے زمانے کے ہر طلاطم سے نبرد آزما اور ہر خطرے کو خوش اسلوبی اور دیدہ دلیری سے گلے لگاتی ہے۔ یہی نسل عصر حاضر کے اجتہادی اور مستقبل کے معمار نظر آتی ہے۔ نوجوان نسل ہی گزشتہ اور آئندہ دونوں نسلوں کے درمیان ایک مضبوط کڑی ہے جس سے جدید اور قدیم روایات باہم متصل ہوتی ہیں۔ مگر دوسری طرف مندرجہ بالا تمام امور میں بات اس سے برعکس نظر آتی ہے۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا اور اس پر سوچنا انتہائی اہم اور لائق غور و خوض ہے ۔ کہ کیا واقعی نوجوان نسل ہی فقط قوم کی کامیابی کا ضامن ہے یا قومی زوال کا سہرا بھی ان کے ماتھے پر سجا ہے؟ اس کے علاوہ ہماری نوجوان نسل کے عصر حاضر میں رجحانات اور میلانات کس طرف ہیں؟ یہ رجحانات کن ذرائع و اسباب سے پیدا ہوتے ہیں؟ ان کے محرکات کیا ہوتے ہیں؟ ان میلانات اور رجحانات سے معاشرہ کس مرض میں مبتلا ہو سکتا ہے ؟ ان سے مسائل کے انبار کیسے کھڑے ہوں گے؟ مسائل کے ان شعلوں میں کس قسم کے لوگ جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں؟ کن افکار کے لیے سم قاتل بنتے ہیں؟ خود ان کی ذات پر ان خیالات کے کون سے اثرات پڑتے ہیں؟ اور کیا جدید زمانے میں ہمارے نوجوان جدید افکار کے حامل ہیں بھی کہ نہیں اور کیا موجودہ اخلاقی بگاڑ , شدت پسندی, شخصیت پرستی اور دیگر ذہنی و معاشرتی بیماریوں سے چھٹکارا پانا ممکن بھی ہے کہ نہیں۔

جاپان دنیا کا وہ ملک ہے جس میں نوجوان آبادی سب سے کم ہے قریباً 12 سے 13 فیصد آبادی نوجوان ہوں گی اور پاکستان کی نوجوان آبادی قریباً 64 فیصد ہے۔ جب کہ ناجیریا کی نوجوان آبادی قریباً 70 فیصد ہے جو کہ سب سے زیادہ ہے۔ جاپان کی زود رفتار ترقی اور پاکستان یا ناجیریا جیسے ممالک کی ترقی کے تقابل کے آپ سب عینی شواہد ہیں۔ جب کہ گزشتہ اور موجودہ ادوار میں کئی ممالک کے درمیان ایسے تقابلی جائزے سیکنڑوں ملتے ہیں۔ یہاں میں اس نتیجے پر پہنچا کہ محض نوجوان نسل خرمن کی طرح ہے جب تک اسے مہارت, قابلیت اور جدید افکار و نظریات سے واقفیت نہ دی جائے۔ واقفیت دینے کے لیے مربوط نظام اور ذاتی خواہش و کاوش کی ضرورت ہے ۔ جب کہ یہاں دونوں کا اشد فقدان ہ
ڑ کے عصر حاضر میں میلانات اور رجحانات پر سرسری نگاہ ڈالی جائے تو ان کے ذرائع و اسباب, نتائج اور اثرات سب واضح ہو جائیں گے۔ ویسے تو بہت ساری وجوہات ہیں جو زہر قاتل کی طرح نوجوانوں کو ذہنی اور عملی طور پر افائج کر رہی ہیں۔ ان سب میں سے اولین ذریعہ جو زبان زد عام ہے وہ ہے سوشل میڈیا۔

سوشل میڈیا کا استعمال مثبت اور منفی ہو سکتا ہے لیکن یہ بذات خود منفی یا مثبت نہیں ہے۔ استعمال سے یاد آیا کہ ایک پاکستانی یوٹیوبر ڈکی بھائی جس کے 83 لاکھ سبسکرائبرز ہیں۔ انھوں نے ایک ویلاگ پر اپنی بیوی کے بال رنگنے کا کیپشن دیا ہے 23 لاکھ لوگ بیٹھ کے یہ اہم خبر دیکھ اور سن رہے ہیں۔ دوسرے ویلاگ میں عید کا بکرا گھر لاتا ہے 20 لاکھ لوگ دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں۔ ایک اور ویلاگ ہے جس کے مرکزی کیپشن پر لکھا ہے 30 لاکھ کی گھڑی خرید کر زندگی کا خواب پورا ہو گیا۔ جس کو 24 لاکھ لوگ دیکھ رہے ہیں اور ماشاءاللہ ماشاء اللہ, کیا بات ہے کے کمنٹس دے کر خوش ہو رہے ہیں۔ کیوں نہ تھوڑا انجوائے کے لیے ایک اور مثال بھی لیں. ایک گروپ چینل سسٹریالوجی کے نام سے ہے جس میں رابعہ کے ساتھ شادی میں فرینک ہوتا ہے 10 ملین لوگ بیٹھ کے دیکھتے ہیں۔ آج اس کو حمل ٹھہرا اور الٹی آئی, چلو بھئی ناچو۔ لاکھوں باشعور, تعلیم یافتہ اور آزاد خیال نوجوان دیکھ کر دیوانگی میں محو رقص ہیں۔ تالیاں بجائیں. روز ان کی نئی نئی گاڑیاں دیکھنا, فلاں نے کس ملک کی سیر کی ہے, اس کے پاس خوبصورت بیوی ہے, مہنگی گاڑی ہے , برانڈڈ گھڑی ہے , بڑا گھر ہے, تین بڑے آئی فون لیے ہیں بس اپنے تمام مسائل تو سب ختم ہوئے, زندگی بن گئی۔ ملک ترقی کر رہا ہے۔ اب سارے ڈپریشن میں جائیں نہ تو کدھر جائیں۔ خود کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ان کی واہیات اور مصنوعی خوشیوں اور شان و شوکت پر خوش ہونا اور لذت میں غریق ہونا ہی باقی ہے۔ اور یہی مقصد حیات ہے۔ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی سوائے چند ایک کے ایسی ہی چورن بیچا جا رہا اور لوگ بڑے شوق سے کنزیوم کر رہے ہیں۔ علمی, تخلیقی, تحقیقی اور ادبی معلومات پڑھنے کے لیے اور لاتعداد ایسے موضوعات ہیں جو لائق تحقیق ہیں ہمیں وقت میسر ہوں تو تحقیق کریں۔

نوجوان نسل خود کی کھوج سے عاری ہے۔ خود سے زیادہ دوسروں کی زندگیوں کا جائزہ لیتی ہے۔ ان کو انٹرٹینمنٹ کی لت پڑ گئی ہے۔ اگر ان کو یہ ڈوز نہ ملتے رہے یہ اپنے آپ مر جائیں گے۔ نیل پوسٹ مین لکھتے ہیں
” کہ امریکن ایک دوسرے سے زیادہ گفتگو نہیں کرتے وہ ایک دوسرے کو انٹرٹینمنٹ دیتے ہیں”۔ یہی حال ہمار ہو چکا ہے۔
دو منٹ کسی سے سنجیدہ موضوع پر بات نہیں کر سکتے, علمی گفتگو نہیں سن سکتے, تنہائی میں کچھ دیر نہیں بیٹھ سکتے۔ اگر بیٹھنا پڑا تو سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ خود کو دریافت کرنا پڑے گا۔ حقائق سامنے آ جائیں گے ان کا حل تلاش کرنے کے لیے دماغ لگانا پڑے گا۔ تبھی خود سے گٹھن اور ڈر محسوس ہونے لگتا ہے۔ تنہائی کے آئینے میں اپنا بھیانک چہرہ اور خالی دماغ کا عکس دیکھ کر اپنے آپ سے وحشت سی ہونے لگتی ہے۔ بھلا اتنی مصیبتیں ان سے کہاں جھیلنی تو یہی بہتر نہیں کہ اسی دھت میں پڑے رہے۔ یول نوح حراری کہتے ہیں ” جدید معاشرہ تفریح کے جنون کا شکار ہو چکا ہے” ہم بھی اسی جنون مارے ہوئے ہیں۔

شخصیت پرستی کا زہر بھی نوجوان نسل کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ دراصل سیاسی شعور کی کمی, حقیقی اور مطالعاتی سیاست سے ناوابستگی کی وجہ ہے۔ شخصیت پرستی دور جہالت کا رویہ ہے۔ یہ جاہل اور کمتر ذہن کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ شخصیت پرستی سے ذہن پر پردے پڑ جاتے ہیں۔ عقل ماؤف ہو جاتی ہے۔ نظارے دھندلے نظر آتے ہیں۔ جس میں حق اور باطل کی تمیز نہیں ہو سکتی اس لیے اپنے جائز حقوق سے محروم, خود کی معرفت سے بے خبر نسل شخصیت پرستی جیسے مرض کی ماری ہوئی ہے۔ یہ مرض ذہنی اور سماجی ہے۔

مذہبی شدت پسندی بھی نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا ایک رجحان ہے۔ جہاں تحقیق کے بغیر تنقید, علم کے بغیر پند وعظ, اور عقل و شعور کے بغیر فعل و عمل ہو؛ بن منطق کے کلام و بیان, مولوی اور ذاکر کی اندھی تقلید, قرآن کی صحیح تفہیم نہ حضورﷺ کی حدیث و سنت سے آگہی, اور نہ ہی سوچنے والے اذہان ہوں۔ عقائد روایات سے بنے ہوں, روایات قدما کی جہالت کا نچوڑ (کچھ روایات نہیں بھی ہوتیں)۔ وہاں دین الہی کی درست تفہیم کہاں حاصل ہونی۔
امن کا پیام فروغ نہ پا سکنا, دوسرے مذاہب اور مسالک کے پیروکاروں سے منافرت پیدا ہو جانا, دلوں میں تنگی اور حسد کا جگہ گھیر لینا معمول بن جاتا ہے۔ ایسے تناظرات میں مذہب کے نام پر سری لنکن انجینیر کے جلانے, مشال خان کا قتل, حلوہ برانڈ کے کپڑے پہننے والی عورت کا گھیراؤ, پارہ چنار میں درندگی سے انسانیت کی تذلیل ہونا, دودھ پیتے بچوں کے گلے کاٹنا, سرگودھا اور دیگر ایسی جگہوں پر مسیح برادری کے گھروں کا نذر آتش کرنا اور معصوم انسانوں کی جان لینے جیسے واقعات رونما ہوں گے ۔ ان تمام واقعات کے پیچھے آج کی نسل کے شدت پسند جذبات کار فرما ہیں۔ جو پچھلی پیڑی سے خود کو جدید اور زیادہ باشعور سمجھتے ہیں۔

جب سے ہوش سنھبالا ہے پاکستان میں بے روزگار کے مسائل سنتا آ رہا ہوں۔ مگر آج تک اس کا حل تلاش نہ ہوا۔ اس کا شکار بھی نوجوان طبقہ ہی رہا ہے۔ یہ ایک لاحاصل موضوع ہے۔ معاشی طور پر خستہ حال اور سفارشی نظام کے مارے ہوئے ملک میں جہاں تعلیمی کیرئیر میں 80 فیصد سے زائد طلباء و طالبات جامعات میں وقت گزاری کو ہی ترقی سمجھتے ہیں۔ اپنے اپنے پروفیشنز میں کما حقہ اہلیت نہیں رکھتے اس وجہ سے بعد میں ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔ ان کے سروں پر ان سے زیادہ نااہل تعین ہو جاتے ہیں۔ لیکن بے روزگاری کا سب سے بڑا ذریعہ ملکی معیشت کا عدم استحکام اور ترقی کا مربوط نظام کا نہ ہونا ہے۔

قومیت پرستی بھی دور جہالت کی اپروچ تھی۔ مگر عصر حاضر میں پڑھے لکھے نوجوان فخریہ انداز سے خود کو نیشنلسٹ سمجھتے ہیں۔ نیشنلسٹ شخص کا فکری اور نظریاتی دائرہ کار محض اپنی قوم تک محدود ہے۔ جب کہ میری نظر میں فکری اور نظریاتی حدود کا تعین محدود نہ ہوں۔ اس کی حدوں میں پوری انسانیت سمونی چاہیے۔ رنگ و نسل, ذات پات یا زبان سے ہم آہنگی کی بنیاد پر قربت پانا یا محبت کرنا جرم نہیں بلکہ یہ ایک فطری بات ہے۔ لیکن ان بنیادوں پر نفرت کرنا جرم عظیم ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا ہے۔

“اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے بےشک اللہ جاننے والا خبردار ہے”۔

حسب و نسب کی بنیاد پر امتیازی سلوک, مذہبی و مسلکی بنیاد پر معرکہ آرائی, حسد و نفرت بلا شبہ معاشرتی بگاڑ ہیں۔ ان کے پیچھے وہ اذہان کار فرما ہیں جن کی معیشت اور طاقت کا میعار اس سوچ کے فروغ سے عروج پر ہیں۔ یہ سوچی سمجھی سازشیں ہوتی ہیں جن کا شکار نئی نسل بنتی جا رہی ہے۔ نسلی افتخار معاشرے میں عدم توازن پیدا کرتا ہے۔ اس سے بلا وجہ ایک طبقہ انسانی احساس کمتری اور دوسرا احساس برتری کا شکار رہ ہی جاتا ہے۔

ان بنیادی رجحانات اور میلانات کے علاوہ, آن لائن ذریعے سے فراڈ اور فریب کاری, بچیوں کے ساتھ ریپ کیسز, خواتین کو ہراساں کرنا, ان کی عصمت دری کرنا, محبت کا زہر پلا کر دوسروں کی نوجوان لڑکیوں کو عریاں کرنا, پھر غیرت کے نام پر اپنی بہن بیٹی کا قتل کرنا, اپنے والدین سے متنفر ہونا, نیز ہر طرح کا معاشرتی اور اخلاقی معیار گراوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔

ان تمام ذہنی رجحانات اور سیاہ کرتوت سے معاشرے میں سوچ کو جلا بخشنی والے اور شعور دینے والے اذہان مفقود ہو جاتے ہیں۔ باشعور لوگ گوشہ تنہائی ہی کو عافیت سمجھنے لگتے ہیں۔ کیوں کہ جہاں سب نابینا رہتے ہیں وہاں بصیرت عیب ؛ شعور کفر ؛ فراڈ سمجھ داری؛ اخلاص کمزوری اور محنت ذلت سمجھی جاتی ہے۔ وہاں چراغ بجھائے جاتے ہیں اور اندھیروں میں بھٹکے رہتے ہیں۔ اس بات کا یہاں ذکر اہم ہے۔ کہ مندرجہ بالا تمام عوامل کا ارتکاب کا فقط نوجوان نہیں کرتے البتہ ان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔

ان تمام مسائل کا حل سیاسی, مذہبی, معاشرتی اور انفرادی شعور و تربیت سے ممکن ہے۔ شعور نصابی کتب سے نہیں بلکہ چند مخصوص مشقوں سے آ سکتا ہے مثلاً باشعور لوگوں کو سننا؛ ان کے ساتھ وابستہ رہنا؛ احمق جو کرے وہ نہ کرنا؛ شبعے کے ماہرین سے فقط اسی شعبے کی تعلیمات حاصل کرنا؛ دیگران سے گریز کرنا؛ نفرت اور شدت پھیلانے والے سیاسی و مذہبی پیشواؤں کی تقاریر اور تعلیمات پر کان نہ دھرنا بلکہ ان کی حوصلہ شکنی کرنا؛ قرآن کا حقیقی علم حاصل کرنا؛ ثروت مند کی ثروت مندی سے متاثر نہ ہونا؛ احساس کمتری کا شکار نہ ہونا؛ حلال و حرام کی تمیز کرنا؛ نام و نہاد یوٹیوبرز اور موٹیویشنل سپیکرز کے سننے سے احتراض کرنا؛ پائیداری تحقیقی, علمی, ادبی, تخلیقی سوچ کو جلا بخشنے والے ڈاکومنٹریز, ڈرامے اور فلمیں دیکھنا؛ تنہائی میں خود کی تلاش کرنا یعنی خود سے خود کے متعلق سوالات کرنا اور ان کے حقیقی جوابات دینا؛ اپنے مقاصد کا تعین کرنا؛ ان کے حصول کے لیے خود کو ترتیب دینا اور اسی سمت طاقت آزمائی کرنا؛ ذہنی اور جسمانی طور پر خود کو مضبوط رکھنا اور مشقیں کرنا اور سب سے بڑھ کر تخلیقی, ادبی, تاریخی اور فلسفیانہ وغیرہ کتب کا کثرت سے مطالعہ کرنا۔
نوجوان نسل اپنے حقیقی مقاصد کے حصول کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں؛ زمانے کے طلاطم کا سامنا کریں؛ حقیقت کو پہچانیں؛ افواہوں پر کان نہ دھرے؛ محنت کو اپنا شعار بنائیں؛ خود قائد بنیں؛ اپنی قائدانہ صلاحیتیوں کو بروئے کار لائیں؛ ایمانداری کو اپنی صفت بنا لیں؛ سیاسی نظریات اور مذہبی عقائد کی بنیاد پر انسانیت کی تذلیل نہ کریں؛ نفرتوں کو دل سے نکال پھینکیں ؛ محبتوں کا پیامبر بنیں۔

دوسری جانب ریاست کی ذمہ داری حسب دستور ہے کہ نوجوانوں میں عملی مہارت بڑھانے کے لیے؛ معیاری تعلیم کے لیے؛ روزگار کی فراہمی کے لیے بہترین اور ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ تاکہ نئی نسل مختلف شعبہ جات میں مہارت حاصل کریں۔ ہر طرح کی احساس کمتری کا شکار نہ رہیں۔ اور ملکی ترقی میں اہم کرادر ادا کریں
بقول اقبال
نہ ہو نو مید نومید ی زوال علم و عرفاں ہے
امید مرد مومن ہے ،خدا کے راز دانوں میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں