77

احسان فراموش قوم/از قلم/نائلہ محمود

○موجودہ حالات سے سب ہی واقف ہیں ۔ “حکمران, عوام اور آرمی” یہ ایک تکون بن چکی ہے۔ جس کے ایک سرے پہ عمران خان صاحب, دوسرے پہ عوام اور تیسرے پہ آرمی ۔
○عمران خان صاحب میں کسی بھی حکمران کو سپورٹ نہیں کر رہی ہوں۔ بس ہماری پاک افواج کے ساتھ سلوک ناقابلِ برداشت ہو گیا ہے۔ جس سے دل گرفتہ ہو کر میں نے قلم اٹھایا ہے۔
مجھے شکایت ہے تو ہماری ہونہار عوام سے ہے۔ یہ وہی عوام ہے, جسے پاک افواج نے ہر طرح کے مشکل حالات سے نکالا۔ آئے بڑے سپورٹر, تب کہاں جاتے ہیں جب ملک میں سیلاب, برف باری میں پھنسے لوگوں کو یہی آرمی آ کر بچاتی ہے۔ تب اپنا بچاؤ خود کیوں نہیں کرتے, یا اپنے عمران خان, نواز شریف,شہباز شریف, زرداری, بلاول, مریم نواز, کو کیوں نہیں بلاتے؟؟؟ آرمی کی طرف کیوں دیکھتے ہیں؟؟؟ کہ آ کر بچائے مر رہے ہیں۔ خدارا آنکھیں کھولیں, یہ وہی آرمی ہے۔ جس نے برفباری میں پھنسے لوگوں کو نکالا, جو صرف سیرو تفریح کے لیے گئے تھے, جب کہ ملکی حالات ان کے سامنے تھے۔ سب پیچھے ہٹ گئے, کوئی ان کی پکار نہیں سن رہا تھا۔ اگر ایسے میں کوئی آگے آیا تو وہ ہماری پاک افواج ہی تھیں, جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر برف باری میں کود پڑیں۔ اور عوام کو بچایا۔
میرا یقین کریں آج آپ جن کے لیے لڑ رہیں ہیں اپنی فوج سے۔ اگر کبھی آپ مر بھی رہیں ہوں گے تو بچانے نہیں آئیں گے, بلکہ ان کو کوئی فرق ہی نہیں پڑنا آپ مریں یا جئیں۔ یہ آرمی ہی ہے جو 24 گھنٹے اپنی جان ہتھیلی پر لیے گھوم رہی ہے۔ صرف اپنی یوتھ کے لیے, آپ سب کے لیے۔
○یہ ہی نہیں لاک ڈاؤن میں عوام گھر بیٹھ کر دھواں دار انٹرنیٹ کا استعمال کر رہی تھی۔ تب بھی اگر کوئی حفاظت کر رہا تھا, تو وہ پاک آرمی تھی۔ اور اب یہی عوام کہہ رہی ہے فوج اندرونی معاملات سے دور رہے۔ آج عوام انہی لوگوں کو برا بھلا کہہ رہی ہے۔
خدارا ہوش کے ناخن لیں ۔ اچھا ہوتا آرمی مرنے دیتی تم جیسی منہوس یوتھ کو, تا کہ آج کے دن یہی منہوس یوتھ اپنے ملک کو تو تباہ نہ کرتے۔ اپنی جان کی بازی لگانے والوں کے ساتھ اس قدر ناقابلِ برداشت سلوک نہ کرتی۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے ہماری عوام کو اگر تب مرنے دیا ہوتا تو آج یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔
○ہماری ہونہار عوام کا کہنا اگر ہم نہ پڑتے تو عمران خان رہا نہ ہوتا, انکو انصاف نہ ملتا۔ تو عمران خان صاحب اپنی صفائی خود نہیں دے سکتے تھے؟؟؟ خود کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے ؟؟؟ یقینََا کر سکتے تھے , کیونکہ میرا ماننا ہے اللّٰہ پاک ﷻ بے گناہ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔
اللّٰہ پاک ﷻ نے فرمایا : اگر پوری دنیا مل کر کسی کو نفع پہنچانا چاہتی ہو, تب تک نہیں پہنچا سکتی جب تک اللّٰہ پاک ﷻ نہ چاہے۔ اور اگر پوری دنیا مل کر کسی کو نقصان پہنچانا چاہتی ہو, تب تک نہیں پہنچا سکتی جب تک اللّٰہ پاک ﷻ نہ چاہے۔
○میں نہیں جانتی عمران خان صاحب قصور وار ہیں یا نہیں۔ میں بس اتنا جانتی ہوں اگر وہ سچے تھے تو وہ خود اپنے آپ کو ثابت کرتے, عوام کا حق نہیں بنتا تھا۔ جو وجود ان پہ سایہ کیے ہوئے ہیں, انہی کو نیست و نابود کرتے پھریں ۔
ہماری ہونہار عوام کا کہنا پاک فوج سیاست میں کیوں گھسی, فوج کا کام نہیں۔ اگر اتنا ہی ہے تو جب ملک مشکل میں پڑتا تب فوج کیوں یاد آتی ہیں۔
○اگر آج فوج بارڈر سے ہٹ جائیں ,تو کیا یہ عوام اپنی حفاظت کر سکتی ہے اور اپنے گھر والوں کی ؟؟؟ یقینََا نہیں ۔ جو عوام دن رات ٹک ٹوک ویڈیوز بنانے میں لگی رہتی ہے, اپنا قیمتی وقت فضول سی چیز پر لگا دیتی ہے ۔ وہ کبھی حفاظت نہیں کر پائے گی۔
○فلسطینیوں سے پوچھیں فوج کے بغیر زندگی کیسی ہے ۔ ہم وہ نا شکری قوم ہیں۔ جو اس نعمت کا شکر ادا کرنے کی بجائے, انہی کو زلیل کر رہے ہیں۔ ہم اپنے ہی محافظ بھائیوں پر پتھر برسا رہے ہیں, گالیاں دے رہیں ہیں, ار ان کے مین پر تپھر مار رہے ہیں۔ یہ کیسا پاکستان ہے ؟؟؟ علامہ اقبال نے ایسے پاکستان کا خواب تو نہیں دیکھا تھا۔ قائداعظم نے پاکستان اس لیے تو نہیں بنایا تھا۔ کل کو سب اپنے محافظوں پر ہاتھ اٹھانا اپنا فرض سمجھیں۔

آج میں اپنی ہونہار یوتھ کو بتائے دیتی ہوں۔ جو کہتے پھر رہیں ہیں, کہ ہم آرمی کو شکست دیں گے۔ پوری دنیا میں پاک افواج کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ اگر وہ چپ ہیں, تو اس لیے کیونکہ وہ اپنے ملک اور اپنے لوگوں سے محبت کرتی ہیں۔ جیسے ایک ماں اپنے پچے سے, چاہے بچہ کتنا ہی نا فرمان اور گناہ گار کیوں نہ ہو ۔ ورنہ عوام کو سیدھا کرنا پاک افواج کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔
میں اپنی عوام کو بتائے دیتی ہوں ۔ خدارا آنکھیں کھولیں, یہ وہی پاک فوج ہے, جس نے اپنے سینے پہ گولیاں کھائی ہیں۔ نہ جانے کب سے بھوکے, پیاسے ہمارے محافظ بارڈر پر آپ کی حفاظت کرنے کے لیے دن رات تیار کھڑے ہیں۔ جو اپنا سکھ لٹا کر آپ کو سکوں دے رہیں ہیں۔ یہ وہی ہیں جن کی ماؤں نے ان کو اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے لیے قربان کر دیا ہے ۔ کتنی بہنیں روز راہ تکتی ہیں , کہ انکا بھائی آئے گا, مگر ان کا بھائی ماتھے پہ شہادت لے کر گھر آتا ہے ۔ نہ جانے کتنی عورتوں کے سہاگ گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں ۔کتنے ہی بچے بے آسرا ہو جاتے ہیں۔ کتنی ہی آنکھیں منتظر ہوتی ہیں, اپنے پیاروں کی ایک جھلک کے لیے۔ مگر وہ نہیں آتے, کیونکہ ان کے لیے عوام اور اپنا ملک اہم ہوتا ہے۔
○کبھی درد محسوس کر سکو تو ان ماؤں, بہنوں اور بیویوں کا کرو۔ جو بس انتظار کرتے پوری عمر گزار دیتی ہیں۔ نہ جانے منتظر آنکھیں کب تک اشکبار رہتی ہیں۔
افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے۔ جس ملک کو دشمن نہیں ہرا سکے, آج اپنوں نے ہی ہرا دیا ہے ۔ اپنے ہی اپنے محافظوں کے دشمن بن گئے ہیں۔ ایسی قوم کا مستقبل کیسا ہو گا کبھی سوچا ہے ؟؟؟ ملک میں توڑ پھوڑ کرنے سے کس کو نقصان ہو رہا ہے, کون یہ نقصان پورا کرے گا؟؟؟ وہ سسکتے غریب لوگ جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ اب اپنا خون پسینہ ایک کر کے یہ سارا نقصان پورا کریں گے ۔
○اور میں آخر میں عوام کے لیے ایک سوال چھوڑے جا رہی ہوں۔ کیا کل کو اپنے محافظ بھائیوں اور شہداء کے گھر والوں کے سامنے سر اٹھا کے چل سکو گے, ان کے ساتھ یہ سب کرنے کے بعد ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں