154

ملک عمران کشمیری /تحریر/محمد ذیشان بٹ راولپنڈی

ساکوں شاکر یار دیاں گلیاں دا

ہک چکر لواء ملتان مل پووے

آج کی تحریر کا موضوع ہمارے انتہائی قابل دوست اور انتہائی پرکشش شخصیت کے مالک جناب ملک عمران صاحب جو کہ آزاد کشمیر کے عباس پور سے تعلق رکھتے ہیں کی ایک مقبول پوسٹ سے لیا گیا ہے۔ ملک صاحب کا کیا تعارف کرواؤں۔ حضرت بیالوجی کے بہترین مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ادیب ، شاعر اور اچھے کرکٹر بھی ہیں۔ لیڈنگ سکول میں ان کے ساتھ گزرا ہوا مختصر وقت بہت نایاب تھا ۔ خاص طور پر مولانا انور شاہ کاشمیری کی مشہور غزل چمن کو جب بھی لہو کی ضرورت پڑی سب سے پہلے ہماری ہی گردن کٹی پھر بھی کہتے ہیں ہم سے یہ اہل چمن یہ چمن ہمارا ہے تمھارا نہیںجو انھوں نے بہترین طرز میں سنائی تھی ۔حضرت کی یہ خوبی تھی کہ وہ محفل ہو یہ کلاس توجہ ہمیشہ اپنی طرف مرکوز رکہتے تھے اس خوبی سے آج کل کے زیادہ تر اساتذہ اور مقرر محروم ہیں اس بات سے تو قارئین بخوبی واقف ہیں کہ شاعر اپنی شاعری میں سوچ و فکر کے سمندر کو بند کرتا ہے۔ اب اس کے بعد یہ تشریح کرنے والے کی قابلیت ہے کہ وہ اس سمندر سے کتنے موتی نکالتا ہے۔ مزکورہ بالا شعر شاکر شجاع آبادی کا ہے۔ جو کہ سرائیکی زبان کے مشہور و معروف شاعر ہیں ۔ خصوصاً نوجوانوں میں ان کی شاعری بہت مقبول ہے ۔ اس شعر میں وہ یہ پیغام دیتا ہے کہ کسی بھی چیز پھر وہ چاہے علم ہو، دولت ہو، عزت ہو یا کسی کی دل چسپی یا لگاؤ حاصل کرنا ہو۔ اس کے لے آپ کو اپنا وقت دینا ہوگا۔ کافی محنت ومشقت کرنی ہوگی ۔ اس کے علاؤہ مستقبل مزاجی کی اشد ضرورت ہوگی۔ اس کے علاؤہ شاعری میں ہمیشہ حقیقی اور مجازی معنی بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ مجازی معنی کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔ ملک صاحب کی پوسٹ پر کمنٹس سے بھی یہ ہی اندازا ہوا۔ جبکہ حقیقی معنی میں شاعر غالبا یہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر ایک انسان سے محبت ہو اس کے در کہ اکثر چکر لگانے سے کبھی نہ کبھی تو اس کے دل میں ہمدردی پیدا ہوتی ہے پھر وہ بھی محبت میں گرفتارہوجا تا ہے یا کم سے کم محبوب کا دیدار تو نصیب ہو، اور اس سے وہ راحت حاصل کرسکے۔ تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنے خالق مالک و رازق جو انسان کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے کہ در کہ باقاعدگی سے روزانہ پانچ چکر لگائے ۔ اپنی زندگی اس کے محبوب کی تعلیمات کے مطابق گزارے تو وہ اس سے رازی نہ ہو۔ اسکی مراد نہ پوری کرے۔اخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ مالک کہ در پر جاتے رہیں ان شاءاللہ پھر آپ کو کسی کے در پر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ملک عمران صاحب کی صحت اور علم و عمل میں اللّٰہ پاک برکت دے۔ اور جلد ہی دوبارہ ان کی اور ان جیسے اہل علم کی صحبت نصیب فرمائے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں