
نبی اکرم صلی الله عليه وسلم کا فرمان ہے: ” تم میں سب سے بہتر وہ ہے، جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرتا ہو، اور میں تم سب سے بہتر سلوک کرتا ہوں۔” اگر اس فرمان مبارک کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو آپ صلی الله عليه وسلم ایک شوہر کی حیثیت سے بھی تمام انسانیت میں ممتاز نظر آتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات گیارہ تھیں، دو کی وفات تو آپ کی حیاتِ طیّبہ میں ہی ہو گئی تھی، جن میں سے ایک سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور دوسری سیّدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہاتھیں۔ بقیہ نو ازواج مطہرات آپ کی وفات کے وقت حیات تھیں۔
سب سے پہلا نکاح ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہاسے پچیس سال کی عمر میں ہوا، اس وقت سیّدہ کی عمر مبارک چالیس سال تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ سے حد درجہ محبت فرماتے تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب تک آپؓ زندہ رہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دوسرا عقد نہیں فرمایا۔ اس کے بعد یکےبعد دیگرے دوسری ازواج سے عقد فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سیّدہ خدیجہ کا ذکر فرماتے تو ان کی تعریف فرماتے اور بہت زیادہ فرماتے۔ مجھے ایک روز (بہت) رشک ہوا اور میں نے کہا ”کیا آپؐ ایسی عورت کاکثرت سے ذکر فرماتے ہیں جس کی باچھیں لال تھیں؟ (یعنی دانت ٹوٹ جانے کی وجہ سے جلد سرخ نظر آنے لگی تھی) اللہ تعالیٰ نے اس کی جگہ اس سے اچھی دے دی(یعنی کہ میں)۔” آپؐ نے فرمایا: ”اس سے اچھی اللہ تعالیٰ نے مجھےنہیں دی (یعنی تم ان سے اچھی نہیں ہو کیونکہ) وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائیں جب اور لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور ایسے وقت میں میری تصدیق کی جب اوروں نے میری تکذیب کی اور انہوں نے میری مالی مدد کی جب کہ اور لوگوں نے مجھے محروم رکھا، اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے اولاد دی جبکہ دوسری بیویوں سے مجھے اولاد نہیں دی۔” (مسندامام احمد) اس حدیث مبارکہ سے ایک تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اپنی بیوی سے والہانہ محبت اور تعلق واضح نظر آتا ہے۔ دوسری یہ بات پتہ چلتی ہےکہ بیوی کی تعریف کرنا کوئی جرم نہیں ہے، چاہے دوسری بیوی کے پاس ہی کیوں نہ ہو۔
یہ حدیث تو خاص حضرت خدیجہ سے آپ کی الفت و محبت کو ظاہر کرتی ہے، جب کہ آپ صلی الله عليه وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات سے اسی طرح تعلق اورلگاؤ رکھتے تھے۔ جیسا کہ احادیث میں ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ مذکور ہے، کسی نے ان کے چھوٹے قد کا مذاق اڑایا تو حضور اکرم صلی الله عليه وسلم نے اسے فرمایا: ” تو نے ایسا کلمہ کہا کہ اگر اس کو سمندر کے پانی میں ڈال دیا جائے تو وہ سارے سمندر کو گدلا کر دے۔” (رواہ ابو داؤدوالترمذی،زرقانی ص347) آپ نے برداشت نہیں فرمایا کہ کوئی آپ کی زوجہ کو مذاق کا نشانہ بنائے، ناراضی کا اظہار فرمایا اور تنبیہ فرمائی ۔
یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح اور عیاں ہے کہ آپؐ اپنی ازواج مطہرات کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھتے تھے، ان کے درمیان فرق نہیں فرماتے تھے۔ رہی محبت کی بات تو اللہ رب العزت کے حضور اکثر فرمایا کرتے: ”اے میرے رب! جس کا مجھے اختیار ہےاس کی تقسیم تومیں نے مساوی طور پر کر دی لیکن جو بات میرے بس میں نہیں ہے اس پر مجھے ملامت نہ کیجئے گا۔”
جناب عارف باللہ ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”اسوہ رسول اکرم صلی الله عليه وسلم” میں یہ حدیث مبارکہ نقل فرما کر اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ ”اختیاری چیز سے مراد معاملات و معاشرت ہے جب کہ غیر اختیاری سے مراد محبت ومیلان طبع ہے۔” معلوم ہوا، جو افعال بندے کے اختیار میں ہیں پوچھ انہیں کے بارے میں ہو گی، جو غیر اختیاری ہیں وہ الله تعالیٰ کی جانب سے ہیں، ان پر کوئی سرزنش نہیں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی میں اپنی ازواج مطہرات سے برابر کا سلوک، خوش اخلاقی اور دل لگی آپ کے اعلیٰ اخلاق کی بہترین مثالیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم باری کی اتنی پابندی فرماتے تھے کہ کبھی کسی زوجہ کو دوسری پر ترجیح نہ دیتے اور بہت کم ایسا ہوتا تھاکہ آپ تمام ازواج کے ہاں روزانہ تشریف نہ لے کر گئے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا روزانہ کا معمول تھا عصر کی نماز کے بعد تمام ازواج مطہرات کےپاس ان کے گھروں میں تشریف لے جاتے، ان کے پاس بیٹھتے، ان کے حالات معلوم کرتے، جب رات ہوتی تو وہاں تشریف لے جاتے جہاں باری ہوتی اور رات وہیں گذارتے ۔
ذرا غور کریں! آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم باوجود اتنےبڑےمنصب یعنی منصب نبوت پر فائز ہونے کے، نہ صرف اپنی ازواج کے حقوق کا خیال فرماتے بلکہ اپنی تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے روزانہ سب کے گھروں میں تشریف لے کر جاتے۔ جب آپ سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ ڈالتے جس زوجہ کا نام نکلتا وہ سفر میں آپؐ کے ہمراہ ہوتیں ۔
باوجود سیدالانبیاء ہونے اور اتنے بڑے عہدے پر سرفراز ہونے کے آپؐ نےکبھی اپنے آپ کو گھریلو زندگی سےعلیحدہ نہیں سمجھا بلکہ اکثر گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹا دیا کرتے مثلاً،آٹا گوندھ دیتے اور بازار سے سودا سلف خرید لاتے۔ کبھی اپنے آپ کو اپنی ازواج سے ممتاز نہیں سمجھتے تھے بلکہ بسااوقات ایسا ہوتا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پانی پی رہی ہیں، آپؐ پیالہ ان کے ہاتھ سے لیتے اور اپنے لب مبارک وہیں لگا دیتے جہاں سے سیّدہ نے پیا تھا۔ اور جب وہ ہڈی سے گوشت کھاتیں تو آپ وہ ہڈی جس پر گوشت ہوتا لے کروہاں منہ لگاتے جہاں سے سیّدہ عائشہ نے کھایا۔ ایک دفعہ آپ نے حضرت عا ئشہ کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا، حضرت عائشہ سبقت لے گئیں۔ پھر کچھ زمانہ کے بعد دوسری مرتبہ دوڑ ہوئی اس بار آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آگے نکل گئے۔ وجہ یہ تھی کہ پہلی مرتبہ سیّدہ عائشہ صدیقہ دبلے جسم کی تھی جبکہ دوسری دوڑ کے وقت آپ کا جسم بھاری ہو گیا تھا، حضور اکرم صلی الله عليه وسلم نے فرمایا : ”پہلی مرتبہ تم نے مجھے ہرا دیا تھا یہ اس کا بدلہ ہے۔” (مدارج النبوۃ)
یہ بات قابل غور ہے کہ وقت کا نبی اور دو جہانوں کے بادشاہ ہو کر بھی نہ ازواج کے درمیان فرق، نہ ان سے برا سلوک، اورنہ ہی کوئی تکلف اور نخرا؛ جہاں سے بیوی نےکھایا وہیں سے خود کھایا، جہاں سے بیوی نے پیا وہیں سے خود پیا، کہیں بیوی کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ ہورہا ہے اور کبھی ہنسی مذاق کیا جا رہا ہے۔
بعض اوقات ازواج مطہرات ادھر ادھر کے قصے یا گذرے واقعات بیان کرتیں تو آپ صلی الله عليه وسلم برابر سنتے رہتے اور کبھی کبھار خود بھی اپنے اور گذشتہ قوموں کے قصّے بیان فرماتے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، آپ ہم میں اس طرح ہنستے بولتے اور بیٹھے رہتے تھے کہ معلوم ہی نہیں ہو تھا کہ کوئی الوالعزم پیغمبر ہیں، لیکن جب کوئی دینی بات ہوتی یا نماز کا وقت آجاتا تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ وہ آدمی ہی نہیں ہیں جو پہلے تھے ۔ یہ محبت اور تعلق یک طرفہ ہی نہیں تھا بلکہ ازواج مطہرات بھی آپ پر اپنی جان چھڑکتی تھیں۔
ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان کا قصہ مشہور ہے کہ ابوسفیان ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے مدینہ منورہ تشریف لائے اور اپنی بیٹی سے ملنے گئے۔ بستر بچھا ہوا تھا اس پر بیٹھنے لگے تو بیٹی نے بستر الٹ دیا۔ باپ نے وجہ پوچھی تو کہنے لگیں ”یہ پستر اللہ تعالیٰ کے پاک اور لاڈلے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہےاور میں یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ آپ جو کفر و شرک کی وجہ ناپاک ہیں اس بسترپر بیٹھیں۔” گویا باپ کے مقابلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ترجیح دی۔ اس واقعہ سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو حضور سے کتنی محبت تھی؟
”اسوہ حسنہ” میں مرقوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے ازواج مطہرات کو کھانے، پینے اور پہننے میں کوئی روک ٹوک نہیں تھی؛ جو چاہتیں، کھاتیں اور پہنتیں یہ الگ بات ہے کہ ان کی اختیاری تنگ دستی کی وجہ سے اچھا کھانا میسر نہ آتا۔ کیونکہ وہ اتنی فیاض تھیں کہ جو تھوڑا بہت روپیہ رقم ہاتھ آتا اسے راہ خدا میں دے دیتیں۔ ہاں! البتہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اہل بیت کے لیے سونے چاندی کے زیورات نا پسند فرماتے تھے۔ اس زمانہ میں ہاتھی دانت کے زیورات پہننے کا رواج تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اسی قسم کے زیورات پہننے کا حکم فرماتے۔ بیویوں کا پاک صاف رہنا پسند فرماتے۔ ان پر طعن و تشنیع نہ کرتے اور نہ ہی ان سے سخت لہجے میں بات کرتے۔ اگر کوئی بات ناگوار ہوتی تو التفات میں کمی فرما دیتے۔ مثلاً واقعہ افک یعنی جب حضرت عائشہ ؓ پر منافقین نے تہمت لگائی تو حضوؐر نے ان کی طرف التفات نہیں فرمایا جس پر وہ اجازت لے کر اپنے والدین کے گھر آگئیں ۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب حضور اکرم ؐ گھر کے اندر تشریف لاتے تو نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ مسکراتے ہوئے داخل ہوتے ۔ غرض آپؐ میں وہ تمہیں صفات بدرجہ اتم موجود تھیں جو آپؐ کو بنی نوع انسان کا سب سے اچھا اور بلند مرتبہ شوہر ثابت کرتی ہیں۔ اگر آج بھی حضوؐر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازدواجی زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے خانگی امور اور معاملات کا حل تلاش کیا جائے تو ہمیں معاشرے کے تقریباً اسی فی صد لڑائی جھگڑوں سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ دیکھا جائے تو آج کل زیادہ تر جھگڑوں کا سبب میاں بیوی کے آپس کے مسائل ہیں۔ ورنہ روز بروز بڑھنے والے لڑائی جھگڑوں اور فسادات سے بچنا مشکل ہو جائے گا اور سوائے دنگے فساد کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔