87

چھوٹا کون؟؟ بڑا کون؟؟/تحریر/محمد ھارون عثمانی/متعلم جامعہ اشرفیہ لاہور

مشرقی زمینوں سے سورج رخصت ہونے کو تھا۔ اور ارضِ مغرب پر مُرغ مسلسل بول کر سورج کے طلوع ہونے کی خبریں دینے لگے تھے اور معصوم بھوکے پرندے شدت سے اس کی کرنوں کے منتظر تھے اور ہم یہاں لاہور کی اکبری منڈی میں ڈوبتے سورج کی ملائم روشنی میں محوِ خریداری تھے کچھ وقت بعد آسمان پر اُڑتے پرندے اپنے اپنے گھونسلوں کی طرف اُڑ چلے اور ہم اہل زمین بھی اپنے اپنے ٹھکانوں کو چل دیے تھے کہ ہماری نظر ایک سائیکل سوار پر پڑی جو اپنی سائیکل پر چھوٹی چڑیوں کا ایک بڑا پنجرہ باندھے ہوئے تھا اور دن بھر کی نقاہت اس کے چہرے پر آویزاں تھی وہ تھکا ہارا اور مایوس سائیڈ پر کھڑا اُن چھوٹی چڑیوں کی گھمبیر چہچہاہٹ سے بے خبر تھا جنہیں خدا جانے اس نے کتنے مہینوں یا سالوں سے قید کر رکھا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے فشارِ خون سے رنگین چہرے اور تیزی سے متحرک ہاتھوں کے ساتھ اُس نے بڑے پنجرے کا چھوٹا دروازہ کھولا اور چُلو بھر بھر کر چھوٹی ننھی منھی چڑیوں کو ہوا میں بکھیرنے لگا۔تمام تر تھکاوٹ و نقاہت اب ڈوبتے سورج کے سنگ ہو چکی تھی چمکتے دمکتے چہرے کے ساتھ اُس نے برسوں سے قید چڑیاں منٹوں میں آزاد کر دیں پھر وہ پُھرتی سے ساتھ والی دُکان کی طرف بھاگا،وہاں سے کلکولیٹر اُٹھایا اور اپنی چھوٹی سائیکل کے ساتھ کھڑی بڑی kia Sportage کار کے ڈرائیونگ دروازے پر جا کر مؤدب کھڑا ہو گیا۔ ٹَک ٹَک کلکولیٹر کے بٹن دبائے اور مشتاق نظروں سے کچھ دیر کھڑا رہا۔چند سیکنڈز بعد کار کے دروازے سے RADO کی گولڈن گھڑی پہنے ایک ہاتھ ہزار کے کچھ نوٹ تھامے نمودار ہوا۔سائیکل سوار نے نوٹ تھامے ہاتھ چوما،کار آگے بڑھی وہ پیچھے ہٹا اور بھری جیب خالی پنجرہ لئے گھر کو چل دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں