کسی کتاب میں کھو جانا ایسا ہے جیسے ہم ایک الگ ہی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ وہ دنیا جو کبھی خوابوں کی دنیا لگتی ہے، کبھی حقیقت کی اور کبھی ہماری خود کی تخلیق کی ہوئی خیالات کی دنیا جو ہمیں سمندر کی آتی لہروں کی موجوں کی طرح حسین تر لگتی ہیں۔ کتاب کی دوستی ایسی ہے کہ اس کو پڑھنے والا اس کے لفظوں کی کشش سے اس میں سماں جاتا ہے۔ جیسے ہی ہم کسی کتاب کو کھول کہ اس کے الفاظ پڑھتے ہیں ہم ان لفظوں میں مگن اور کھو جاتے ہیں۔ وہ الفاظ جس کے ہر کردار، ہر بات کو ہم محسوس کرتے ہیں۔ خود کو ان لفظوں کے مطابق ڈھال لیتے ہیں جیسے ہر وہ لفظ وہ خیال، احساس، جذبات ہمارے اپنے ہوں۔ ہم ان لفظوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، ان کی محبت و احساسات میں ڈوب جاتے ہیں کہ ہم اسی دنیا میں خود کو تصور کرتے ہیں۔
کتاب میں کھو جانے کا نشہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اس کے لفظوں میں مدہوش ہو کر ان کے ساتھ ان کی دنیا میں بستے ہیں۔ ہمیں کتابوں میں ایک خوبصورت، احساس، پیار، اپنا پن ملتا ہے جو ہمیں کتابوں کے جادو سے اس کو پڑھنے کا اتنا دیوانہ کر دیتا ہے کہ جب تک ہم کتاب نہ پڑھیں ہمیں نیند نہیں آتی۔ کتاب واحد وہ سہارا ہے جو انسان کو کبھی تنہا نہیں ہونے دیتا۔ کتاب انسان کے ہر قدم ہر موڑ پر بہترین ساتھی بن جاتی ہے۔ جینے کی وجہ بن جاتی ہے۔ کتابوں کو پڑھنے اور کتابوں کو سنمبھال کر رکھنے والے بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔ جو کتابوں سے محبت کرتے ہیں اور لفظوں میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ وہ الفاظ ہمارے جذبات و خیالات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہم انہی لفظوں میں اس دنیا میں کھو جاتے ہیں اور اس خواب خیال کو سچ سمجھتے ہیں۔
45