0

گوگل کے 27 سال کا سفر، علم اور انقلاب/تحریر/محمد اویس شاہد

گوگل کے 27 سال کا سفر، علم، اور انقلاب

محمد اویس شاہد

اکیسویں صدی کی سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک گوگل کا ہمارے روزمرہ کی زندگی میں شامل ہونا ہے۔ اگر ہم آج سے 27 سال پہلے کی دنیا کا تصور کریں تو یہ سوچنا بھی مشکل لگتا ہے کہ کوئی ایک کمپنی معلومات تک رسائی کو آسان بنا کر دنیا کو باہم اتنا مربوط کر دے گی کہ یہ ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن جائے گی۔ 27 ستمبر کو گوگل اپنی ستائیسویں سالگرہ منا رہا ہے، دو دہائیوں سے کچھ زیادہ عرصے میں، اس نے ایک سادہ سرچ انجن سے بڑھ کر ایک ایسی ٹیک جائنٹ کی شکل اختیار کر لی ہے جو ہمارے کام کرنے، سیکھنے، اور جینے کے طریقوں کو مکمل طور پر بدل چکی ہے۔
گوگل کی کہانی دو پی ایچ ڈی طلباء، لیری پیج اور سرگئی برن کی ایک انقلابی سوچ سے شروع ہوئی۔ 1996 میں سٹینفورڈ یونی ورسٹی میں وہ ایک ایسے سرچ انجن پر کام کر رہے تھے جو ویب پیجز کی درجہ بندی ان کی لنکس کی اہمیت کے مطابق کر سکے۔ اس وقت کے موجودہ سرچ انجن محض کی ورڈز کی بنیاد پر نتائج دکھاتے تھے، جو اکثر غیر متعلقہ ہوتے تھے۔ لیری اور سرگئی نے پیج رینک نامی ایک الگورتھم تیار کیا، جس نے ویب پیجز کو ان کی مقبولیت اور باہمی لنکس کی بنیاد پر ترتیب دینا شروع کیا۔ یہ ایک سادہ مگر انتہائی طاقت ور آئیڈیا تھا جس نے انٹرنیٹ کی دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ 4 ستمبر 1998 کو انہوں نے گوگل کی باقاعدہ بنیاد رکھی۔ نام دراصل ریاضی کی ایک اصطلاح گوگول سے ماخوذ تھا، جس کا مطلب 1 کے بعد 100 صفر ہوتا ہے، جو قیام کے وقت ہی انٹرنیٹ پر موجود بے پناہ معلومات کو منظم کرنے کے ان کے عزائم کا عکاس ہے۔
شروعات میں گوگل ایک چھوٹے سے گیراج میں شروع ہوا، لیکن اس کی تیز رفتار ترقی نے جلد ہی سب کو حیران کر دیا۔ 2000 کی دہائی کے اوائل تک، گوگل سب سے بڑا اور مقبول سرچ انجن بن چکا تھا۔ اس کے بعد گوگل نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پھر 2004 میں جی میل کا آغاز ایک بڑا سنگ میل تھا، جس نے ای میل سروسز میں ایک نئی جان ڈال دی۔ اس وقت کی ای میل سروسز کے مقابلے میں جی میل نے بہت زیادہ سٹوریج کی جگہ فراہم کی اور اس کا انٹرفیس بھی بہت تیز اور جدید تھا۔ پھر 2005 میں گوگل نے گوگل میپس متعارف کرایا گیا، جس نے نیویگیشن کے تصور میں انقلاب برپا کیا۔ یہ وہ دور تھا جب لوگ کاغذی نقشے استعمال کرتے تھے، جب کہ گوگل میپس نے سڑکوں اور مقامات کو ہمارے ہاتھوں میں موجود سمارٹ فونز میں لا کھڑا کیا ہے۔ 2006 میں یوٹیوب کی خریداری نے گوگل کو ویڈیو شیئرنگ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بنا دیا۔ اس خریداری نے صارفین کو نہ صرف ویڈیوز دیکھنے بل کہ اپنا مواد تخلیق کرنے اور پوری دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کا ایک مفت پلیٹ فارم مہیا کیا۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ گوگل نے کس طرح مختلف شعبوں میں قدم رکھا اور کام یابی حاصل کی۔ پھر 2008ء میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کی لانچنگ نے گوگل کو موبائل ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی ایک کلیدی کھلاڑی بنا دیا۔ اینڈرائیڈ ایک اوپن سورس پلیٹ فارم تھا جس نے بہت سی کمپنیوں کو سمارٹ فونز بنانے کا موقع دیا، جس کی وجہ سے یہ بہت تیزی سے پھیل گیا۔ آج اینڈرائیڈ دنیا کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا موبائل آپریٹنگ سسٹم ہے۔ گوگل نے اس کے بعد بھی بہت سی دیگر سروسز متعارف کروائیں جیسے گوگل کروم (ویب براؤزر)، گوگل ڈرائیو (کلاؤڈ سٹوریج)، اور گوگل فوٹوز (تصاویر کو منظم و محفوظ کرنے کے لیے)۔ ان تمام مصنوعات کا مقصد صارفین کی زندگی کو آسان بنانا اور ڈیجیٹل دنیا میں ان کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ یہ وہ سہولیات ہیں جو ہم آج استعمال کرتے ہیں اور ان کے بغیر اپنی ڈیجیٹل زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گوگل کی آمدنی کا بڑا ذریعہ اس کی اشتہاری سروسز ہیں، جو کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی تشہیر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں اور ویب سائٹ کے مالکان کو آمدنی کا ایک مؤثر ذریعہ مہیا کرتی ہیں۔
پچھلے کچھ سالوں میں گوگل کی سب سے بڑی توجہ کا مرکز مصنوعی ذہانت (AI) رہی ہے۔ گوگل نے AI کو اپنی تمام مصنوعات میں ضم کرنا شروع کر دیا ہے۔ آج ہم جو کچھ بھی گوگل پر تلاش کرتے ہیں، اس میں AI کا کردار بہت اہم ہے۔ گوگل اسسٹنٹ، جو ہمارے سمارٹ فونز اور سمارٹ سپیکرز میں موجود ہے، ہمیں صرف ایک آواز کی مدد سے کام کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ تصاویر میں اشیا کی شناخت کرنے، ٹیکسٹ کو ترجمہ کرنے، اور ہماری آواز کے مطابق کمانڈز پر عمل کرنے کی صلاحیتیں AI کی ہی مرہون منت ہیں۔ گوگل نے AI کی مدد سے صحت، تعلیم اور ماحولیاتی مسائل جیسے شعبوں میں بھی بہت سے منصوبے شروع کیے ہیں۔ گوگل ٹرانسلیٹ جو کبھی ایک سادہ ٹول تھا، آج AI کی مدد سے بہت درست اور فطری ترجمہ فراہم کرتا ہے۔ AI اب گوگل کی ہر سروس کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، چاہے وہ سرچ نتائج کو بہتر بنانا ہو، سپیم ای میلز کو فلٹر کرنا ہو، یا خودکار ڈرائیونگ والی کاریں بنانا ہو۔ حال ہی میں جیمینائی جیسے بڑے لسانی ماڈلز کا اجرا اس بات کا ثبوت ہے کہ گوگل کس قدر تیزی سے AI کی دنیا میں آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ماڈلز صارفین کے سوالات کو سمجھنے، ان کا تجزیہ کرنے اور تخلیقی مواد تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
گوگل نے 27 سالہ ٹیکنالوجی کے سفر میں بے شمار کام یابیاں سمیٹی ہیں، لیکن اس نے کئی تحدیات کا سامنا بھی کیا۔ گوگل پر وقتاً فوقتاً ڈیٹا پرائیویسی اور صارفین کے ڈیٹا کے استعمال کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے گئے، مختلف ممالک میں گوگل کو اجارہ داری کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا، ان تمام چیلنجز کے باوجود، گوگل نے ہمیشہ اپنے آپ کو بدلنے اور بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ صرف ایک کمپنی نہیں، بل کہ ایک ایسی قوت ہے جس نے علم و معلومات کو حقیقتاً جمہوری بنایا ہے، یعنی اس نے ہر اس شخص کو جو انٹرنیٹ سے منسلک ہے، معلومات تک رسائی کا موقع دیا ہے۔ آج ہم کسی بھی سوال کا جواب صرف چند سیکنڈز میں حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی بھی جگہ کا راستہ جان سکتے ہیں، اور دنیا بھر کی خبروں سے باخبر رہ سکتے ہیں۔
معزز قارئین! اس تمام پیش رفت کے باوجود، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی ایک دو دھاری تلوار کی طرح ہے۔ گوگل اور اس جیسی کمپنیاں ہمیں جو طاقت ور ٹولز فراہم کرتی ہیں، ان کا درست استعمال ہماری اپنی ذمے داری ہے۔ محض ایک سرچ انجن پر بھروسہ کرنے کے بہ جائے ہمیں معلومات کی تصدیق کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں اور گمراہ کن معلومات سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم تعمیری سوچ اپنائیں اور مختلف ذرائع سے معلومات کا جائزہ لیں۔ مثال کے طور پر، صحت سے متعلق کسی بھی معلومات کی تصدیق کے لیے صرف ایک ویب سائٹ پر انحصار کرنے کے بہ جائے مستند طبی اداروں کی ویب سائٹس کو دیکھیں۔ اسی طرح، گوگل میپس پر کسی جگہ جانے سے پہلے اس کے ریویوز اور تصاویر کا بہ غور مطالعہ کرنا ہمیں غیر ضروری پریشانیوں سے بچا سکتا ہے۔ ایسے ہی گوگل یا دیگر سرچ انجںز پر موجود غیر اخلاقی مواد سے بچںا بھی ہماری اپنی دات رس اور کوشش پر منحصر ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال بھی محتاط رویے کا تقاضا کرتا ہے۔ جہاں AI ہمارے بہت سے کاموں کو آسان بنا سکتا ہے، وہیں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ محض ایک ٹول ہے۔ یہ ہماری جگہ نہیں لے سکتا، بل کہ ہمارے کام میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، AI سے کسی مضمون کا مسودہ (صرف اپنی معلومات کے لیے) تیار کروانے کے بعد اس کی زبان، مواد اور حقائق کی تصدیق خود کرنا ضروری ہے۔ ایسا کرنے سے ہم نہ صرف اپنی تخلیقی اور تجزیاتی صلاحیتوں کو برقرار رکھ پائیں گے، بل کہ غلطی کا امکان بھی کم کر سکیں گے۔ بالآخر، ٹیکنالوجی کا مقصد انسان کو بہتر بنانا ہے نہ کہ اس کی جگہ لینا۔ ان ٹولز کا صحیح استعمال ہمیں مزید باشعور، باخبر اور ذمے دار شہری بناتا ہے۔
آج کی ڈیجیٹل دنیا میں، گوگل کا کردار ایک رہ نما کا ہے، جو ہمیں معلومات کے سمندر میں راستہ دکھاتا ہے۔ یہ ہمارے ہاتھوں میں موجود ایک ایسا چراغ ہے جو علم کی روشنی بھی بکھیرتا ہے، اور شعور بھی فراہم کرتا ہے۔ بلاشبہ، گوگل نے انٹرنیٹ کو زیادہ منظم، قابلِ رسائی اور طاقت ور بنایا ہے اور اس کے مستقبل کے منصوبے ٹیکنالوجی کی دنیا میں مزید نئے اور حیرت انگیز انقلاب لانے کا عندیہ دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں