209

خطیب العصر علامہ سید عبدالمجیدندیم شاہ/(قسط نمبر 1) محمد اورنگزیب اعوان کی نظر میں

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
سید عبدالمجید ندیم بلاشہ اپنے دور کے خطیب اعظم تھے۔۔۔مخصوص انداز خطابت نے انھیں پوری دنیا میں متعارف کرایا۔۔۔قرآن مجید وہ ایسے تلاوت کرتے تھے گویا سننے والوں پہ جادو کر دیتے ۔۔۔سامعین ان کی خطابت کے سحر میں ڈوب جاتے۔۔۔دسمبر 2015ء میں ان کا انتقال ہوا مگر آج بھی ان کی تقاریر سنی جائیں تو ایک خاص کیفیت طاری ہو جاتی ہے، چلتے قدم رک جاتے ہیں۔۔۔اور۔۔۔آنسوؤں کی لڑیاں رکنے کا نام نہیں لیتیں۔
قد کاٹھ، وجاہت، رکھ رکھاؤ، نفاست و نزاکت میں بھی شاہ صاحب اپنی مثال آپ تھے۔
ان کے گلے نے آخر تک ان کا خوب ساتھ دیا۔۔وہ اپنی صحت اور خوراک کا خاص خیال رکھتے تھے، اور اس معاملہ میں وہ کسی سمجھوتہ کے قائل نہ تھے۔جہاں وہ ہمیشہ صاف ستھرا لباس زیب تن کرتے تھے وہیں خوردونوش کے معاملہ میں بھی خوب احتیاط برتتے تھے۔
استاذ محترم حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے” چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ ” کی جلد اول میں ان سے متعلق خوب لکھا:
” مولانا سید عبدالمجیدندیم خوب نفیس اور نستعلیق قسم کے انسان تھے۔زندگی بھر جن دوستوں کو خطاب کے لئے وقت دیتے اپنی شرائط کے ساتھ وقت عنایت کرتے تھے اور داعی کے لئے ان شرائط کی پابندی لازمی تھی۔اشتہار،سٹیج، سپیکر،سواری، رہائش، احتیاطی کھانا تمام تفصیلات ارشاد فرما دیتے۔اس سے انہوں نے زندگی بھر بے تاج بادشاہی کی۔وہ خطیب ایسے تھے کہ دوست بلاتے اور خوب بلاتے۔ایک زمانہ میں کوئی بڑا جلسہ ان کے بغیر نہ ہوتا تھا اور خطاب بھی ایسا لاجواب کہ دنیا عش عش کر اٹھتی۔”
اسی طرح محترم عبدالرزاق عادل نے قاری شمس الدین شمسی صاحب کی کتاب” کاروان جمعیت” جلد دوم میں شاہ صاحب کے حوالہ سے لکھا:
” دوران تعلیم ہی طبعی رجحان کی وجہ سے خطابت میں رنگ جمانا شروع کیا۔آسمان خطابت ان دنوں بے مثال خطباء اور دلنشین واعظین کی کہکشاں سے مزین تھا۔ایسے میں ایک ننھے ستارے کا ضوفشانی میں ممتاز ہونا معمولی بات نہ تھی لیکن شاہ جی نے اخلاص و محنت اور عزم مصمم سے یہ معرکہ اس انداز میں سر کیا کہ ایک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔آپ اپنی نوعیت کے منفرد خطیب تھے۔1970ء کی دہائی آپ کی خطابت کا عروج تھا اور تقریبا” تین دھائیاں آسمان خطابت پر آپ کی بادشاہت قائم رہی۔خطیب العصر، شہنشاہ خطابت اور شہباز خطابت کے الفاظ واقعتا” آپ کے نام نامی کے ساتھ سجتے تھے۔ان کے وارفتگان و دلدادگان کا حلقہ پشاور تا کراچی قصبہ قصبہ اور قریہ قریہ تک محیط تھا۔یہی کیا بلکہ بیرون ممالک بھی ان کو پذیرائی ملنا شروع ہوئی اور تقریبا” ایشیاء، افریقہ اور یورپ کے اکثر ممالک میں آپ کے تبلیغی اسفار ہوئے۔آپ کی خطابت لگے بندھے موضوعات تک محدود نہ تھی بلکہ ان کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ وسیع تر تھا۔”
دھمتوڑ، نواں شہر، ایبٹ آباد، ہری پور، راولپنڈی، اسلام آباد اور چناب نگر کی کانفرنسوں کے موقع پر شاہ صاحب کو سننے اور خدمت کے مواقع نصیب ہوئے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر اسلام آباد اور جامع مسجد دارالسلام حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی دامت برکاتہم کے ہاں۔۔۔ راولپنڈی کرتارپورہ قاری نیاز صاحب کی مسجد میں شاہ صاحب سے طویل نشستیں ہوئیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں خدمت کے مواقع ملے۔
28 جولائی 1989ء بروز جمعتہ المبارک؟منڈیاں، ایبٹ آباد حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب رحمہ اللہ کی مسجد میں شاہ صاحب کی موجودگی میں چند کلمات کہنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔اور اس کا سبب بنے تھے معروف مجاہد ختم نبوت جناب حفیظ الرحمٰن صاحب۔۔این۔آر۔ٹی۔سی والے۔اللہ تعالٰی انھیں جزاء خیر دیں۔
ایبٹ آباد جناح باغ میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ماڈل کیفے کے اوپر ختم نبوت یوتھ فورس کا دفتر تھا ۔۔۔وہاں شاہ صاحب کا قیام تھا، وہیں ان کی خدمت میں حاضری اور کانفرنس میں لاجواب خطاب کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب بھی اس کانفرنس بھی مدعو تھے۔مگر کسی مصروفیت کے باعث انہوں نے معذرت کر لی تھی تو ان کی جگہ فیصل آباد سے صاحبزادہ طارق محمود صاحب تشریف لائے تھے۔
کانفرنس کے بعد بھی صاحبزادہ صاحب نے جماعتی کارکنوں سے گفتگو فرمائی تھی۔اللہ تعالٰی درجات بلند فرمائیں۔
20۔اگست 1989ء ۔۔۔ہری پور میں امیرشریعت کانفرنس سے شاہ صاحب کا خطاب اور سامعین کے اصرار پر سورہ یوسف کی تلاوت۔۔۔صدر کانفرنس حضرت مولانا قاضی شمس الدین رحمہ اللہ کے عصا پر خطیب شہر قاری محمد بشیر مرحوم کا رومال رکھ کے فضاء میں بلند کر کے ان آیات کی منظرکشی۔۔کیا خوبصورت منظر تھا۔جلسہ گاہ تو کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، اس کی دیواروں اور قریب کے درختوں پہ چڑھ کر اہلیان ہری پور نے شاہ صاحب کا خطاب سنا تھا۔حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب بھی اس موقع پر موجود تھے اور بڑے انہماک سے شاہ صاحب کا خطاب سماعت فرما رہے تھے۔ایبٹ آباد کے عظیم مجاہد حضرت مولانا حبیب الرحمٰن بھی سٹیج پہ تشریف فرما تھے۔
جاری ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں