Wajiha-Idrees 0

ہمارے قلم کار/تعارف/محترمہ وجیہہ ادریس آلہ آبادی

ادب کے افق پر جب ہم ان شخصیات کو تلاش کرتے ہیں جنہوں نے کم عمری میں ہی قلم کی حرمت کو سمجھا، تو ان ہی تابندہ ناموں میں ایک روشن نام محترمہ وجیہہ ادریس کا نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔

22 فروری 2004 کو الہ آباد کے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولنے والی محترمہ وجیہہ ادریس کا تعلق پاکستان کے تاریخی ضلع قصور سے ہے۔ بچپن ہی سے مذہبی ماحول اور علمی ذوق نے آپ کی شخصیت میں سنجیدگی، شائستگی اور فکری گہرائی پیدا کی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے نہ صرف دنیاوی تعلیم بلکہ دینی علوم میں بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

آپ نے 2024 میں پنجاب یونیورسٹی سے زولوجی اور باٹنی میں گریجویشن کی اسی دوران آپ نے فہم القرآن، دورہ تفسیر، دورہ صفہ، تجوید اور متعدد دیگر اسلامی کورسز نامور علما سے مکمل کیے۔ فی الحال آپ النور انٹرنیشنل کالج میں دینی تعلیم کے اعلیٰ مدارج میں زیرِ تعلیم ہیں۔

محترمہ وجیہہ ادریس نے محض اٹھارہ برس کی عمر میں معاشرتی و معاشی مسائل پر قلم اٹھا کر اپنی فکری پختگی کا ثبوت دیا۔ ان کی تحریروں میں حق و باطل کی تمیز، صداقت، اخوت، معاشرتی اصلاح اور انسان دوستی کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ بیس برس کی عمر تک آپ کے افسانے، کہانیاں، کالم، منظر نگاری، افسانچے اور ادبی تبصرے متعدد معروف پلیٹ فارمز پر شائع ہو کر قارئین کی توجہ حاصل کر چکے تھے۔

آپ کی ادبی خدمات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں۔ انڈیا رائٹنگ مقابلہ جات 2024 میں آپ نے اول درجہ حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ آپ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں مختلف ادبی و صحافتی پلیٹ فارمز سے بطور مقابلہ انچارج، پروف ریڈر، ایڈیٹر اور جج منسلک ہیں۔

وجیہہ ادریس اس وقت روزنامہ راہنما میں مقابلہ انچارج کے عہدے پر فائز ہیں اور اس ادارے سے بہترین کارکردگی ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ آپ بیک وقت 20 سے زائد ادبی و صحافتی اداروں سے منسلک ہیں جن میں نمایاں نام شامل ہیں:

ڈیلی راہنما، روزنامہ ہم عوام نیوز، روزنامہ طالب نظر، روزنامہ پاکستان، صنفِ آہن ڈائجسٹ، رشدوہدایت میگزین، روزنامہ لاہور رنگ، دارالادب اکیڈمی، ماہ نامہ روح انٹرنیشنل، کتاب نگری ویب سائٹ، بزمِ عین عشق آفیشل، ماہ نامہ حرف آشنا، جی ایل سی پی (انڈیا) اور دیگر بین الاقوامی ادارے۔

ادب کے میدان میں آپ کی تخلیقات کئی انتھالوجی کتب کا حصہ بن چکی ہیں، جن میں انڈیا کی معروف انتھالوجی “Whisper of Heart” بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ پاکستان کی کئی کتب، رساالے اور میگزین میں لکھ چکی ہیں۔ آپ کی اپنی تصانیف بھی بہت جلد زیورِ طبع سے آراستہ ہونے والی ہیں۔

وجیہہ ادریس کا قلم سچائی، ایمان داری اور اصلاحِ معاشرہ کا ترجمان ہے۔ ان کا مقصد نوجوان نسل میں فکری بیداری، دینی شعور اور سماجی انصاف کے جذبے کو اجاگر کرنا ہے۔

ادبی حلقے امید رکھتے ہیں کہ محترمہ وجیہہ ادریس کا یہ سفرِ قلم آئندہ بھی اسی طرح علم و ادب کے چراغ روشن کرتا رہے گا اور ان کا نام پاکستانی ادب کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ اس باکمال قلمکارہ کو مزید عزت، کامیابی اور استقامت عطا فرمائے۔
آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں