0

رشتوں کو جمع کریں، تقسیم نہ کریں/تحریر/سبین عباس

رشتوں کو جمع کریں، تقسیم نہ کریں/تحریر/سبین عباس

اللّٰہ نے انسان کو ریاضی(maths)میں جمع-تقسیم کا جو فارمولا دیا ہے وہ ہمارے سماجی معاشرتی اور خاندانی نظام پر بھی بہت گہرائ کے ساتھ لاگو ہوتا ہے! مثبت ذہن لوگوں کو جمع یعنی متحد کرنے کی سوچ کے حامل ہوتے ہیں جبکہ منفی ذہنیت ہمیشہ تقسیم کے فارمولے پر عمل پیرا ہوتی ہے تاکہ لوگوں کے ذہنوں کو اپنا غلام بنائے رکھیں کیونکہ ان کی بقا اسی میں ہے! انگریزوں کا یہی فارمولا تھا “Divide and Rule” اور یہ فارمولا سیاسی سماجی سطح پر معاشروں کو نقصان تو پہنچاتے ہی ہیں مگر اس سے کہیں زیادہ خاندانی نظام میں ایسی دراڑیں ڈالتے ہیں جن کا بھرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ جب بھی کوئی مثبت سوچ ان دراڑوں کو بھرنے کی کوشش کرتی ہے وہ پھر ایک کاری ضرب لگا دیتے ہیں،اس عمل میں سب سے اگے خاندان کے وہ آمر بزرگ ہوتے ہیں جن کے ذہن جہالت کے پردے میں لپٹے ہوئے صرف یہی سگنل دیتے ہیں کہ “کہیں میری دکانداری ختم نہ ہوجاۓ” اس لیۓ وہ کبھی بھی خاندانی رشتوں میں نہ خود صلح کرتے ہیں اور صلح کرانے کا تو ان میں حوصلہ ہی نہیں ہوتا! ایسے بیمار مفاد پرست اور خودپسندی کے زہر میں ڈوبے ہوۓ لوگوں کی غلامی سے بچیں کیونکہ آپ کی غلامی ہی ان کی سوچ کو پھلنے پھولنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ ایسے منفی بزرگوں جن میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے انھیں نئی نسل یا اپنے چھوٹوں سے یہ شکایت بھی بہت رہتی ہے۔ کہ “یہ کیوں کہا؟ ایسا کیوں کیا؟ ہماری بعزتی کردی وغیرہ وغیرہ۔۔۔” اپنی محدود سوچ کی وجہ سے کسی بھی بات کا پس منظر سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور ہمیشہ دوسروں کو مورودِ الزام ٹھہرا کر ان کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر اپنی سوچ کا لیبل ان پر بھی چسپاں کر دیتے ہیں! وہ کبھی بھی رشتوں کو جڑنے نہیں دیتے اور کچھ رشتوں سے تو اپنی آنا کی تسکین کیلئے ان سے ناک تک رگڑ والیتے ہیں۔ترس آتا ہے ایسی سوچ پر کیونکہ دنیا میں نہ صحیح مگر آخرت میں تو حساب دینا ہوگا!

اگرچہ خاندان کے تمام بزرگ ہر حال میں قابل احترام ہوتے ہیں البتہ مثبت،وسیع سوچ اور نرم خو روئیے کے حامل بزرگ رشتوں اور نئی نسل کیلئے صحیح سمت کی جانب سنگ میل کی مانند ہوتے ہیں۔ میری ایک جرمن دوست کی والدہ جنھوں مغربی معاشرے میں پرورش پائی وہ کہا کرتی تھیں کہ خاندان ایک درخت کی مانند ہے اور اس کے بزرگ جڑوں کی حیثیت رکھتے ہیں ان کی مضبوط اور مثبت سوچ درخت کے تنے اور شاخوں کو یکجا کر کے رکھتی ہیں اگرچہ شاخیں مختلف سمت میں ہی کیوں نہ ہوں۔ کیا بہترین بات ہے!

کاش خاندان کے وہ بزرگ جو گھریلو سیاست کے کھلاڑی ہیں اپنے منفی سوچ و رویۓ پر بھی غور کریں صحیح اور مثبت سمت میں سیاست کرنا کوئ بری بات نہیں اس کی مثال میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ ہیں،دنیا کی بہت سی جنگیں بہترین سیاست اور سفارت سے ٹل گئیں یا رک گئیں!
اپنی سوچ کو وسیع کریں چھوٹوں سے مقابلے بازی نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ سلجھا ہوا رویہ رکھیں ان کی بات اور اس کے پس منظر کو سمجھیں۔سچ کو سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ رکھیں۔
کیونکہ جس طرح بیماریاں موروثی ہوتی ہیں اور انکے اگلی نسل میں منتقل ہونے کے خطرات موجود ہوتے ہیں بلکل اسی طرح آپکی سوچ اور رویۓ بھی آپ کی اگلی نسلوں میں پروان چڑھتے ہیں،یہ منحصر کرتا ہے کہ منفی یا مثبت دیوار کے ساۓ تلے۔۔۔ تو جس طرح ہم موروثی بیماریوں کی روک تھام کیلئے احتیاط کرتے ہیں ویسے ہی منفی سوچ اور رویوں کو بھی اگلی نسل میں پنپنے کا ماحول فراہم نہ کیا جائے۔
صحت مند سوچ وسیع نظر اور مثبت رویہ آپ کے خاندانی اور غیر خاندانی ہونے کا ثبوت پیش کرتا ہے!
آخری بات! یاد رکھیں کچھ بزرگوں سے معذرت کرنے کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ آپ غلط ہیں ، دراصل فطرتاً ان کی خود پسندی عمر کے ساتھ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ کسی بھی بات کا نہ تو پس منظر سمجھ پاتے ہیں اور نہ مفہوم و مقصد، سچ سننے کا حوصلہ بھی نہیں رہتا،دوسرے دماغوں میں بھی اپنی سوچ کی مہر لگا دیتے ہیں۔ انکے رویوں کو نظر انداز کردیا کریں ان کی عمر کا لحاظ کریں بلاشبہ وہ ہر صورت قابل احترام ہیں۔ ان سے صلۂ رحمی دکھاتے ہوۓ معذرت کرتے رہا کریں،ہم نے کونسی یہاں صدیاں گزارنی ہیں!
رشتوں کو جوڑیں جمع کے فارمولے پہ آپکا قد بلاشبہ اونچا ہی ہوگا یہاں بھی وہاں بھی۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں