104

خطیب العصر علامہ سید عبدالمجیدندیم شاہ/(قسط نمبر 2) محمد اورنگزیب اعوان کی نظر میں

شیرانوالہ گیٹ مین بازار ہری پور میں ہر سال سیرت کانفرنس سے شاہ صاحب خطاب فرماتے۔

ایک دفعہ شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی رحمت اللہ علیہ اپنے نجی دورہ پر مانسہرہ تشریف لائے ہوئے تھے۔شاہ صاحب بھی ہزارہ کے تبلیغی دورہ پہ تھے۔مولانا اللہ وسایا قاسم نے گیلانی صاحب کا بتایا تو ان کی قیام گاہ پر تشریف لائے۔دونوں بزرگ کافی دیر ماضی کی یادوں میں کھوئے رہے۔۔۔مولانا ضیاء القاسمی، مولانا عبدالشکور دین پوری، مولانا محمدلقمان علی پوری، مولانا سید نورالحسن شاہ بخاری کے حوالہ سے باتیں ہوتی رہیں۔۔۔دونوں کی آنکھوں سے کبھی آنسو رواں ہوتے تو کبھی لبوں پہ مسکراہٹ پھیل جاتی۔۔۔بے تکلفانہ ماحول میں ایک یادگار محفل تھی۔

دو دن بعد 27۔جون 1999ء کو ہری پور میں سیرت کانفرنس تھی ندیم شاہ صاحب نے بالاصرار سید امین گیلانی صاحب سے استدعا کی کہ آپ ضرور اس میں شرکت فرمائیں۔گیلانی صاحب نے حامی بھر لی۔

ایک دن پہلے ہی اپنی اہلیہ صاحبہ کے ہمراہ ہمارے گھر تشریف لے آئے، رات کانفرنس میں پہنچے تو سید عبدالمجیدندیم شاہ صاحب نے خود آگے بڑھ کے استقبال کیا، مائک پہ تشریف لائے اور سامعین سے مخاطب ہو کے فرمایا کہ سید امین گیلانی ہمارے اکابر کی نشانی ہیں۔میری مانسہرہ میں ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں یہاں کی دعوت دی۔یہ میری دعوت پر یہاں تشریف لائے میں ان کا ذاتی طور پر شکرگذار ہوں۔

مجھے یاد ہے ایک دفعہ شاہ صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلٰی حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندہری دامت برکاتہم سے ملاقات اور ایک اہم معاملہ میں مشاورت کیلئے اسلام آباد دفتر تشریف لائے تو حضرت ناظم اعلٰی دامت برکاتہم نے مجھے ارشاد فرمایا کہ شاہ صاحب کیلئے کارپٹ پہ سفید چادریں بچھاو، شاہ صاحب بڑے آدمی ہیں ان کا اکرام ضروری ہے۔

( یاد رہے کہ شاہ صاحب عمر میں جالندہری صاحب سے چھوٹے تھے۔مولانا عزیزالرحمن جالندہری صاحب کی سن پیدائش 1932ء جبکہ شاہ صاحب 1941ء میں پیدا ہوئے۔۔۔مگر ان کی دینی خدمات اور سادات میں سے ہونے کے باعث مولانا جالندہری ان کی بہت عزت کیا کرتے تھے۔)

شاہ صاحب ہر سال یکم محرم کو پریس کلب راولپنڈی میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی یاد میں سیمینار منعقد کرایا کرتے تھے۔اس کی تمام تر ذمہ داریاں شاہ صاحب کے انتہائی مخلص عقیدت مند قاضی ساجد صاحب مرحوم انتہائی احسن انداز میں نبھاتے۔شاہ صاحب اس سیمینار کیلئے راولپنڈی، اسلام آباد کے علماء کرام اور سیاسی و سماجی شخصیات کو مدعو کرتے۔بارہا راجہ محمد ظفرالحق صاحب بھی اس میں شریک ہوئے۔اے کاش شاہ صاحب کا کوئی عقیدت مند اس کی مکمل تفصیلات مرتب کر دے تو ایک بہت بڑا ریکارڈ محفوظ ہو جائے۔

محترم مولانا اللہ وسایا قاسم مرحوم نے ایک دفعہ شاہ صاحب کو تیار کیا کہ این این آئی کے ذمہ داران آپ کا انٹرویو کرنے کے خواہشمند ہیں۔

شاہ صاحب مولانا قاسم کی کوئی بات ٹالتے نہیں تھے مگر اس انٹرویو کیلئے بڑی مشکل سے راضی ہوئے۔قاری نیاز صاحب کی مسجد سے ہم نے انھیں ساتھ لیا، بلیو ایریا این این آئی کے آفس پہنچے۔شاہ صاحب کا پرتپاک استقبال ہوا، انہوں نے شاہ صاحب کا ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ہم سب بڑے خوش تھے مگر افسوس وہ انٹرویو بعض وجوہ کی بناء پر شائع نہ ہو سکا۔۔۔۔۔۔

اپریل 1990ء میں شاہ صاحب کی ایک کتاب ملی تھی ” نوائے درویش” جس میں حضرت امیرشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمت اللہ علیہ کے واقعات تھے۔میں نے بڑے شوق سے ان واقعات کو پڑھا، حرز جاں بنایا اور اپنی تقریروں میں دہرایا بھی خوب۔۔۔۔

اسی عرصہ میں کچھ دوست ملتان گئے تو مسجد فاروق اعظم ، التمش روڈ، گجر کھڈہ بھی حاضری ہوئی۔شاہ صاحب کا خطبہ جمعہ سنا اور ان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ قریب ہی ان کا دولت کدہ تھا وہاں سے اپنی کتاب” مادر امت” منگوا کر عنایت فرمائی۔

شاہ صاحب جیسی بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیت اور ملتان کی یہ مسجد۔۔۔۔!!!

میرا قیام جب پشاور میں تھا تو گنج پشاور میں شاہ صاحب کے دیرینہ عقیدت مند یوسف عثمانی صاحب عثمانیہ لائبریری والوں کے ہاں بھی حاضری ہوتی ۔شاہ صاحب کی تقریبا” سبھی آڈیو، ویڈیو کیسٹیں، کتابیں، رسائل اور تصاویر انہوں نے سجا رکھی تھیں۔

پشاور ہی کے معروف احراری جناب پروفیسر محمد اسماعیل سیفی مرحوم اور ان کے بیٹے جناب احمد ارشد، یوسف عثمانی صاحب سے رابطے کا ذریعہ بنے تھے۔جب بھی اس طرف کا چکر لگتا تو یوسف صاحب اور سیفی صاحب سے ملاقات ہوتی۔بزرگوں کے تذکرے ہوتے ۔بالخصوص حضرت امیرشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور مولانا محمدعلی جالندہری رحمت اللہ علیہم اجمعین کے واقعات سننے کو ملتے۔

یوسف صاحب کی شاہ صاحب سے عقیدت رشتہ داری میں بھی بدل گئی ان کے ایک بیٹے شاہ صاحب کے داماد بنے۔اب تو اسماعیل سیفی صاحب اور یوسف عثمانی صاحب دونوں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔۔۔اللہ تعالی دونوں کی مغفرت فرمائیں اور درجات بلند فرمائیں۔

پسرور ضلع سیالکوٹ کے ہمارے مہربان، مصنف و مولف کتب کثیرہ جناب مولانا محمد ندیم قاسمی نے 2009ء میں شاہ صاحب کے خطبات پر مشتمل کتاب ” پیغام انبیاء ” شائع کی۔2010ء میں مزید خطبات پر مشتمل” عظمت صحابہ و اہل حق” شائع کی۔ شاہ صاحب سے ایک ملاقات میں ان کتابوں کا تذکرہ ہوا تو بہت زیادہ ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ میرے علم میں لائے بغیر یہ کتابیں شائع کی گئیں جو کہ سراسر بددیانتی ہے۔لیکن خاموش ہوں کہ چلو کسی بہانے یہ تقاریر محفوظ ہو کر لوگوں کے پاس پہنچ جائیں گی…

جاری ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں