
ایک دفعہ مسجد دارالسلام اسلام آباد میں دیوبندی مکتب فکر کی جماعتوں کے اتحاد کے حوالہ سے ایک اہم اجلاس تھا۔شاہ صاحب اس میں شریک ہوئے اور انتہائی پراثر و درد بھری فکر انگیز گفتگو فرمائی۔
مسجد دارالسلام ہی میں آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس تھا ۔حضرت مولانا خواجہ خان محمد نوراللہ مرقدہ کی صدارت تھی۔نماز مغرب کا وقت ہوا تو حضرت خواجہ صاحب نے ندیم شاہ صاحب کو فرمایا کہ نماز آپ پڑھائیں۔یوں تمام رہنماؤں نے شاہ صاحب کی اقتداء میں نماز مغرب ادا کی۔شاہ صاحب کی پرسوز و پر تاثیر تلاوت نے نماز کا لطف دوبالا کر دیا۔
شاہ صاحب کی ہر تقریر ہی باکمال ہوتی تھی مگر سورہ فاتحہ کی تفسیر، سیرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور تین پسند ایسی تقریریں ہیں کہ انہیں جب بھی سنا جائے رقت طاری ہو جاتی ہے۔میرے والد صاحب رحمت اللہ علیہ ان کی یہ تقاریر بہت شوق سے سنا کرتے تھے۔بسا اوقات تو ایسے بھی ہوا کہ بازار سے گذر رہے ہیں ، کسی دکاندار نے شاہ صاحب کے بیان کی کیسٹ لگا رکھی ہے ان کے کانوں میں آواز پڑی وہیں رک گئے۔جس دکان سے آواز آرہی ہوتی وہاں چلے جاتے اور جب تک تقریر ختم نہ ہوتی وہیں بیٹھے رہتے۔
16۔اگست 1989ء کو پی۔او۔ایف حویلیاں کینٹ کی مکی مسجد میں شاہ صاحب کا خطاب تھا۔ہم پہنچے تو معلوم ہوا کہ شاہ صاحب فلاں گھر میں تشریف فرما ہیں۔ہم وہاں چلے گئے۔قاضی چن پیر الہاشمی رحمت اللہ علیہ بھی وہیں تشریف فرما تھے۔شاہ صاحب نے ہر ایک سے فردا” فردا” مصافحہ فرمایا۔ہمارے ایک دوست افتخار احمد مرحوم نے جب مصافحہ کیلئے ہاتھ آگے بڑھائے تو شاہ صاحب نے ان کے ماتھے پہ بوسہ بھی دے دیا۔ہم بڑے حیران کہ یہ کیا ماجرا ہے۔کمرے سے باہر نکلے تو ہم نے بھائی افتخار کو گھیر لیا کہ آپ بڑے خوش نصیب ہیں کہ شاہ صاحب نے آپ کے ماتھے پہ بوسہ دیا جبکہ ہم سب سے صرف مصافحہ ہی فرمایا۔بھائی افتخار ہنس پڑے اور کہا یہ معاملہ کچھ اور ہے اور شاہ صاحب کی کھلی کرامت ہے۔میں تو بس شاہ صاحب کی فراست ایمانی کا قائل ہو گیا ہوں۔۔۔ہم نے اصرار شروع کر دیا کہ اب بتلائیں کہ اصل واقعہ کیا ہے؟ کہنے لگے کسی معاملہ میں میرے دل میں کچھ کدورت تھی اور آج میں اس معاملہ میں شاہ صاحب سے کچھ باتیں کرنا چاہتا تھا، ممکن ہے میرے لہجے میں کچھ تلخی بھی ہوتی۔۔۔۔مگر شاہ صاحب اس محبت اور اپنائیت سے ملے تو میرے تمام گلے شکوے دور ہو گئے۔اور میرے ذہن میں جو اشکالات تھے وہ بھی خودبخود ختم ہو گئے۔
بقول مولانا اللہ وسایا صاحب کہ دنیائے خطابت کے بے تاج بادشاہ مولانا عبدالمجید ندیم شاہ صاحب نے سکول کی تعلیم ایک دن بھی حاصل نہ کی۔اپنے رفیق طلباء سے عربی تعلیم کے ساتھ ساتھ اردو لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔اس کے بعد نستعلیق اردو لکھنے پڑھنے اور بولنے کی مہارت یا قدرے انگریزی سمجھنا اور بولنا یہ آپ کے ذاتی مطالعہ کا حاصل تھا۔خط بہت ہی عمدہ اور نفیس تھا۔۔۔۔
(چمنستان ختم نبوت کے گلہائےرنگارنگ )
مگر کمال ہے اس کے باوجود ، اتنی شاندار اردو شاہ صاحب بولتے اور لکھتے تھے کہ گمان ہوتا آپ دلی یا لکھنؤ سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لائے ہیں۔
اپنی تقاریر میں انگریزی جملے اس خوبصورتی اور برجستگی سے بولتے کہ محسوس ہوتا آپ نے باقاعدہ کسی ادارہ سے انگریزی بول چال سیکھی ہے یا زندگی کا زیادہ وقت برطانیہ اور امریکہ میں گذارا ہے۔
فارسی کے اشعار تو ایسے پڑھتے تھے کہ حیران کر دیتے۔اب ہمارے مدارس سے فارسی زبان کو بے دخل کر دیا گیا ہے پہلے تو باقاعدہ فارسی پڑھائی بھی جاتی تھی اور درسی کتابیں بھی فارسی میں تھیں۔
امیرشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمت اللہ علیہ کی فارسی نعت:
ہزار صبح بہار از نگاہ می چکدش
جنوں ز سایہء زلف سیاہ می چکدش
چمن چمن گل و نسریں زعکس رخ ریزد
سبدسبد گل خنداں زراہ می چکدش۔۔۔۔۔
یوں جھوم جھوم کے پڑھتے کہ سامعین پہ وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی۔۔۔جن لوگوں نے شاہ صاحب کی زبانی یہ اشعار سنے ہیں ان سے اس وقت کی وجد آفریں کیفیات معلوم کی جاسکتی ہیں۔۔۔۔
اب تو یادرفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی۔چھوٹے بیٹے محمدعکاشہ کے اصرار پہ یہ چند سطریں اسے املاء کرا دیں۔اللہ تعالی قبول فرمائیں اور شاہ صاحب کے درجات بلند فرمائیں۔۔۔آمین