664

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی/تحریر/ام عمر (کراچی )

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی :
اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے وقت بے شمار عظیم اور بلند اقدار ہستیاں اور ان کے حالات اور واقعات سے اگاہی حاصل ہوتی ہے اور ان عظیم شخصیات کے نہایت اہم کارنامے ہمارے علم میں اصافہ کرتے ہیں۔
تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم کو ایک شخصیت کے کارنامے سب سے نمایاں اور ممتاز نظر اتے ہیں۔
وہ شخصیت ہے سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی۔ یہ لکھنا اور کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تاریخ اسلام میں کثرت کے ساتھ قلم پر اور ذبان پر جس محترم شخصیت کا نام اتا ہے وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔
آپ کانام ” عمر” اور کنیت ابوحفص اور لقب “فاروق اعظم” ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے والد کا نام “خطاب ” اور ماں کا نام “حلتمہ” ہے جو ہشام بن مغیرہ کی بیٹی اور ابو جہل کی بہن تھیں۔
اپ کا شجرہ نسب اٹھویں پشت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔تاریخ میں اپ کی پیدائش واقعہ فیل سے تیرہ سال بعد بیان کی جاتی ہے
۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بچپن اور جوانی کے ادوار:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پچپن اور جوانی کا ذمانہ قریش کے عام لوگوں کی طرح گزرا۔
آپ رضی اللہ عنہ کو پڑھنے اور لکھنے کا بہت شوق تھا۔اس پڑھنے اور لکھنے کے شوق کی بدولت اپ اس دور کے کے لوگوں میں نمایاں نظر اتے ہیں۔کیونکہ اس دور میں قریش میں پڑھنے لکھنے کا رواج نہیں تھااور اہل قریش میں بہت کم تعداد میں پڑھے لکھے لوگ تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بچپن سے جوانی کی طرف ائے تو اپ اپنی عمر کے ساتھیوں کے مقابلے میں ذیادہ طاقتور نظر اتے تھے اپ کا کوئی ساتھی اپ کی قدوقامت میں اپ رضی اللہ عنہ کے مقابل نہیں تھا۔اپ کی رنگت صاف تھی اور اس پر سرخی بھی پوری اب وتاب کے ساتھ جھلکتی تھی۔اپ کے چلنے کی رفتار بھی تیز تھی۔اپ کو جسمانی ورزشوں شوق تھا ۔گھڑ سواری اور پہلوانی میں بہت مہارت حاصل تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شاعری کا شوق:
اپ کو جس طرح جسمانی ورزشوں اور شہ سواری میں مہارت حاصل تھی اسی طرح اپ کا شعری ذوق بھی بہت اعلیٰ تھا۔
عکاظ کے اور دوسرے میلے جو عرب میں لگا کرتے تھے وہاں شعر وشاعری کی محفلیں بھی ہوا کرتی تھیں ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان محفلوں میں شرکت کرتے تھے اور وہاں جو شعر سنتے ان کو اپنے حافظہ میں محفوظ بھی کر لیتے تھے۔
حطیہ،حضرت حسان بن ثابت اور زبر قان جیسے شعراء کے ساتھ شعر وشاعری پر گفتگو کرتے تھے ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت بلیغ البیان تھے اور بلیغ البیانی اپ کو اپنے والد سے ملی تھی اپ کے والد بھی فصیح اللسان اور بلیغ البیانی میں مہارت رکھتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام:
اپ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام سے پہلے روایت میں ملتا ہے کہ کفار مکہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر پریشان رہنے لگے تھے۔کفار مکہ ایک جگہ جمع ہوئے اور فیصلہ کیا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کر دیا جائے۔( معاذ اللہ ) لیکن سوال تھا کہ کہ کون قتل کرے ؟ مجمع میں اعلان ہوا کہ کون ایسا بہادر ہے جو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کرے!
اعلان سن کر پورے مجمع پر خاموشی طاری تھی کہ اسی اثناء میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اعلان کیا کہ میں ان کو قتل کروں گا:
لوگوں نے ایک ذبان ہو کر کہا کہ بے شک یہ کام اپ جیسا بہادر ہی کر سکتا ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ جوش کے ساتھ تلوار لے کر چل پڑے۔راستے میں ایک صاحب قبیلہ زہرہ کے ملے ۔جن کا نام حضرت نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ملے ( بعض کتابوں میں دوسرا نام بیان کیا جاتا ہے) ۔
حصرت نعیم نے پوچھا کہ اے عمر ! کہاں جارہے ہو۔ انہوں نے فوراً جوب دیا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کرنے جارہا ہوں۔
حضرت نعیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس قتل کے بعد تم بنی ہاشم اور قبیلہ بنی زہرہ سے کس طرح بچو گے وہ تو تم کو جان سے مار دیں گیں۔
حضرت نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ باتیں سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غصے میں اکر کہا کہ لگتا ہے تم نے بھی اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دہن کو قبول کر لیا ہے تو میں پہلے تجھ کو ہی نپثا دوں اور یہ کہہ کر اپ نے تلوار نکال لی۔حضرت نعیم رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں الحمدللہ میں مسلمان ہوگیا ہوں اور یہ کہہ کر تلوار نکال لی۔
اس سے پہلے کہ دونوں کی تلواریں چلتیں حضرت نعیم رضی اللہ عنہ نے کہا اپنے گھر کی تو پہلے خبر لو۔تمہاری بہن فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی حضرت سعید بن زید دونوں اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر مسلمان ہوچکے ہیں۔
یہ خبر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر بجلی کی طرح گری اور وہ فورآ غصے میں اپنی بہن کے گھر کی طرف چل دئیے۔
تاریخ اسلام میں زکر ہے کہ وہاں حضرت خباب رضی اللہ عنہ دروازہ بند کر کے اپ کے بہن اور بہنوئی کو اللہ کا کلام قران کریم پڑھا رہے تھے۔
حضرت عمر فاروق نے بہن سے دروازہ کھولنے کے لئیے کہا اتنی دیر میں حضرت خباب رضی اللہ عنہ گھر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے چھپ گئے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے باہر سے کسی اور کی آواز سنی ہے اور تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے انہوں نے غصے سے چلا کر کہا کہ مجھ کو اطلاع ملی ہے کہ تم دونوں نے اپنے باپ دادا کا مذہب چھوڑ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہب قبول کر لیا ہے !
ان کی یہ بات سن کر حضرت سعید بن ذید خاموش رہے اور ان کو کوئی جواب نہیں دیا ۔
جب سعید بن ذید رضی اللہ عنہ نے آپ کو سخت غصے میں دیکھا تو پوری طاقت اور اعتماد کے ساتھ بولے ہاں میں اور میری بیوی دونوں مسلمان ہوگئے ہیں اور ہمارے باپ دادا کا دین باطل تھا اب ہم نے ایک سچے دین کو اختیا ر کر لیا ہے۔
یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے بہنوئی کو مارنے لگے ان کی داڈھی اور بال پکڑ کر ذمین پر گرا دیا اور خوب زور زور سے مارنے لگے اور ان کو لہو لہان کر دیا یہ دیکھ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ بچانے کے لئے اگے بڑھی تو ان کے منہ پر بھی زور سے ایک گھونسہ مارا جس سے اپ کے منہ سے خون بہہ نکلا۔
حضرت فاطمہ بنت خطاب بھی اپ کی بہن تھیں بولیں کہ تم ہم کو مار مار کر خون کا ایک ایک قطرہ بھی نکال دو گے ہم جب بھی اس دین حق کو نہیں چھوڑیں گیں تم ہر گز ہمارے دل سے ایمان نہیں نکال سکتے ۔
بہن نے کہا میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیارے بندے اور رسول ہیں۔ بے شک ہم مسلمان ہوگئے ہیں اپ جو کچھ کر سکتے ہیں کر ڈالیں۔بہن کی ایمانی قوت اور خون میں تر بتر دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔
سورہ طہ کی آیت پڑھتے ہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن سے کہا مجھ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو
ان کی یہ گفتگو سن کر حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے خوشی سے بولے :
اے عمر ! میں اپ کو خوش خبری دیتا ہوں کہ کل ہی اللہ کے حبیب نے دعا کی تھی کہ یا اللہ !عمر اور ابو جہل میں جو تجھ کو محبوب اور پیارا ہو اس سے دین اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما۔اے عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اپ کے قبول ہوگئی ہے۔
حضرت خباب رضی اللہ عنہ آپ کو ساتھ لے کر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے ۔اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کے مکان میں تھے۔
اس وقت حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کے مکان کے باہر حضرت طلحہ ،حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رسول اللہ کی حفاظت اور نگرانی کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے دور سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر کہا کہ عمر ا رہے ہیں اگر اللہ کو ان کی بھلائی منظور ہے تو یہ میرے ہاتھ سے بچ جائیں گے لیکن اگر یہ کسی برے ارادے سے ا رہے ہیں تو اس وقت ان کا کام تمام کرنا آسان ہے۔
اسی دوران اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوچکی تھی ۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم مکان سے باہر تشریف لائے اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی تلوار اور حضرت عمر فاروق کا دامن پکڑ لیا اور فرمایا !
اے عمر ! کیا تم ذمین پر اس وقت تک فساد برپا کرتے رہو گے جب تک زلیل وخوار نہ ہو جاؤ ۔
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنتے ہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا:
اشھدان لا الہ الا اللہ وانک عبد اللہ و رسولہ۔
ٗ
میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں
وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہ ٗ
اورمیں گواہی دیتاہوں کہ بیشک محمد(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) اللہ کے بندے اوررسول ہیں
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کا واقعہ سناتے ہوئے فرماتے تھے کہ میں جب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا تو اس وقت حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کے مکان پر موجود مسلمانوں نے بلند آواز سے نعرہ تکبیر بلند کیا جس کی اواز مکہ کی وادی میں گونج اٹھی۔
اس موقعہ پر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم حق پر نہیں ہیں کیا؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ہم حق پر ہیں۔
میں نے پھر عرض کیا تو پھر یہ پردہ کیوں ہے۔
اس کے بعد ہم دو صفیں بنا کر کعبہ کی طرف چل پڑے ۔ایک صف میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور دوسری صف میں ،میں خود تھا۔
قریش مکہ سے یہ منظر دیکھا نہ جارہا تھا وہ سخت رنج و ملال کی کیفیت میں تھے۔
اسی روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو “فاروق” کے لقب سے نوزا۔اس لئے کہ اس روز اسلام ظاہر ہوگیا اور حق و باطل کے درمیان واضح فرق دنیا کے سامنے آگیا ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خلافت کے لئے منتخب ہونا:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہمیشہ حاضر رہتے۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور صحبت میں پوری ذندگی پیش رہے۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علمی فیض کا سلسلہ ساری ذندگی جاری رہا ۔اسی طرح نبی اخر الزمان بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسرور اور راضی رہے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے جانے کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے خلیفہ اول منتخب ہوئے.
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کے بہت قریبی ساتھی اور انتہائی قابل اعتماد مشیر کی حیثیت رکھتے تھے۔
خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فہم و فراست اور دور اندیشی پر مکمل بھروسہ تھا ۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپ رضی اللہ عنہ کے مشورے کو خاص اہمیت دیتے تھے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے پہلے مہاجرین اور انصار اور صحابہ کرام سے مشورے اور غور وفکر کے بعد وصیت کی کہ میرے بعد عمر بن خطاب مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کی حثیت سے خلافت کے امور انجام دیں گے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ مزاج میں سختی کا عنصر نمایاں نظر آتا تھا۔ ان کے مزاج کو دیکھتے ہوئے بعض صحابہ کرام نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپ کے خلیفہ بنائے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے بس اپ کے مزاج کی سختی پر تردد ہے۔
صحابہ کرام اس اعتراض کا جواب خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس خوبصورتی سے دیا کہ
“عمر کی سختی اس لئے ہے کہ میں نرم ہوں،جب ان پر خلافت کی زمہ داری ہوگی تو ان کے مزاج میں خود نرمی اجا ئے گی۔”
اس کے بعد مزید فرمایا کہ
“اللہ کو بتادوں گا کہ میں ایسے شخص کو مسلمانوں کا خلیفہ بنا کر آیا ہوں جو تیرے بندوں سب سے محترم ہے۔”
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اپ خلیفہ بن گئے اور لوگوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی
اپ نے خلافت کی زمہ داریاں سنبھالتے ہی مسلمانوں سےخطاب کیا۔
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
اے لوگوں تمہارے سارے معاملات کی زمہ داری میرے شانوں پر ہے۔اس لئے میری تمام سختی اب نرمی میں تبدیل ہو گئی ہے۔اپ میں سے جو امن وسلامتی کے ساتھ رہنا چاہے گا میں اس کے ساتھ نرم رویہ رکھوں گا۔لیکن جو دوسروں کے ساتھ زیادتی اور ظلم کا رویہ کریں گے میں ان کے ساتھ سختی کا رویہ رکھنے پر مجبور ہوں۔میں اس کے ساتھ سختی کا رویہ اس وقت تک رکھوں گا جب تک مظلوم کا حق ظالم سے وصول نہ کر لوں۔
اللہ کے بندوں حق کا ساتھ دو اور صرف اللہ سے ڈرو برائی کا راستہ ختم کرنے میں میری مدد کرو نیکی کو پھیلانے میں میری مدد کرو۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سادہ ذندگی:
اپ رضی اللہ عنہ کی ذندگی شاندار فتوحات اور کارناموں سے مزین ہے ۔لیکن ان سب کے باوجود اپ رضی اللہ عنہ کی سادگی اور تقوی کا یہ عالم تھا کہ ذمین کے اوپر بغیر کسی بستر کے ارام کرنے اور سونے کے لئے لیٹ جاتے تھے سر کو اونچا کرنے کے لئے سر کے نیچے اینٹ یا پھتر رکھ لیت تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ کے لباس میں پیوند لگے ہوتے تھے ۔ کھانا اکثر روٹی اور زیتون کاتیل ہوتا تھا اور روکھی روٹی اپ کھاتے تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ کی ذندگی ہر قسم کے نمود و نمائش سے پاک تھی لیکن اس کے ساتھ اپ کا جلال اور رعب ایسا تھا کہ کوئی بھی بڑے سے بڑا حکمران اس کی تاب نہ لا سکتا تھا۔
اسی طرح اللہ کا ڈر اور خشیت الہی کی کیفیت ہر وقت طاری رہتی ۔اپ عبادت الہی میں مصروف رہتے ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اللہ تعالیٰ نے عمر رضی اللہ عنہ کی ذبان اور قلب پر حق کو جاری فرما دیا ہے۔
یعنی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہمیشہ حق ہی بولتے ہیں ان کی ذبان اور قلب پر باطل کبھی نہیں ہوتا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
“میں بلا شبہ نگاہ نبوت سے دیکھ رہا ہوں کہ جنات کے شیطان بھی اور انسان کے شیطان بھی دونوں میرے عمر کے خوف سے بھاگتے ہیں۔”
سادہ طرز ذندگی اور یہ رعب ودبدبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ہی ہو سکتا ہے جس سے شیطان بھی دور بھاگ جائے
۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو رعایا کا خیال:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلافت کی شان وشوکت کو کبھی پسند نہیں کرتے تھے۔ان کی نظر میں خلافت کا نظریہ یہ تھا کہ جیسے ایک باپ اپنی اولاد کا اپنے اہل خانہ کا خیال رکھتا ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسی طرح رعایا کا خیال رکھتے تھے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ کو ہر لمحہ رعایا کے بارے میں جواب دہی کا احساس رہتا تھا اور اس رعایا پروری کی مثال تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی۔
محتاجوں ،غریبوں اور کمزوروں کی مشکلات اور پریشانیوں کا درست اندازہ لگانے کے لئے اپ رضی اللہ عنہ نے اپنی ذندگی کو ہمیشہ ان کی ذندگی کی سطح کے برابر رکھا۔
راتوں کو خود گشت لگاتے اور لوگوں کی مشکلات کا خود اندازہ لگاتے۔رعایا کی تکالیف کو خود محسوس کرتے اور جلد سے جلد دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دنیا کہ واحد حکمران گزرے ہیں جو اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میرے دور خلافت میں اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو اس کی سزا اللہ عمر کو دے گا جو اس کو بھگتنا ہوگی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں شاندار فتوحات :
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت اسلامی فتوحات کا دور شمار کیا جاتا ہے۔
دور خلافت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں اسلامی حکومت 22 لاکھ مربع میل تک پھیل گئی تھی۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اس وقت کی دو طاقت ور حکومتوں ایران اور روم کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ۔
ان کے دور خلافت میں پہلی دفعہ یروشلم فتح ہوا۔
ان کے دور خلافت میں عراق،لیبیا،شام،مصر،ایران،
جنوبی آرمینیا ،خراسان اسلامی حکومت میں شامل ہوئے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں شجاعت ،عسکری ذہانت اور جنگی مہارت سے ساسانی حکومت کو دو سال سے بھی کم عرصے میں وہاں کی حکومت کو زیر کر لیا اور اپنی سلطنت کے وسیع دائرہ میں رعایا کی ضروریات اور دیگر امور سلطنت کو بہت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔
سانحہ شہادت :
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اللہ کے حضور دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ تیرے راستے میں مجھ کو موت نصیب ہو اور تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر مجھ کو نصیب ہو۔
اللہ تعالیٰ نے اپ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول فرمائی اور شہر مدینہ بھی نصیب ہوا ۔اور اللہ کے راستے کی موت یعنی شہادت بھی نصیب ہوئی۔

٢٧زی الحجہ کو مسجد نبوی میں نماز فجر کے وقت امامت کے دوران ابو لولو فیروز مجوسی نے اپ پر خنجر کے تین سے چار وار کئے اور اپ رضی اللہ عنہ زخمی ہوکر زمین پر گر پڑے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے نماز مکمل کرائی۔
اپ کی خواہش تھی کہ اپ کو اپنے دونوں پیارے رفیقوں کے پہلو میں جگہ ملے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے یہ جگہ اپنے لئے رکھی تھی لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اس خواہش کو پورا کرنے کی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے ان کی اس تمنا کو پورا کرنے کی اجازتِ دے دی۔
تاریخ پاکستان کا مطالعہ کرتے وقت ایک واقعہ نظر سے گزرا کہ لاہور کے مسلمانوں نے انگریز حکمران کو دھمکی دی کہ اگر ہم گھروں سے نکل آئے تو تم کو چنگیز خان یاد اجائے گا۔
یہ بات سن کر نہرو صاحب مسکرا کر بولے کہ یہ چنگیز خان کی دھمکی دینے والے مسلمان تاریخ میں ایک عمر فاروق (رضی اللہ عنہ )کو بھول گئے۔
مستشرقین کے اس اعتراف کا زکر کرنا بھی اہم ہے کہ وہ کہتے تھے کہ اگر اسلام میں ایک اور عمر پیدا ہوجاتا تو اج دنیا میں صرف دین اسلام ہی واحد دین ہوتا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ
“میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمر بن خطاب ہوتے۔”
صلی اللہ علیہ وسلم
صلی اللہ علیہ وسلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں