فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد واپسی کا سفر باندھا ۔۔۔۔ منیٰ سے ابطخ میں واپس آتے ہوئے اونٹ بٹھلایا۔۔۔۔۔۔۔ چت لیٹ کر اپنا سر اونٹنی کی کوہان پہ رکھا ۔۔۔۔۔ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے ۔۔۔۔۔اللہ سے التجاء کرنے لگے ۔۔۔۔۔ ائے اللّہ اب اس شخص پر بوڑھاپے کے آثار ظاہر ہو گئے ہیں ۔۔۔۔ قوتوں میں ضعف آگیا ۔۔۔۔رغبت منتشر ہو گئی ۔۔۔۔ قبل اس کے ہڈیاں جواب دے جائیں اور میں ناکارہ ہو جاؤں ۔۔۔۔ عقل میں فتور آ جائے۔۔ ۔۔۔۔ اب اس کو اپنے پاس بلا لیجئے ۔
پھر اک تمنا اٹھی ۔۔۔۔ اک حسرت تھی جو قلب میں مچل رہی تھی۔۔۔۔۔۔ اپنے دل کی خواہش کو اللہ کے حضور پیش کر کے فرمانے لگے
اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی شَھَادَۃً فِیْ سَبِیْلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِیْ فِیْ بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
یعنی :
اے اللّٰہ پاک ! مجھے اپنی راہ میں شہادت اور اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہر میں موت عطا فرما۔
اللہ اکبر! یہ خلیفة المسمین دماد علی سسر رسول مراد رسول امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے ، جو اپنی رائے دیتے تو رب تعالیٰ اسے قرآن بنا دیتے ۔ آج اللہ تعالی سے عاجزی انکساری سے شہادت کی موت مانگ رہے ہیں، تو اللہ تبارک وتعالیٰ کیسے رد جانے دیتے۔
رب تعالیٰ نے شہادت کی موت بھی دی اور رسول اللہ کے شہر میں شہادت کا جام پلایا، مزید یہ کہ کل قیامت تک رسول اللہ کا پڑوس نصیب فرما کر آپ کے اعزاز کو چار چاند لگا دیے ۔ آج بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔
“شہادت یکم محرم الحرام امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ” (بحوالہ تاریخ الخلفاء)