نام مبارک آپ کا عُمرہے اورلقب فاروق، کنیت ابوحفص، آپ کا نسب نویں پشت میں رسول خداﷺ سے ملتاہے،
رسول اکرمﷺ نویں پشت میں ایک نام کعب کے دو فرزند تھے مرہ اور عدی۔
مرہ کی اولاد میں حضورﷺ اور عدی سے حضرت عمربن خطابؓ۔
ولادت سراپا بشارت آپ کی واقعہ فیل کے تیرہ برس بعد میں ہوٸی، عمر آپ کی بھی تریسٹھ برس ہوٸی۔نبوت کے چھٹے سال ستاٸیس برس کی عمر میں اسلام لاۓ ان سے پہلے چالیس مرد اور گیارہ عورتیں مشرف باسلام ہو چکی تھی۔
آپ کا رنگ سفید ماٸل سرخ تھا مگرقحط سالی ناموافق غذا کے استعمال سے رنگ میں سیاہی آگٸی تھی۔
رخساروں پر گوشت کم تھا قدمبارک درازتھا۔
جب لوگوں کے درمیان میں کھڑے ہوتے تو سب سے اونچے نظر آتے معلوم ہوتا کہ گویا سواری پر بیٹھے ہوۓ ہیں۔
بڑےبہادر اور طاقت ور تھے۔اسلام سے پہلے جیسی شدت کفر میں اسلام کے بعد ویسی ہی شدت اسلام تھی ان کے مسلمان ہوجانے سےدین اسلام کو بہت زیادہ قوت حاصل ہوٸی۔ رسولﷺ کےزمانہ منصب وزارت پر رہے اور حضرت صدیق اکبرؓ وزارت کے ساتھ ساتھ مدینہ کا قاضی بھی بنا دیا اورحضرت صدیق اکبرؓ کے بعد خلیفہ ہوۓ اپنی خلافت میں جس قدر
خدمت واشاعت دین اسلام کی اور جیسی
عظیم الشان فتوحات حاصل کیں ان کی مثال
تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔
دس سال چھ ماہ پانچ دن تخت خلافت کو زینت دی۔
فجرکی نماز میں ابولولو مجوسی غلام کے ہاتھ سے شہید ہوۓ۔
جوحضورﷺ کے زمانے میں مشیر خاص کے مرتبہ پر فاٸز رہے اور خلیفہ اول کے زمانہ میں اس منصب کے ساتھ ساتھ مدینہ کے قاضی رہے اور ان کےبعد خلیفہ دوم ہوۓ اپنے دس برس کے عہد حکومت میں اشاعت دین،رعایاپروری،عدل وانصاف،مساوات واخوت، صبروقناعت اور اہتمام امور دین کے سلسلہ میں جو خدمات انجام دی وہ تاریخ اسلامی کے واقف سے پوشیدہ نہیں،جس ذات نے نماز، روزہ،حج، زکوۃ اور صدقات کا ہمیشہ اہتمام رکھا۔
جس کے عہد میں ایک ہزار چھتیس شہر مضافات فتح ہوۓ ۔جس کے زمانہ میں چار ہزارمساجد پنج وقتی نماز کے لیے اور نو سو جامع مساجد بنیں۔ جس کے
عہدِ خلافت میں ایرانی وروم جیسی طاقتور حکومتیں مسلمانوں کے زیرنگیں ہوٸیں اورعرب کےباہر اسلام کی عظمت وشہرت کا سکہ بیٹھ گیا ۔جس کی خواہش کے احترام میں آیت حجاب اورآیت اذن نازل ہوٸی ۔جس کے ہاتھوں سینکڑوں مکاشفات وکرامات ظاہر ہوۓ اوپر نصرت الہی اور تاٸید غیبی کا ہمیشہ سایہ رہا جن کے لیے رسول اللہﷺنے زندگی میں جنت کی بشارت دی تھی اس ذات کا قیامت کے تصور اور آخرت کے حساب سے یہ حال تھا کہ ایک روز گھاس کا ایک تنکا زمین سے اٹھا کر فرمانے لگے” کاش میں یہ تنکا ہوتا، کاش میں پیدا نہ ہوا ہوتا“
ایک دن کسی کے گھر کی طرف گزرہوا وہاں کوٸی شخص نماز میں سورة والطور پڑھ رہا تھا جب وہ اس آیت پر{ترجمہ} بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔
توسواری سے اتر پڑے اور ایک دیوار سے ٹیک لگا کر دیر تک بیٹھے رہے اس کے بعد اپنے گھر آۓ تو ایک مہینے تک بیمار رہے لوگ عیادت کو آتے تھے اور بیماری کسی کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔
کبھی کوٸی بیت المال کا اونٹ گم ہو جاتا تو خود تلاش کرنے جاتے ایک مرتبہ گرمیوں میں دوپہر کے وقت گرمی میں چل رہے تھی اور آپ ایک اونٹ کی تلاش میں جارہے تھے حضرت عثمان نے دیکھ لیا فرمایا:
”اس وقت امیرالمومنین آپ کہا جاتے ہیں اس کام کو کوٸی اور کر لے گا“
فرمایا قیامت کے دن باز پرس تو مجھ سے ہو گی۔
یمن کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے دریافت فرمایاکہ۔
کیا یمن کے رہنے والے سب چھوٹے بڑے اور امیر غریب یہ حلوہ مہیا کرنے اور کھانے پر قادر ہیں
ابوموسیٰ اشعریؓ نے انکار کیا آپ نے فرمایا پھر تنہا عمرؓ ایسی قیمتی مٹھاٸی نہیں کھا سکتا اس سے حضرت عمرؓ کے احساس فراٸض کا اندازہ کر لیجۓ۔
آپ فرماتے تھے کہ اگر قیامت کے دن اعلان کیا جاۓ کہ سب لوگ جنت میں جاٸیں سواۓ ایک کے تومجھے خوف ہو گاکہ شاید وہ ایک میں ہوں۔
بلآخر حضرت عمرؓ ایک کافر کے ہاتھ سے زخمی ہوتے ہیں لوگ عیادت کو آتے ہیں اور آپ کو کتاب اللہ کی پیروی اور سنت رسولﷺپر عمل کا واسطہ دے کر مطمٸن کرنا چاہتے ہیں کہ آپ تو شہید ہو کر مررہے ہیں اور شہید کے متعلق حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جنتی ہے جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جاۓ۔
ان باتوں کے جواب میں آپؓ فرماتے:
اے کاش!
اگر میں برابر چھوڑدی جاٶں یعنی میری نیکیاں اور براٸیاں برابرہوجاٸیں اور میں بخش دیا جاٶں تو مجھ پر خدا کا انتہاٸی فضل ہوگا۔
”حضرت عمربن خطابؓ شخصیت پر ایک نظر“
1۔آپ کے اسلام لانے سے دعوت اسلام غالب ہوٸی اور کلمہ توحید بلند ہوا۔
2۔اللہ تعالی نے آپ کو رعب ودبدبہ عطا فرمایا جس کی وجہ سے مسلمانوں کی اجتماعیت کی بنیاد پڑی۔
3۔آپ اہل باطل کے ساتھ مقابلہ کرنے میں اور
رب العلمین کے احکام میں موافقت رکھنے میں
صحابہ رضی اللہ عنھم میں مخصوص شان رکھتے تھے۔
4۔آپ اللہ تعالی کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔
5۔آپ نے غزوہ احد میں ابوسفیان کو للکار کر جواب دیا تھا کہ ہم سب زندہ ہیں اور تجھے آج ہماری طرف سے ذلت دیکھنی پڑے گی۔
6۔آپ کی جرآت وسجاعت کو دشمن کی قلت وکثرت متاثر نہیں کرتی تھی۔
7۔آپ دین پر سرعام اعلان کرنے والے اور اپنے نیک اعمال کا پوشیدہ رکھنے والے تھے۔
8۔اسلام لانےپر نبی کریمﷺ نے مصلحتاً آپ سے فرمایا اے عمر!اسلام کو چھپاۓ رکھوآپ نے عرض کیا”قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں اس کا بھی ویسے اعلان کروں گا جیسے شرک کا کیا کرتا تھا“۔
9۔نبی کریمﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی نےعمرؓکی زبان اور دل پر حق جاری کردیاہے۔
10۔آپ حقاٸق کے شناسا اورانہیں پسند کرنے والے تھے اور باطل اقوال سے دور اور بے رغبت تھے۔
11۔آپ اپنے مولیٰ کے سامنے عاجزی سے قوت وغلبہ پانے والے تھے اور اطاعت الہی پر استقامت میں خوش عیشی چھوڑنے والے تھے۔
12۔آپ ایک مرتبہ ساتھیوں کے ہمراہ کوڑا خانہ سے گزرنے لگے تو وہاں رک گۓ ساتھی تکلیف محسوس کرنے لگے توفرمایا یہ تمہاری دنیا ہے جس پر تم حرص کرتے ہو۔
13۔آپ فانی سازوسامان سے دور اور باقی رہنے والی آخرت کے چاہنے والے تھے۔
14۔آپ مشقتیں جھیلنے والے اور نفس پرستی سے دور تھے۔
14۔فرمایا کرتے تھے ہم نے اپنی زندگی کی بھلاٸی”صبر“کوپایاہے۔
15۔آپ نصیحت فرماتے کہ کتاب اللہ کے لیے برتن بنو۔علم کے لیےچشمہ بنواور اللہ تعالی سے روزانہ کا تازہ رزق مانگو۔
16۔حضرت عبداللہ بن عیسیٰ فرماتے ہیں کہ آپ کے چہرے پر گریہ وزاری کی وجہ سے دوسیاہ لکیریں پڑ گٸی تھیں۔
17۔حضرت حسنؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمربن خطابؓ نے اپنے دور خلافت میں ایک دفعہ اس حال میں خطبہ دیا کہ آپ پر اک ایسی چادر تھی جس میں بارہ پیوند لگے ہوۓ تھے۔
18۔آپ نے مسلمانوں کے نام جوبلاد فارس میں مقیم تھے یہ فرمان جاری کیا کہ اے مسلمانوں اپنے آپ کو اہل شرک اور اہل کفر کے لباس اورہٸیت سے دور رکھنا۔
19۔اللہ تعالی نے آپ کو خصوصی انعامات سے تاٸید بخشی۔
20۔رسولﷺنے آپ کالقب”فاروق“ رکھا کیونکہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالی نے حق اور باطل کو جدا کردیا۔
21۔حضرت ابوبکرؓ نے آپ کو اپنا جانشین بنایا۔
اوریکم محرم٢٤ہجری کو دار فانی سے رحلت فرماٸی،روضہ رسول ﷺمیں حضرت ابوبکرصدیقؓ کے پہلوں میں قبر کی لیے جگہ ملی۔
مسلمانوں کا اقبال بھی ان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت
ہوگیا۔