108

عظیم فاتح خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ/تحریر/محمد معاویہ آصف

اسلامی تاریخ کے عظیم انسان، عادل حکمران اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار صحابی، امیر المؤمنین، خلیفہ ثانی، عدل و انصاف، حق گوئی و بے باکی کے پیکر مجسم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حیات اسلام کے لیے ایک عظیم نعمت رہی ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام کے لئے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی آپ کے قبول اسلام کے بعد کمزور مسلمانوں کو ایک حوصلہ ملا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو ایک بے مثال رفیق و ہمدرد نصیب ہوا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حکمرانی کرنے اور نظام سلطنت کو چلانے کا بے مثال انداز پیش کیا اور بتایا کہ جس کے دل میں خوف خدا اور آخرت کا احساس ہوتا ہے تو پھر وہ تخت اور حکومت کے ملنے کے بعد اپنی عوام کی فکروں سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ رات کو جب لوگ آرام و راحت کے لیے گھروں میں چلے جاتے تو آپ رضی اللہ عنہ حالات سے آگہی حاصل کرنے اور پریشان حالوں کی پریشانیوں سے واقف ہونے کے لیے گلیوں میں چکر لگاتے اور جو کوئی مصیبت زدہ ملتا پریشان حال نظر آتا تو خلیفہ وقت خاموشی سے اپنا فرض ادا کردیتے اور احساس تک نہ ہونے دیتے کہ یہ وہی عمر جس کی عظمت کے ڈنکے پورے عالم میں بج رہے ہیں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا تاریخ میں یہ اعزاز ہے کہ انہیں عدل و انصاف کی علامت سمجھا جاتا ہے اور وہ واقعتاً عدل اور انصاف کا مجسمہ تھے۔
آج مغرب کے مؤرخ بھی عدل و انصاف اور ویلفیئر اسٹیٹ کے حوالہ سے حضرت عمر کے دور حکومت کی مثال پیش کرتے ہیں۔
متحدہ ہندوستان کے دور میں ایک الیکشن کے بعد جب بعض صوبوں میں کانگریس کی حکومتیں قائم ہوئی تو کانگریس کے سب سے بڑے راہنما ”مہاتما گاندھی“ نے اپنے اخبار ’’ہریجن‘‘ میں وزراء کے نام ہدایات تحریر کی جن میں یہ بھی تھا کہ ”اگر انصاف اور عدل کے ساتھ حکومت کرنا چاہتے ہو تو ابوبکر و عمر کی زندگیوں اور طرز حکومت کو سامنے رکھو اور ان کی پیروی کرو“
جس طرح آپ عادل بادشاہ تھے اور آپ کا انداز حکمرانی بے مثال تھا اسی طرح آپ فاتح اعظم بھی تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ کی فتوحات پر نظر ڈالیں تو عقل حیرت زدہ رہ جاتی ہے اور تاریخ اس کی مثال لانے سے قاصر ہے۔
آپ کے دور خلافت میں بڑے بڑے ملک اور شہر شام، مصر، عراق، کرمان، خراسان، خوزستان، آرمینیا، آذربائجان اور فارس فتح ہوئے۔
دنیاں میں اور بھی کئی فاتح گزرے ہیں سکندر اعظم، ہلاکو خان، چنگیز خان نپولین مگر یہ سب خونخوار تھے۔
سکندر اعظم نے جب شام کی طرف شہر ”صور“ کو فتح کیا تو وہاں کے لوگ آخر تک جم کے لڑتے رہے لہذا وہاں قتل عام کا حکم جاری کردیا گیا اور ایک ہزار شہریوں کے سر شہر کی فصیل پر لٹکا دیئے گئے اس کے علاوہ تیس ہزار باشندوں کو غلام اور لونڈی بنا کر بیچ دیا گیا۔
فارس میں جب ”اصطخر“ کو فتح کیا تو تمام مردوں کو قتل کر ڈالا۔
1914 میں جب پہلی جنگ عظیم ہوئی تو اس میں چونسٹھ لاکھ انسان قتل ہوئے۔
دوسری جنگ عظیم جو 1938 میں لڑی گئی اس کے مقتولین کی تعداد ساڑھے تین کروڑ کے لگ بھگ تھی۔
ان جنگوں کے مقابلے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں لڑی گئی جنگوں کے مقتولین کو شمار کیجیئے تو ان کی تعداد چند ہزار سے زائد نہ ہوگی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فتوحات میں کبھی بھی انصاف سے تجاوز نہیں کیا انسانوں کا قتل تو ایک طرف درختوں کو کاٹنے تک کی اجازت نہ تھی، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا اور دشمن کے ساتھ کبھی بھی کسی موقع پر بد عہدی یا دھوکہ دہی نہیں کی گئی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں کوئی بھی ایسا فاتح نہیں گزرا جس نے اس قدر احتیاط اور اتنی پابندیوں کے ساتھ کوئی ملک یا شہر فتح کیا ہو۔
دنیا کے کسی بھی حکمران کے پاس اتنی بڑی سلطنت نہیں تھی جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صرف گھوڑوں کی پیٹھ پر بیٹھ کر فتح کی بلکہ اس کا انتظام و انصرام بھی چلایا۔
الیگزینڈر نے 17 لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا لیکن کوئی نظام اور کوئی سسٹم نہ دے سکا جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جو بھی علاقہ فتح کیا وہاں نظم حکومت قائم کیا اور دنیاں کو ایسے ایسے سسٹم دئے جو آج تک رائج ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا مقرر کی، سن ہجری کا اجراء کیا، جیل کا تصور دیا، مؤذنوں کی تنخواہیں مقرر کی، مساجد میں روشنی کا بندوبست کرایا، پولیس کا محکمہ بنایا، ایک مکمل عدالتی نظام کی بنیاد رکھی، آب پاشی کا نظام قائم کرایا، فوجی چھاؤنیاں بنوائیں اور فوج کا باقاعدہ محکمہ قائم کیا، آپ رضی اللہ عنہ نے دنیا میں پہلی بار دودھ پیتے بچوں، معذوروں، بیواؤں اور بے آسراؤں کے وظائف مقرر کیے۔
برطانیہ کو ویلفیئر اسٹیٹ کی شکل دینے کے لیے ناداروں، مریضوں، کم آمدنی والوں، معذوروں، دیگر کمزور افراد، اور خاندانوں کو وظیفے دینے کا جو سسٹم وہاں شروع کیا گیا تھا اس کے بارے میں خود برطانوی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی ڈھانچہ حضرت عمر کے بیت المال کے نظام سے لیا گیا ہے۔
جبکہ ناروے کے بارے میں روایت ہے کہ وہاں بچوں کو دیے جانے والے سرکاری وظیفے کا نام ہی ’’عمر الاؤنس‘‘ ہے، ان کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ تصور حضرت عمر سے لیا گیا ہے اس لیے وظیفے کا نام بھی وہی رکھا گیا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے دنیا میں پہلی بار حکمرانوں، سرکاری عہدیداروں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کا تصور دیا، اور نا انصافی کرنے والے ججوں کو سزا دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا۔
الیگزینڈر کی بنائی گئی سلطنت اس کی وفات کے پانچ سال بعد ختم ہو گئی جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ نے اپنے دور میں جس جس خطے میں اسلام کا جھنڈا لہرایا وہاں سے آج بھی ”اللہ اکبر“ کی صدائیں آتی ہیں۔
دنیا میں الیگزینڈر کا نام صرف کتابوں میں سمٹ کر رہ گیا ہے جب کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بنائے گئے نظام دنیاں کے 245 ممالک میں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں
آج بھی کسی ڈاک خانے سے کوئی خط نکلتا ہے، پولیس کا کوئی سپاہی وردی پہنتا ہے، حکومت کسی بچے، معذور، بیوہ یا بے آسرا شخص کو وظیفہ دیتی ہے اور سیاستدانوں کا احتساب ہوتا ہے تو یہ سب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بنایا گیا نظام ہے جو آپ رضی اللہ عنہ نے اس دنیاں کو دیا۔
22 لاکھ مربع میل زمین پر نظام خلافت جاری کر کے، قیامت تک آنے والے حکمرانوں کے لئے عدل و انصاف کی مثالیں قائم کرکے آپ نے رضی اللہ عنہ نے 63 برس کی عمر میں یکم محرم الحرام 23 ہجری میں شہادت پائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں