اسلامی حکومتوں کے خلاف سازشیں کرنے اور ان کو گرانے میں یہودیوں کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔اور جس منصوبہ بندی کے تحت انہوں نے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی ہیں وہ قابل غور ہونے کے ساتھ ساتھ قابل فکر بھی ہیں، کیوں کہ ان کی سازشوں کے تباہ کن اثرات نہ صرف اُس دور کے مسلمانوں پر پڑے ہیں بلکہ دور حاضر کے مسلمانوں پر بھی اثر انداز ہوئے ہیں۔اور اگر کوئی بھی ان کے سامنے کسی بھی قسم کی مزحمت کرتا ہے تو اسکو راہ کے ایک کانٹے کی مانند نکال باہر پھینکتے ہیں۔بہرحال جس طرح بہت سی گھناؤنی سازشوں میں یہودیوں کا ہاتھ رہا ہے اسی طرح خلافت عثمانیہ کو گرانے میں یہودیوں کا بہت بڑا کردار ہے۔جس کا اعتراف خود اسرائیلی وزیر دفاع نے ٢٠٠٣ء میں اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔
خلافت عثمانیہ کا فرمانروا سلطان عبدالحمید کہ جسکی سلطنت کا بول بالا تھا اور فلسطین،اردن، عراق اور دیگر ممالک بھی اسوقت سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھے تو یہودیوں کی نظر فلسطین اور بیت المقدس پر تھیں۔وہ مسجد اقصی کی جگہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے تھے۔اس منصوبے کو پورا کرنے کے لیے ایک اسرائیلی وفد سلطان عبدالحمید کے پاس آیا اور فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت چاہی،چونکہ اسوقت یہودیوں کو فلسطین اور بالخصوص بیت المقدس میں تو آنے کی اجازت تھی لیکن وہاں پر زمین خریدنے کی اجازت نہیں تھی۔تو اسوجہ سے سلطان عبدالحمید نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔کچھ عرصے کے بعد دوبارہ ایک یہودی وفد آیا اور کہا کہ فلسطین میں ایک ادارہ قائم کیا جائے۔جس میں مختلف علاقوں سے یہودی سائنس دانوں کو اکٹھا کیا جائے گا اور وہ نئی نئی ٹیکنالوجی کو ایجاد کریں گے۔تو سلطان عبدالحمید نے کہا کہ یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن یہ ادارہ فلسطین کے علاوہ کسی اور جگہ قائم کیا جائے۔کیوں کہ وہ یہودیوں کے ارادوں کو بخوبی جانتے تھے اسلیے انکار کر دیا۔تیسری بار جب اسرائیلی وفد آیا تو اس نے رقم کی پیشکش کی۔اس بار سلطان نے غیض و غضب کا اظہار کیا اور ان سے آئندہ ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔
جب یہودیوں نے دیکھا کہ سلطان عبدالحمید ان کی بات ماننے سے انکاری ہے تو انہوں نے سلطان کے خلاف سازشیں شروع کر دیں اور اس پر مختلف الزامات لگا کر اسکی سلطنت کا بھی خاتمہ کر دیا اور سلطان کو نظر بند کر دیا گیا۔اس نظر بندی کے دوران انہوں نے یہودیوں کی سازشوں کے بارے میں لکھا۔دوسری طرف یہودیوں نے خلافت عثمانیہ کو ختم کردیا۔سلطان عبدالحمید لکھتے ہیں کہ خلافت سے برطرف کرنے کے لیے جو وفد آیا تھا اس میں ترکی کی پارلیمنٹ کا یہودی ممبر بھی موجود تھا جو پچھلے وفد کے ساتھ آیا تھا جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سلطان عبدالحمید کے خلاف سازشیں کی گئی تھیں جس کی تصدیق اب ایک صدی کے بعد اسرائیلی کر چکے ہیں۔
سلطان عبدالحمید ایک غیرت مند اور جرات مند بادشاہ تھا لیکن سلطان کی برطرفی کے بعد جن لوگوں نے حکومت کی، یہودیوں نے ان کو ایک کٹھ پتلی حکومت کی طرح استعمال کیا اور پھر اپنی سازشی چالوں سے ترکی کو اپنے قبضے میں لے لیا اور عرب سے علیحدہ قرار دے دیا۔دوسری طرف مکہ کے گورنر حسین بن علی جن کو شریف مکہ کا خطاب دیا جاتا تھا، اس نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی اور عرب کو ایک الگ خطہ قرار دے دیا۔لیکن پھر حسین شریف کے خلاف سازش کر کے یہودیوں نے ان کے بیٹوں کے ہاتھ میں حکومت دے کر ان کو نظر بند کر دیا۔
اور ان تمام سازشوں کے بعد فلسطین پر برطانیہ نے قبضہ کر لیا اور اسرائیلیوں کو وہاں پر زمین خریدنے کی اجازت دے دی اور پھر وہ اسرائیلی فلسطینیوں کو اس زمین کی دوگنی چوگنی قیمت ادا کرتے تھے۔اسطرح اسرائیلیوں نے فلسطین میں زمین حاصل کر لی اسوقت کے علماء کرام اور مفتیان کرام نے یہ فتوی دیا کہ چونکہ اسرائیلی فلسطین میں زمین خرید کر اپنی حکومت چاہتے ہیں تو اسلیے اسرائیلیوں کو زمین بیچنا شرعاً ناجائز ہے۔لیکن فلسطینیوں نے اس بات کو سنی اَن سنی کردیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسرائیلی فلسطین میں ایک خطہ اپنے نام کر چکا اور بعد میں اقوام متحدہ اسرائیل کو بھی فلسطین کا حصہ ماننے لگے۔
یہ سب باتیں اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان سے ان کی ایک صدی قبل کی سازشوں کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔اور ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمنان اسلام کتنے باخبر اور چوکنے ہیں۔لیکن المیہ یہ ہے کہ مسلمان ان دشمنوں سے بالکل بے خبر نظر آتے ہیں۔اللہ تبارک و تعالٰی ہمیں ان تمام دشمنان اسلام کے خلاف اپنی کوشش کو سرگرم رکھنے کی توفیق اور ہمت و طاقت عطا فرمائے جو ہمارے مسلمانوں کو اور ان کے ایمان کو کمزور کرتے ہیں۔
96