انسان، دوست احباب، عزیز، رشتے دار، مال دار ہوں یا غریب حتیٰ کہ ملک خواہ وہ ترقی یافتہ ہوں یا پسماندہ، اسے کسی نہ کسی دوسرے کی مدد اور تعاون کی ضرورت رہتی ہے۔
شاید اللہ تعالیٰ نے اسی لیے زمین پر ایسا قدرتی نظام اور ذرائع پیدا کئے ہیں کہ انسان باہمی تعاون اور مدد سے زندگی بسر کرے، اس طرح زندگی کا توازن برقرار رہتا ہے اور کسی ایک انسان یا ملک کی حاکمیت پیدا نہیں ہوتی۔ ایک لمحہ کے لیے سوچیں اگر خدانخواستہ دنیا پر کسی ایک انسان یا ملک کی حاکمیت قائم ہو جاتی تو اس حاکمیت اور طاقت کے نشے میں وہ دوسروں کی زندگیوں کے بھی مالک بن بیٹھتے اور دوسروں سے ان کے جینے کا حق بھی چھین لیتے۔
ایک دوسرے کی مدد کر کے جینے کی اہمیت اور طریقہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ”نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو” (سورة المائدہ)۔ ہمارے پیارے نبیﷺ نے اپنے عمل سے دنیا کو سکھایا بھی اور بتایا بھی کہ دوسروں کی مدد کرنے سے اللہ راضی ہوتا ہے۔
وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اب دنیا اسلام کے بتائے ہوئے تمام سنہری اصول ایک ایک کر کے اپنا رہی ہے۔ جب دنیا نے اسلام میں بتائے گئے ایک دوسرے کی مدد کرنے کے جذبے کی اہمیت کو سمجھا اور صحیح طرح جان لیا تو دوسروں کو اس بات کی ترغیب دینے کے لیے امدادِ باہمی کا عالمی دن منایا جانے لگا۔
اسی جذبے کو تقویت دینے کے لیے ہر سال جولائی کے پہلے ہفتہ کو امدادِ باہمی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا فیصلہ اقوامِ متحدہ نے 1992ء میں کیا۔ اس دن کے منانے کا مقصد باہمی تعاون کے حوالے نہ صرف عام لوگوں بلکہ حکومتوں کو بھی آگاہی دینا ہے کہ باہمی تعاون و اشتراک کے ذریعے نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی اور دنیا بھر کے بیشتر مسائل کا حل ممکن ہے۔
امدادِ باہمی کا عالمی دن منانے سے لوگوں میں یہ شعور و آگاہی بھی پیدا ہوتی ہے کہ دنیا بھر میں سماجی واقتصادی ترقی کو تیز کرنے اور اقتصادی بحران پر قابو پانے کے لیے باہمی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور امداد کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان میں بھی امدادِ باہمی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے محکمہ ڈاک نے 4 نومبر1967 ء کو امداد باہمی کے عالمی دن کے موقع پر 15 پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا تھا جس کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے عبدالرؤف نے تیا رکیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر
Each for All, All for Each
کے الفاظ طبع کیے گئے تھے۔
برصغیر میں امدادِ باہمی کا آغاز 1902ء میں اس وقت شروع ہوا جب برصغیر کو ایک شدید قسم کے قحط کا سامنا تھا۔ اس وقت کی انگریز سرکار نے اس پر قابو پانے کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا جس میں بہت سے آراء سامنے آئیں۔ اس وقت چونکہ یورپ میں تحریکِ امدادِ باہمی عروج پر تھی، اس وجہ سے کمیشن میں ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ پیداوار بڑھانے کے لیے لئے کوآپریٹو سوسائٹی متعارف کروائی جائے۔ اس سلسلے میں 1904ء میں پہلا قانون بنایا گیا جبکہ 1911ء میں
کوآپریٹو سے متعلق باقاعدہ ایک ایکٹ متعارف کروایا گیا جس سے اس عمل کو ایک نئی جہت ملی اور کوآپریٹو کا عمل تیزی سے شروع ہوا۔ انٹرنیشنل کوآپریٹو الائنس موجودہ دور کی مختلف اقسام کی تنظیموں میں سے ایک ایسی تنظیم ہے جس کا قیام اگست 1895ء کو عمل میں آیا۔
اس دن دنیا بھر کے تمام مذاہب ، فرقوں ، طبقوں اور قوموں کے لوگ انسانوں کے باہمی روابط ، تعاون، احساس اور امداد پر زور دیتے ہیں۔ دنیا بھر کے تمام مذاہب ، طبقوں اور فرقوں میں دینِ اسلام میں سب سے زیادہ امدادِ باہمی ، اخوت و بھائی چارے کا درس دیا گیا ہے۔
سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 10 میں ارشاد باریٰ تعالیٰ ہے کہ ’’مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ سو دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو۔ اور ﷲ سے ڈرتے رہا کرو۔ تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔‘‘
درحقیقت دینِ اسلام ایک بہت پیارا دین ہے۔ اس کے مادے میں امن اور سلامتی، صلح و صفائی کا معنی موجود ہے۔
سین ، لام ، میم پر مشتمل سلم ، لفظ اسلام کا مادہ (root word) ہے بمعنی صلح و صفائی، امن و سلامتی۔ اسی سے لفظ مسلم جو کہ امن وسلامتی کا پیکر ہے۔
امدادِ باہمی کا واضع مقصد و مدعا یہ ہے اپنی جان ، مال ، اخلاق ، سیرت و کردار سے دوسروں کی مدد کرے ، تاکہ معاشرے میں موجود محروم طبقات کے افراد بھی خوشحال معاشرے کا حصہ بن سکیں۔ ہمارے پیارے مذہبِ اسلام نے باہمی خیر خواہی کے پیش نظر تمام امت کے مسلمانوں پر نظامِ زکوٰۃ کو فرض کیا ہے۔ اسلام سراسر خیر خواہی کا مذہب ہے۔ اس دین نے اپنی آمد کے بعد ایک دوسرے کے خون کے پیاسوں کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔صدیوں پرانی دشمنیوں کو گہری دوستی میں تبدیل فرما دیا۔
سورۂ آل عمران میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور سب مل کر ﷲ کی رسی کو تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اور تم پر جو ﷲ کا انعام ہے اس کو یاد کرو۔ جب کہ تم (ایک دوسرے کے ) دشمن تھے ، پس ﷲ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ سو خدا کے فضل سے آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔‘‘
مومن کے باہمی تعلق کو خود حضور اقدسﷺ نے اپنے ارشادات کے ذریعے مزید واضح انداز سے بیان فرمایا ہے۔ مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی ﷲ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
’’مومن سراپا محبت والفت ہے ، اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو نہ کسی کی الفت رکھتا ہو ،اور نہ کوئی اس سے انسیت رکھتا ہے۔‘‘ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں بن سکتا جب تک کہ اپنے بھائی مسلمان کے لیے وہی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔ سنن ابوداود میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے: ”ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے۔ اور ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے۔ ضرر کو اس سے دفع کرتا ہے، اور اس کی پاسبانی اور نگرانی کرتا ہے۔“
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے صحیح مسلم میں ایک روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ نے ارشاد فرمایا: ”سارے مسلمان ( ایک ﷲ، ایک رسول ، اور ایک دین کو ماننے کی وجہ سے ) ایک شخص (کے اعضاء و بدن ) کے مانند ہیں کہ اگر ایک کی آنکھ درد میں مبتلا ہوتی ہے تو سارا بدن بے چین ہو جاتا ہے۔ اور اگر اس کا سر درد کرتا ہے تو اس کا سارا بدن تکلیف محسوس کرتا ہے۔‘‘ اس طرح ایک مسلمان کی تکلیف کا سارے مسلمانوں کو کرب محسوس کرنا چاہیے۔
رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان تو وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہے۔‘‘
آج ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم دینِ اسلام کی ان بہترین تعلیمات اور حضور اقدسﷺ کے پیارے ارشادات پر عمل پیرا ہیں؟ اگر ہم میں جہاں کہیں کمی یا کوتاہی ہے تو ہمیں اس کی اصلاح کرنی چاہئے۔ اور اپنے آپ کو ایک بہترین انسان اور ایک بہترین مسلمان بنانا چاہئے۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم اسلام کی روشن تعلیمات پر عمل کی بجائے مذہبی اور سیاسی بنیادوں پر تفرقہ بازی کا شکار ہو کر معاشرے میں امدادِ باہمی اور خیر کی بجائے شر کا باعث بن رہے ہوں۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہمیں خود اپنی اصلاح کرنی ہے ، اہل وعیال، عزیز رشتہ داروں، ہمسایوں اور تمام افراد سے محبت پانے کی تمنا رکھنے کی بجائے محبت بانٹنا اور لوگوں کی خبرگیری کا سامان کرنا ہے۔ سنن ابی داود میں حضرت جبرین مطعم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ: ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو لوگوں کو عصبیت کی طرف بلائے ، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں ہے جو عصبیت کی خاطر جنگ وجدال کرے ، اور وہ شخص بھی ہم سے نہیں جو عصبیت کی خاطر لڑتا ہوا مارا جائے۔‘‘ اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں ہم سب کو ﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھا منا ہوگا۔ آپس کے بےجا اختلافات کو بھلانا ہوگا۔ بغض وعناد، کینہ کو سینے سے نکال کر باہم اتفاق، اخوت، بھائی چارے اور امن و سلامتی کو فروغ دینا ہوگا، اپنی سیرت و کردار اور حلال مال سے دوسروں کی مدد کرنا ہوگی۔ اور خود کو اچھا انسان، اچھا مسلمان اور محسنِ انسانیت رحمۃ للعالمین حضرت محمدﷺ کا اچھا امتی بناکر پورے عالم میں خود کو بطور آئیڈیل پیش کرنا ہوگا۔ تاکہ امدادِ باہمی کا دن منانے والے جان لیں کہ اخوت و بھلائی اور امداد باہمی کا جامع ترین درس صرف اسلام ہی نے دیا ہے۔
127