غربت کے خاتمے کا بین الاقوامی دن/تحریر/محمد اویس شاہد 0

غربت کے خاتمے کا بین الاقوامی دن/تحریر/محمد اویس شاہد

غربت کے خاتمے کا بین الاقوامی دن/تحریر/محمد اویس شاہد

دنیا بھر میں ہر سال 17 اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے، جو ہمیں اس دیرینہ عالمی چیلنج کی یاد دلاتا ہے جس کا سامنا کروڑوں انسانوں کو آج بھی ہے۔ یہ دن محض ایک تاریخ، نہیں بل کہ ایک عہد ہے کہ ہم غربت کی دلدل میں پھنسے افراد کے انسانی وقار کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی بنیادی انسانی ضروریات کو یقینی بنائیں اور اس لعنت کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں تیز کریں۔ اس دن کی کا آغاز 17 اکتوبر 1987 کو پیرس، فرانس میں ٹروکاڈیرو کے مقام پر منعقد ہونے والی ایک اہم تقریب میں ہوا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں 1948 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ (Universal Declaration of Human Rights) اپنایا تھا۔ اس دن، حقوقِ انسانی کے سرگرم کارکن اور چوتھی دنیا کے والد سمجھے جانے والے جوزف وریسینسکی (Joseph Wresinski) نے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کے سامنے غربت، بھوک اور تشدد کے شکار افراد کو خراج تحسین پیش کیا اور ایک یادگاری پتھر کی نقاب کشائی کی، جس پر کندہ تھا: جہاں کہیں بھی انسانوں کو غربت کے باعث بنیادی حقوق سے محروم کیا جاتا ہے، وہاں امن خطرے میں ہوتا ہے۔ ایک ساتھ اس غربت کے خاتمے کی کوشش کرنا انسانی حقوق کی ضمانت کے لیے ایک مقدس فریضہ ہے۔ یہ دن اصل میں انتہائی غربت کے شکار افراد کو یاد کرنے کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا تھا، جس کا مقصد غربت کے شکار افراد کی آواز کو بلند کرنا اور ان کے تجربات کو تسلیم کرنا تھا۔ اس کے بعد، 22 دسمبر 1992 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد 47/196 کے ذریعے باضابطہ طور پر 17 اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا بین الاقوامی دن قرار دیا، جس کا اطلاق 1993 سے ہوا۔ اس کی بنیاد اس یقین پر رکھی گئی کہ غربت کا خاتمہ ایک ایسا بنیادی مقصد ہے جو پائیدار ترقی کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کے لیے بھی اہم ہے کیوں کہ یہ اس کے پائیدار ترقی کے اہداف (Sustainable Development Goals – SDGs) میں پہلے ہدف، یعنی ہر جگہ ہر شکل میں غربت کا خاتمہ، کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس دن کو منانے کا اہم مقصد یہ ہے کہ غربت کے شکار افراد کو خیرات کا محتاج بنانے کے بہ جائے بنیادی انسانی حقوق کے حاملین کے طور پر دیکھا جائے اور ان کے ساتھ کھڑے ہو کر ایک ایسے سماج کی تعمیر کی جائے جہاں ہر کسی کو وقار اور انصاف میسر ہو۔
ہر سال یہ دن ایک نئے موضوع یا تھیم کے پر مشتمل ہوتا ہے تاکہ غربت کے مختلف پہلوؤں اور قبل عمل حل پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ ابتدائی سالوں میں اس دن کے محاور نے غربت کے ساتھ منسلک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر زور دیا۔ مثال کے طور پر، 2007-2008 میں یہ محور وقار اور انسانی حقوق کا احترام کے مرکزی مسئلے پر مرکوز تھا۔ حالیہ برسوں میں اس دن کے ذیلی موضوعات و محاور نے غربت کے خاتمے کے لیے اجتماعی کارروائی، پائیدار ترقی، ماحولیاتی انصاف اور خاص طور پر ان افراد کی آوازوں کو اہمیت دی ہے جو غربت کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ محاور دنیا کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ غربت ایک کثیر جہتی مسئلہ ہے جس کا حل صرف مالی امداد سے نہیں نکل سکتا، بل کہ اس کے لیے ساختی تبدیلیوں، سیاسی عزم، یکساں معاشرتی شمولیت، اور بالخصوص دولت کی طلب و رسد کے توازن کو معتدل کرنے کی ضرورت ہے۔
2023 کے لیے اس دن کا محور عزت کے ساتھ جینے کے لیے مناسب کام اور سماجی تحفظ: سب کے لیے ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر طے ہوا تھا (Decent Work and Social Protection: Putting Dignity in Practice for All) ہے۔ یہ محور خاص طور پر اس نکتے پر زور دیتا تھا کہ محض کوئی بھی کام غربت سے آزادی نہیں دلا سکتا، بل کہ کام ایسا ہونا چاہیے جو مناسب اجرت، محفوظ ماحول، اور سماجی تحفظ (جیسے پنشن، صحت کی دیکھ بھال) کی ضمانت بھی دے، تاکہ ہر شخص نہ صرف غربت سے نکل سکے، بل کہ ایک باعزت اور بنا فکر زندگی بھی گزار سکے۔ یہ موضوع عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور غیر رسمی ملازمتوں کے پھیلاؤ کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا، جہاں کروڑوں مزدوروں کو بنیادی حقوق اور سماجی تحفظ سے محروم رکھا جاتا ہے۔
غربت کے خاتمے کے بین الاقوامی دن کے اثرات اور نتائج کئی جہتوں سے ظاہر ہوتے ہیں۔ سب سے اہم اثر عوامی شعور کی بیداری میں اضافہ ہے۔ یہ دن پالیسی سازوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، تعلیمی اداروں، اور عام شہریوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے، تاکہ وہ غربت کے خاتمے کی اہمیت پر گفت گو کریں اور عملی اقدامات کی منصوبہ بندی کریں۔ دوسرا بڑا اثر پالیسی سازی پر اثرانداز ہونا ہے۔ یہ دن حکومتوں اور مقتدر اداروں پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ غربت کے خاتمے کے اہداف کو اپنی قومی حکمت عملیوں میں شامل کریں اور سماجی تحفظ، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پر سرمایہ کاری کریں۔ اس دن کی مناسبت سے کیے جانے والے مطالعے اور رپورٹیں غربت کے نئے اور ابھرتے ہوئے رجحانات کو سامنے لاتی ہیں، جو ڈیٹا پر مبنی پالیسیوں کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
اس سب کے باوجود، غربت کے انسداد کے لیے صرف ایک دن منانا کافی نہیں ہے۔ اس دن کی مناسبت سے ہمیں کئی اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں، اور دراصل وہی پیش نظر ہونے چاہئیں۔ پہلا اور سب سے اہم سبق یہ ہے کہ غربت صرف مالی محرومی نہیں بل کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اور اسے اخلاقی اور قانونی ذمے داری کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔ یہی تعلیمات ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ملتی ہیں، آپ نے خطبہ حجۃ الوداع میں تمام انسانوں کو مساوی قرار دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بنیادی انسانی اقدار میں تمام اںسان باہم یکساں شریک ہیں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ غربت کے حل میں غریبوں کی بھی عملی شمولیت ضروری ہے۔ پالیسیاں غربت کے شکار افراد کے تجربات اور معلومات کی بنیاد پر بنائی جانی چاہییں، نہ کہ اس دلدل سے باہر بیٹھے افراد کی جانب سے مسلط کی جائیں۔ ان کی آواز، ان کا وقار، اور ان کی قیادت کو تسلیم کرنا غربت کے خاتمے کی ہر کوشش کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔ تیسرا سبق دولت کی تقسیم کی ساختی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ جب تک معاشی نظام، ٹیکس پالیسیاں، اور سیاسی ڈھانچے عدم مساوات کو فروغ دیتے رہیں گے، غربت کا خاتمہ محض ایک خواب ہی رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے قرآن میں دولت کی متوازی طلب و رسد کی اہمیت پر زور دیا ہے، اور زکاۃ کی اہمیت ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ فریضہ اس لیے لاگو کیا گیا ہے تاکہ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو کر نہ رہ جائے، بل زکاۃ کا نظام دولت کے ارتکاز کا انسداد اور اس کی گردش کی ضمانت ہے
لہٰذا، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا ہوگا۔ چوتھا اہم سبق عالمی یکجہتی کا ہے۔ عالمی سطح پر مالی اور ماحولیاتی بحرانوں کے تناظر میں، ترقی پذیر ممالک کو معاونت فراہم کرنا اور عالمی معاشی ڈھانچے میں انصاف لانا از حد ضروری ہے۔
آخر میں، یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ غربت کا خاتمہ ایک طویل سفر ہے جس کے لیے مسلسل عزم، وسائل اور سب سے بڑھ کر انسانیت کا جذبہ درکار ہے۔ جب تک دنیا میں ایک بھی شخص غربت کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، ہم سب کا فرض ہے کہ اس آواز میں آواز ملائیں اور ہر فرد کے لیے ایک باعزت اور محفوظ مستقبل کی تعمیر کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ غربت کے خلاف جنگ صرف حکومتوں یا اداروں کی ذمے داری نہیں، یہ ہر فرد کی اخلاقی ذمے داری ہے، جسے ہمیں ہر صورت نبھانا ہے۔

غربت کے خاتمے کا بین الاقوامی دن/تحریر/محمد اویس شاہد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں