خوراک کا عالمی دن اور جنگی بھوکوں کا نوحہ/تحریر/شکیل أحمد ظفر 0

خوراک کا عالمی دن اور جنگی بھوکوں کا نوحہ/تحریر/شکیل أحمد ظفر

خوراک کا عالمی دن اور جنگی بھوکوں کا نوحہ/تحریر/شکیل أحمد ظفر

ہر سال 16 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی «خوراک اور زراعت کی تنظیم» (FAO) کی سربراہی میں خوراک کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں بھوک، غذائی قلت، اور غذائی نظام کی بہتری و استحکام کے لیے کام کیا جاسکے۔
اس دن منانے کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ خوراک ہر انسان کا بنیادی حق ہے، اور اس کا مؤثر نظام،ضیاع (waste) کی کمی، اور منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے- تازہ اندازے کے مطابق دنیا میں تقریباً
673 ملین لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں، جو 2022 کی نسبت تھوڑا سا کم ہے،افریقی خطے اور مغربی ایشیا میں بھوک کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جہاں خوراک کے بحران مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
مگر دوسری طرف، حیران کن تضاد یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق “روزانہ ایک ارب سے زائد کھانے کی خوراک ضائع ہوتی ہے”۔
ضیاع کا یہ بوجھ نہ صرف انسانی المیے کو بڑھاتا ہے بلکہ ماحولیاتی نقصان، نباتاتی تنوع کے خاتمہ، اور پانی و زمین کے وسائل پر دباؤ کا باعث بھی بنتا ہے۔
یہ شرم ناک اور الم ناک حقیقت ہے کہ اتنی خوراک ضائع کی جا رہی ہے، جب کہ لاکھوں لوگ خوراک کے ایک نوالے کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔
عالمی سطح پر بھوک اور غربت کے بدترین مناظر اُن علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں،جہاں جنگ، محاصرے اور سیاسی جبر نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔
غزہ کی صورتِ حال 2025 میں تاریخ کا سیاہ ترین دور کہلائے گی،کیوں کہ
5 لاکھ سے زائد افراد قحط جیسی حالت سے گزر رہے ہیں۔ بچے، حاملہ خواتین، اور بوڑھے اس بحران کا پہلا شکار ہیں۔
خوراک کی رسائی بند اور امدادی راستے مسدود ہیں۔
آہ! افسوس کہ جنگ کی ہولناکی نے غزہ کو زندہ لاشوں کی بستی بنا دیا ہے۔

اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی طویل لاک ڈاؤن، سیاسی گھٹن اور اقتصادی تنزلی کے سبب نادار کشمیری خاندان دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔
زرعی نظام متاثر ہوچکا ہے اور مقامی روزگار کی بندش کی وجہ سے ہزاروں کشمیری خوراک کی قلت اور بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
یاد رکھیں!
یہ المیہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی ہے اور اس میں عالمی برادری کا امتحان ہے۔

خوراک کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بھوک محض ایک سماجی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانی بقا کے لیے تباہ کن ہے۔
دیکھیں! نا جب غزہ کے بچے بھوک سے بلکتے ہوں،کشمیری ماؤں کی آنکھیں خالی برتنوں کو دیکھ کر پتھریلی ہورہی ہوں،اور دنیا کے کروڑوں افراد کھانے کے ایک لقمے کے لیے بے چین ہوں تو اس وقت ہر باشعور انسان کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ آواز اٹھائے اور بھوک ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے۔
ہم چھ ایسی تجاویز پیش کرتے ہیں،جن پر عمل پیرا ہوکر ہم مقامی و بین الاقوامی سطح پر بھوک مٹانے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ملاحظہ کیجئے:
1. زرعی پیداوار میں اضافہ اور ماحولیاتی لچک:
جدید زرعی طریقوں، پانی کے بہتر استعمال، اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے۔

2. دیہی کسانوں کی مارکیٹ تک رسائی:
چھوٹے کسانوں کو مقامی و عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کریں۔

3. خوراک کے ضیاع کا خاتمہ:
گھروں، ہوٹلوں، شادیوں، دکانوں اور فیکٹریوں میں روزانہ ضائع ہونے والی خوراک کو بچایا جائے۔

4. ماں اور بچے کی غذائی ضروریات کا خیال:
غذائیت سے بھرپور خوراک، شعور و تعلیم اور صحت کے لیے سہولیات فراہم نہایت ضروری ہے۔

5. دولت کی منصفانہ تقسیم:
سماج میں غربت، افراطِ زر اور بے روزگاری کا حل صرف اسی وقت ممکن ہے جب دولت کا بہاؤ چند ہاتھوں سے نکل کر عام انسان تک پہنچے۔

6. زکوٰۃ، صدقہ،عشر اور جود و سخا کا نظام مستحکم کریں:
اسلام کا نظامِ زکوٰۃ دراصل معاشرے کے پسماندہ طبقے کے لیے تحفظ اور خوداری اور صاحب ثروت طبقے کے لیے مال کی پاکیزگی اور اجر و ثواب کے حصول کا سبب ہے۔
خوراک کا عالمی دن اور جنگی بھوکوں کا نوحہ/تحریر/شکیل أحمد ظفر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں