ذہنی صحت کا عالمی دن/جیو اور جینے دو/تحریر/روفیسر عبد المعید زبیر
ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کی طرف ایک واقعہ کی نسبت کی جاتی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میری ماں نے ایک رات کھانے میں میرے والد کو جلی ہوئی روٹی پیش کی۔ میں نے یہ دیکھا تو والد کی جانب سے سخت ردعمل کا انتظار کرنے لگا۔ مجھے امید تھی کہ وہ والدہ کے اس رویے پر غصے کا اظہار کریں گے۔ مگر میری حیرت اس وقت اپنی انتہا کو پہنچی، جب انہوں نے بنا کوئی بات کہے، انتہائی سکون سے کھانا کھایا اور ساتھ ہی مجھ سے میرے دن کے معمولات کے بارے میں سوال کرنے لگے۔ اسی دوران میری والدہ نے ان سے روٹی جل جانے کی معذرت کی تو والد صاحب نے ایسا جواب دیا کہ میں ان کا منہ ہی تکتا رہ گیا کہ “مجھے تو یہ روٹی کھا کر مزا آیا”۔
اب یہ بات میرے ذہن میں اٹک کر رہ گئی۔ اسی دوران والد صاحب سے کیا باتیں ہوئیں مجھے کچھ یاد نہیں۔ بہر حال جب رات کو سونے سے قبل والد کو شب بخیر کہنے ان کے کمرے میں گیا تو ان سے اس بارے میں پوچھ ہی لیا کہ کیا واقعی آپ کو جلی ہوئی روٹی کھا کر مزا آیا تھا ؟
تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کچھ دیر سکوت کے بعد جواب دیا کہ “بیٹا ایک جلی ہوئی روٹی کچھ نقصان نہیں پہنچاتی مگر تلخ ردعمل اور بد زبانی انسان کے دل و دماغ اور جذبات کو مجروح کر دیتے ہیں”۔
یہ دُنیا بے شمار ناپسندیدہ چیزوں اور لوگوں سے بھری پڑی ہے، کیوں کہ ہر کسی کا مزاج مختلف ہے، جب مزاج ہی مختلف ہیں تو چیزوں کو پرکھنے کا معیار بھی پر کسی کا مختلف ہو گا۔ ہم میں سے کوئی بھی بہترین یا مکمل انسان نہیں ہے، تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ لوگوں سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ایک دوسرے کی غلطیوں سے درگزر کیا جائے، رشتوں کو بخوبی نبھایا جائے کیوں کہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہی تعلقات میں بہتری کا سبب بنتا ہے۔ تعلقات میں بہتری اچھے ماحول کو جنم دیتی ہے اور اچھا ماحول ذہنی کا سکون کا سبب بنتا ہے اور یوں ذہنی سکون تعلقات کا لحاظ رکھتا ہے ۔ گویا یہ ایک سرکل ہے جس میں ہر ایک عنصر دوسرے سے ملا ہوا ہے۔
اگر ہم کسی کو تلخ جواب دیں، لڑیں یا کوئی دباؤ ڈالیں تو ہمارا یہ عمل مخالف کو کسی نہ کسی ردعمل پر ابھارے گا۔ یوں ہمارا جواب اور دوسرے کا ردعمل صرف ایک دوسرے کا ذہنی سکون برباد کرنے کا سبب ںہیں بنتا بلکہ دونوں اطراف کے کئی لوگ اس کا شکار ہو جائیں گے۔ جس کی عام مثال پاکستانی معاشرے میں ساس بہو کے مسائل ہیں۔ یہ جھگڑے صرف دو عورتوں کی جنگ نہیں بلکہ گھر اور گھر کے ہر فرد کا سکون برباد کر دیتے ہیں۔ یہاں تک اگلی نسل میں منتقل ہو جاتے ہیں لہذا ہماری ایک چپ اور برداشت کئی لوگوں کے لیے ذہنی طمانینت کا سبب بن سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں ایک بلین افراد ذہنی بیماریوں کا شکار ہیں ۔ پاکستان کی آبادی کا بیس فیصد حصہ اس بیماری کی لپیٹ میں ہے۔ بلکہ یہاں تو وہ سہولیات ہی میسر نہیں جو ایک ذہنی مریض کی صحت کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس مرض کے شکار لوگوں میں سے ایک، ہر چالیس سیکنڈ میں خودکشی کر رہا ہے۔
اس جان لیوا مرض کے بارے میں لوگوں میں شعور پیدا کرنے کے لیے 10 اکتوبر کو دنیا بھر میں “ذہنی صحت کا عالمی دن” (world Mental Health Day) منایا جاتا ہے. جس کا مقصد اس مرض کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دینا اور مثبت سوچ کو فروغ دینا ہے۔ انہیں احساس دلانا ہے آپ کا ایک قول یا عمل آپ کے ساتھ کتنے لوگوں کا ذہنی سکون برباد کرنے کا سبب بنے گا۔ لہذا جیو اور جینے دو ۔ کیوں کہ یہی نیگیٹو تھنکنگ ذہنی انتشار کا بنیادی سبب بنتی ہے۔ اگر ہماری سوچ بدلے گی تو چیزوں کو پرکھنے اور انہیں اہمیت دینے کے زاویے بھی بدل جائیں گے۔
ذہنی صحت مثبت طرز فکر (positive thinking) کا نام ہے. یہی مثبت سوچ سماجی، نفسیاتی، جسمانی اور جذباتی صحت مندی کی ضامن ہوتی ہے۔ یہی انسان پھر ذہانت کے بل بوتے پر بڑی سے بڑی طاقتوں کو زیر کر دیتا ہے۔
تندرست اور توانا ذہن انسانی جسم کا ایک ایسا عضو ہے جسے جسم کا بادشاہ کہا جا سکتا ہے۔ یہی وہ بادشاہ ہے جو چند لمحوں میں بڑی سے بڑی مشکل کا یوں آسان حل پیش کرتا ہے کہ انسان غالب ہو کر فاتح کہلاتا ہے۔ یہ اسی ذہن صحت کے کارنامے ہیں کہ خشکی ہو یا تری، سطح زمین ہو زیر زمین، آسمان کی بلندیاں ہوں یا پانی کی گہرائیاں، ہر جگہ جدید ترین ٹیکنالوجی انسانی وجود کا مظہر ہین۔
اگر ذہنی صحت متاثر ہو جائے تو انسان کے سوچنے، فیصلہ کرنے، جذبات و احساسات کو قابو میں رکھنے اور ہر قسم کے تناؤ سے نمٹنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔ ایسا ذہن نہ کچھ نیا کر سکتا ہے اور نہ کسی کے کام آ سکتا ھے۔ جو انجام کے اعتبار سے اکثر مہلک ثابت ہوا ہے۔
عمومی طور پر ہماری سوچ یہ ہے کہ صرف بڑی عمر کے لوگ ذہنی طور پر متاثر ہوتے ہیں مگر ڈبلیو ایچ او کے مطابق 18 سال تک کا ہر ساتواں کم عمر فرد کسی نہ کسی ذہنی مسئلہ کا شکار ہے۔ کہیں ان کی برداشت سے زیادہ پڑھائی کا دباؤ تو کہیں پوزیشن لینے کا خمار، کہیں والدین کے جھگڑے تو کہیں حلات کی ستم ظریفیاں گویا کسی نہ کسی طرح سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہوتی ہے۔ البتہ بڑی عمر کا تو ہر افراد کہیں نہ کہیں ذہنی دباؤ کا شکار ہو ہی جاتا ہے۔
خان دانی مسائلہوں یا معاشی، کام کا دباؤ ہو یا ملازمت کے مسائل، تعلیم و ہنر کی کمی ہو یا زندگی کے تلخ تجربات، کسی کا بچھڑ جانا ہو یا مزاج کی حساسیت، یہ ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی شخص کو ذہنی عارضے میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ ان ذہنی بیماریوں میں دو بہت نمایاں ہیں۔ جسے ڈپریشن اور اینزائٹی کہا جاتا ہے۔
ڈپریشن کہتے ہیں کہ اداسی کا چھائے رہنا، حال و ماضی میں پھنسے رہنا۔ یعنی ہر وقت کی سوچ کہ فلاں نے میرے ساتھ ایسا کیا، فلاں نے یہ کہا، فلاں ایسا ہے۔ اگر انسان اپنی سوچوں کو ماضی کے حالات سے ہی باندھے رکھے تو وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ بلکہ نہ خود بڑھ سکتا ہے اور نہ ہی اپنے متعلقہ افراد کو آگے بڑھنے دیتا ہے۔ اس کی منفی سوچ، اس کی صلاحیتوں کو کھا جاتی ہے، حالات کے مطابق نہ چلنے کی وجہ سے زمانے سے بہت پیچھے اور اکیلا رہ جاتا ہے اور بالآخر خالق سے ہی شکوہ کناں ہوتا نظر آتا ہے۔
دوسری ذہنی بیماری اینزائٹی ہے، جس کا تعلق زیادہ سوچنا اور ہر وقت مستقبل کا ڈر لگا رہنا ہے۔ حالاں کہ ہماری سوچ یہ ہونی چاہیے کہ آج کے دن ہم اپنے کام کے ساتھ مخلص رہیں۔ محنت کریں اور ایمانداری سے فرائض انجام دیں۔ کل کیا ہو گا یہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔ وہ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا اگرچہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ دراصل اللہ تعالیٰ پر توکل کی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔
لہذا آگے بڑھنے اور خوش حال زندگی گزارنے کے لیے ان مسائل سے دامن چھڑوانا ضروری ہو گا۔ ذہنی سکون کے لیے سب سے پہلے رجوع الی اللہ ہے۔ پھر کسی کو اپنا لیں۔ دوست، رشتہ دار یا تعلق دار، جسے آپ اپنا سمجھیں۔ جس سے دل ہلکا کر سکیں، جس کی بات کو سمجھ سکیں اور مان سکیں، جو آپ کو حوصلہ دے سکیں۔ ان رشتوں میں اللہ تعالیٰ نے دو رشتے بہت کمال کے بنائے ہیں۔ اگر غیر شادی شدہ ہیں تو والدین، شادی شدہ ہیں تو لائف پارٹنر۔ انہیں اہمیت دیں، سمجھیں اور مانیں۔ سب سے بڑھ کر قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسے موقع پر احکام دیکھں۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے تو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا کوئی قید خانے میں ہمیشہ خوش رہ سکتا؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مفہوم کے کہ پریشانی ہو تو صبر کرو اور نماز پڑھو۔ اب ان دونوں باتوں کو ملا کر دیکھیں تو ہر مسئلہ حل ہو جائے گا کہ دنیا میں سب کچھ ہماری مرضی کا نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس کی مثال مسافر خانے اور قید خانے کی سی ہے۔ یہ عارضی ہے۔ لہذا اگر کوئی پریشانی درپیش ہو تو سوچنے اور رونے دھونے کی بجائے رجوع الی اللہ کریں۔ تمام مسائل خود بخود حل ہوتے جائیں گے ۔ ان شاءاللہ
ذہنی صحت کا عالمی دن/جیو اور جینے دو/تحریر/روفیسر عبد المعید زبیر