ایک خاموش رہنما "سفید چھڑی کا عالمی دن''/تحریر/حافظ غلام صابرایک خاموش رہنما "سفید چھڑی کا عالمی دن''/تحریر/حافظ غلام صابر 0

ایک خاموش رہنما “سفید چھڑی کا عالمی دن”/تحریر/حافظ غلام صابر

ایک خاموش رہنما “سفید چھڑی کا عالمی دن”/تحریر/حافظ غلام صابر

سفید چھڑی محض ایک عصا ہی نہیں بلکہ بینائی سے محروم افراد کی خودمختاری، عزتِ نفس اور سماجی شناخت کی ایک مضبوط علامت بھی ہے۔ یہ چھڑی بصارت سے محروم افراد کو نہ صرف راستہ دکھاتی ہے بلکہ سفرِ میں پیش آنے والی رکاوٹوں کی خبر بھی دیتی ہے۔ اس کے ذریعے وہ نہ صرف خود کو محفوظ رکھتے ہیں بلکہ آس پاس کے لوگوں کو بھی اپنی موجودگی کا احساس بھی دلاتے ہیں۔ سفید چھڑی ایک عملی آلہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خاموش ترجمان بھی ہے جو بصری معذوری کا نہایت وقار سے اعلان کرتی ہے اور اس پیغام کو عام کرتی ہے کہ نابینا افراد بھی عزت، رہنمائی اور مساوی مواقع کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں۔
ان مخصوص افراد کی خودمختاری، تحفظ اور سماجی شعور کو اجاگر کرنے کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 15 اکتوبر کو “سفید چھڑی کا عالمی دن” منایا جاتا ہے۔ امریکی صدر لنڈن بی جانسن نے سب سے پہلے 1964ء میں 15 اکتوبر کو “White Cane Safety Day” کے طور پر منانے کا سرکاری اعلان کیا۔ پھر اقوامِ متحدہ نے اس کو باقاعدہ طور پر 15 اکتوبر 1970ء سے عالمی سطح پر تسلیم کیا تاکہ یہ باور کرایا جا سکے کہ سفید چھڑی صرف رہنمائی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ بصارت سے محروم افراد کی خود انحصاری اور باعزت زندگی کی علامت بھی ہے۔
اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد نابینا افراد کی خودمختاری کو اجاگر کرنا، سفید چھڑی کو ایک باوقار علامت کے طور پر تسلیم کروانا اور معاشرے میں ایسا شعور بیدار کرنا ہے جو بصارت سے محروم افراد کو صرف ہمدردی نہیں بلکہ مساوی مواقع فراہم کرنے کی سوچ کو فروغ دے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ نابینا افراد معاشرے کے فعال اور قابل احترام رکن ہیں جو اپنی محنت، صلاحیت اور عزم سے ایک باوقار زندگی گزار سکتے ہیں۔ بشرطیکہ ان کی ضروریات کے مطابق انہیں مناسب سہولیات اور ماحول فراہم کیا جائے۔
پاکستان میں بصارت سے محروم افراد زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ خواہ وہ تعلیم ہو، فنون لطیفہ ہوں یا دفتری و پیشہ ورانہ امور۔ تاہم یہ امر قابل توجہ ہے کہ انہیں روزگار کے مواقع، معیاری تعلیم تک رسائی، اور آزادانہ آمد و رفت جیسے بنیادی حقوق کے سلسلے میں کئی طرح کی رکاوٹوں اور عدم سہولیات کا سامنا ہے۔
سفید چھڑی کے عالمی دن کے موقع پر وطنِ عزیز کے مختلف تعلیمی اور سرکاری اداروں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جن میں نابینا افراد، اساتذہ، طلبہ، سماجی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ ان تقاریب کا بنیادی مقصد بصارت سے محروم افراد کی خود انحصاری، تعلیم، روزگار اور معاشرتی شمولیت کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ مقررین اپنے خطابات میں سفید چھڑی کی علامتی اور عملی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں خصوصی واک کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جس میں شرکاء نابینا افراد کے حقوق کے لیے بینرز اور پلے کارڈز وغیرہ اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
ان تقریبات میں بریل کتب، وائس سافٹ ویئرز اور بصری امدادی آلات کی نمائش بھی کی جاتی ہے تاکہ نابینا افراد کی عملی زندگی میں آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ مقررین حکومت، نجی اداروں اور معاشرے پر زور دیتے ہیں کہ وہ نابینا افراد کو برابر کے شہری تسلیم کرتے ہوئے انہیں تعلیم، ملازمت اور آمد و رفت سمیت ہر شعبے میں مساوی سہولیات فراہم کریں۔
پاکستان میں نابینا افراد کی حالت نہ تو مکمل طور پر اچھی ہے اور نہ ہی بالکل خراب بلکہ اس میں بہتری کے پہلو بھی ہیں اور کئی مسائل بھی موجود ہیں۔ اب بھی ان کو روزمرہ زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ جیسے سفر میں رکاوٹیں اور روزگار کے مواقع کی کمی وغیرہ۔
پاکستان میں بصارت سے محروم افراد کی تعلیم و تربیت، فلاح و بہبود اور دیگر حقوق کے تحفظ کے لیے کئی نمایاں ادارے اور تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف بلائنڈ (PAB) ایک ملک گیر غیر سرکاری تنظیم ہے جو نابینا افراد کے تعلیمی، پیشہ ورانہ اور سماجی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ اس کی شاخیں ملک کے مختلف شہروں میں قائم ہیں جو مقامی سطح پر نابینا افراد کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سپیشل ایجوکیشن (NISE) اسلام آباد میں واقع ایک اہم سرکاری ادارہ ہے جو خصوصی بچوں بشمول نابینا طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہاں بصارت سے محروم طلبہ کے لیے جدید سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ سائٹ سیورز پاکستان ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ہے جو نابینا پن اور کمزور بینائی کے تدارک، علاج اور بحالی پر کام کرتی ہے۔ یہ ادارہ آگاہی، تعلیم، صحت اور سماجی شمولیت کے شعبوں میں مختلف منصوبے چلاتا ہے تاکہ بصارت سے محروم افراد خودمختار زندگی گزار سکیں۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن (NBF) پاکستان کا ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے جو فروغِ تعلیم اور عاداتِ مطالعہ کو عام کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ یہ ادارہ بصارت سے محروم طلبہ و طالبات کے لیے بریل رسم الخط میں نصابی اور غیر نصابی کتب شائع کر رہا ہے تاکہ وہ بھی دیگر طلبہ کی طرح تعلیم حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی دیگر تنظیمیں اور ادارے نابینا افراد کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف سطحوں پر سرگرمِ عمل ہیں جو انہیں بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 20 لاکھ سے زائد نابینا افراد موجود ہیں اور تقریباً 2 کروڑ افراد کسی نہ کسی درجے کی بینائی کی کمی کا شکار ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں نابینا پن اور بصارت میں کمی کی نمایاں وجوہات میں موتیا بند(Cataract)، قرنیہ (آنکھ کے ڈھیلے کا بیرونی پردہ) کا دھندلا جانا (Corneal Opacity)، کالا پانی (Glaucoma) اور عینک یا لینز وغیرہ کے ذریعے نظر درست نہ ہونا (Uncorrected Refractive Errors) شامل ہیں۔ بصارت سے متعلق دیگر مسائل کے حل کے لیے مربوط اور مستقل اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
سفید چھڑی کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ایک مہذب اور باشعور معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنے تمام شہریوں کو مساوی مواقع فراہم کرے۔ خصوصاً معذور افراد کو درپیش چیلنجز کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کے لیے ایک جامع، قابلِ رسائی اور ہمدرد ماحول تشکیل دے۔ اس دن کی مناسبت سے ہم سب پر لازم ہے کہ ہم بصارت سے محروم افراد کی عملی معاونت، آگہی، اور سماجی شمولیت کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ وہ عزت و وقار کے ساتھ ایک خودمختار زندگی گزار سکیں۔

ایک خاموش رہنما “سفید چھڑی کا عالمی دن”/تحریر/حافظ غلام صابر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں