سنجیدہ موضوع پر طنز فکری زوال کی نشانی/تحریر/عابد محمود عزام 0

سنجیدہ موضوع پر طنز فکری زوال کی نشانی/تحریر/عابد محمود عزام

سنجیدہ موضوع پر طنز فکری زوال کی نشانی/تحریر/عابد محمود عزام

مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی کتاب “دجال: کون، کب، کہاں؟” ایک فکری، تحقیقی اور بصیرت افروز تصنیف ہے۔ بظاہر اس کتاب کا محور دجال کی ذات اور اس کے فتنوں کا بیان ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسی جامع اور تجزیاتی تصنیف ہے جو انسانی تاریخ، موجودہ عالمی نظام اور آنے والے فتنوں کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ مصنف نے دجال کے خطرناک فتنے کے فکری، سیاسی، معاشی اور تہذیبی مظاہر کو نہایت عالمانہ انداز میں سامنے رکھا ہے۔ کتاب میں قیامت کی چھوٹی، بڑی علامات، امام مہدیؑ کا ظہور، حضرت عیسیٰؑ کا نزول اور یاجوج و ماجوج کے خروج جیسے عظیم واقعات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ تاہم مصنف نے ان واقعات کے پس منظر میں موجود تاریخی، فکری اور روحانی عوامل پر بھی گہری روشنی ڈالی ہے۔
مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے عالمی صہیو۔ نیت، یہو۔ دی عقائد اور ان کے مذہبی تصورات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک صہیو۔ نی نظام، بین الاقوامی مالیاتی ادارے، سودی معیشت اور جدید عالمی حکومت کے قیام کی کوششیں اسی دجالی فکر کی توسیع ہیں۔ یہ کتاب محض مذہبی یا روایتی زاویہ نہیں رکھتی، بلکہ اس میں معاشی، سیاسی اور فکری پہلوؤں کو بھی نہایت سلیقے سے مربوط کیا گیا ہے۔ سودی نظام کے تباہ کن اثرات، عالمی معیشت میں طاقت کے توازن اور میڈیا کے ذریعے ذہنی غلامی کے نئے طریقوں پر جو بصیرت افروز تجزیہ مصنف نے پیش کیا ہے، وہ ہر سنجیدہ قاری کے ذہن و دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ کتاب کے مختلف ابواب میں مصنف نے اسلامی تاریخ کے ادوار پر نگاہ ڈالتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ حق و باطل کا معرکہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ یہ جدوجہد انبیاء علیہم السلام کے زمانے سے آج تک جاری ہے۔ دجالی نظام ایک مکمل تہذیبی و فکری نظام ہے جو بتدریج انسانی معاشروں میں سرایت کرتا چلا جا رہا ہے۔ مصنف نے اس فتنے سے بچاؤ کے لیے روحانی اور فکری اصول بھی بیان کیے ہیں۔ انہوں نے سورۃ الکہف کی حکمت پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جسے نبی کریم ﷺ نے دجال کے فتنے سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح نبوی دعاؤں، صبر، تقویٰ اور فتنوں کے زمانے میں گوشہ نشینی اور ضبطِ نفس کی اہمیت کو بھی نہایت بصیرت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔
بدقسمتی سے بعض لوگ اس سنجیدہ اور فکری موضوع کو طنز و تمسخر کا نشانہ بناتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ ناقدین تعصب، لاعلمی یا مصنف اور ان کے ادارے سے بغض کی بنیاد پر کتاب پر تنقید کرتے ہیں۔ بعض افراد طنزیہ انداز میں یہ جملہ بھی دہراتے ہیں کہ “دجال جامعۃ الرشید تک پہنچ گیا ہے”۔ یہ جملہ بعض لوگ مفتی زرولی خانؒ سے منسوب کرتے ہیں، جو اپنی مخصوص مزاحیہ گفتگو میں اس قسم کے جملے متعدد علماء سے متعلق بھی کہا کرتے تھے، لیکن ایسے اقوال علمی نہیں، بلکہ جذباتی رویّے کی عکاسی کرتے ہیں۔
اگر دجال اور اس کے فتنوں کا ذکر محض مذاق یا تضحیک کا موضوع بن جائے تو یہ خود زوالِ فکری اور کمزور ایمان کی علامت ہے۔ قرآن و سنت میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگنے اور اس کے خطرات سے آگاہ رہنے کی صریح ہدایات موجود ہیں۔ چنانچہ اگر ہم اس موضوع کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں تو دراصل ان واضح تعلیمات سے غفلت برت رہے ہیں، جو دجال سے متعلق احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔ یقیناً کسی بھی علمی تصنیف سے اختلاف رائے ممکن ہے۔ مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی کتاب کے نکات پر بھی کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے، مگر اختلاف کا طریقہ علمی اور مہذب ہونا چاہیے، تعصب یا طنز پر مبنی نہیں۔ اگر کسی نقطے پر شرحِ صدر نہ ہو تو دلیل کے ساتھ رد کیا جائے، مگر استہزا اور تحقیر سے نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ناقدین کی ایک بڑی تعداد ان افراد پر مشتمل ہے جو جامعۃ الرشید کی ترقی اور کامیابی کو تعصب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ چونکہ یہ کتاب مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے اسی ادارے میں رہتے ہوئے لکھی تھی، اس لیے بعض لوگ اپنی ذاتی ناپسندیدگی کو علمی تنقید کا لبادہ اوڑھا کر پیش کرتے ہیں۔
درحقیقت مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے اس کتاب میں ایک فکری دعوت اور بیداری کی صدا بلند کی ہے۔ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ ہم زمانۂ فتنہ و انتشار میں جی رہے ہیں اور جو شخص اس میں آنکھیں بند رکھے گا، وہ حقیقت کی روشنی سے محروم رہ جائے گا۔ “دجال: کون، کہاں، کب؟” محض ایک مذہبی تصنیف نہیں، بلکہ ایک فکری دستاویز ہے جو سوچنے، سمجھنے اور بیدار ہونے کے لیے لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ضروری مطالعہ ہے جو دین، امت اور انسانیت کے مستقبل سے فکری وابستگی رکھتا ہے۔
سنجیدہ موضوع پر طنز فکری زوال کی نشانی/تحریر/عابد محمود عزام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں