80

شکرگزاری/مصنفہ/نمرہ امین(لاہور)

“صبر و شکر” عموماً یہ دو لفظ ایک ساتھ سننے میں آتے ہیں۔ آزمائشوں پر صبر کرنا اور نعمتوں پر شکر کرنا زندگی کو آسان بنانے کے لیے بہت اہم اور خوبصورت اصول ہیں۔
قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں: ” تم شکر کرو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔”
اللہ پاک کی عطا کردہ زندگی پر راضی رہنا اور زندگی میں عطا کردہ بڑھتی ہوئی نعمتوں پر شکر ادا کرنا کہ اس نے ہماری زندگی کو ان نعمتوں سے سجایا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں! شکرگزاری، شکر ادا کرنا انسان کی جسمانی و ذہنی صحت پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے اور یہ بات ریسرچ سے بھی ثابت ہوگئی ہے کہ شکرگزار ہونا:
1۔ انسان کی خوشیوں کو بڑھاتا ہے۔
2۔ بہتر اور پرسکون نیند کی وجہ بنتا ہے۔
3۔ جسم کو طاقت اور اعتماد فراہم کرتا ہے۔
4۔ بےچینی، اضطراب، اداسی، کی علامات میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
جسمانی درد میں بھی کمی کا باعث بنتا ہے۔
شکرگزاری کی یہ مثبت عادت نہ صرف آپ کی جسمانی و ذہنی صحت کے لیے مفید ہوتی ہے بلکہ آپ کے روزمرہ کے معاملات اور تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ شکرگزاری کی عادت کو اپنی زندگی کا اہم حصہ بنائیں گے تو اس کے معاملات و واقعات اتنے ہی خوبصورت ہوتے جائیں گے۔ اللہ پاک شکرگزاری کو پسند فرماتے ہیں اس سے اللہ کا دل خوش ہوتا ہے اور جب ہم اللہ کو شکرگزاری کے وسیلے سے خوش کرتے ہیں تو ہمارا اللہ سے تعلق مضبوط اور گہرا ہو جاتا ہے۔ ہم ہر چھوٹی، بڑی بات کے لیے دل سے اللہ کی تعریف اور شکرگزاری کرتے ہیں تو وہ ہمیں اور زیادہ برکات و فضائل دیتا ہے۔ ان گنت نعمتوں سے نوازتا ہے۔ ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے کہ اس نے ہماری زندگی میں ہمیں بے شمار نعمتوں برکتوں سے نوازا ہے۔ جب ہم اللہ پاک کی شکرگزاری کریں گے تو اللہ پاک ہم پر اپنی خاص عنایت عطا کرے گا اور جب رب ہم سے راضی اور خوش رہے گا تو ہماری زندگی خوشحال گزرے گی۔ لہٰذا شکرگزاری کو اپنی عادت بنا لیں اور ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں