دین کا کام کوئی نیا کام نہیں ہے بلکہ اس دھرتی پر حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی تشریف آوری کے بعد اس کام کا آغاز ہو گیا تھا ۔ ان کے دعوت کے کام سے لے کر آج تک یہ کلمہ تو متفق رہا ہے “لا الہ الا اللہ” کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ایک لاکھ 24 ہزار کم و بیش انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام بھی اسی نقطہ وحدت پر جمے رہے اور ان کے متبعین بھی اسی نقطہ وحدت پر کاربند رہے۔ البتہ کلمےکے دوسرے حصے پر شریعت کے مختلف حالات آتے رہے ۔ ہر نبی کو اس کے علاقے اور قوم کے لیے اللہ رب العزت کی طرف سے جو شریعت دی جاتی وہ لے کر آتا اور اپنی امت تک پہنچا دیتا چنانچہ انبیاء کا یہ سلسلہ چلتا ہواحضور صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچا اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم ِنبوت کے واسطے سے یہ کام چلتا ہوا ہم تک پہنچتا ہے۔
اس پسِ منظر کے استحضار کے بعد ہم بات کرتے ہیں اپنے عنوان کی ۔زیر ِنظر مضمون میں ہم چار جہات پر بات کریں گے۔
دعوتِ دین کی سب سے بڑی فضیلت کیا ہے؟
دعوتِ دین کا مطلب کیا ہے؟
عہد نبوی اور عصرِ حاضر کے دعوتی منہج کا موازنہ۔
*ہم دعوتِ دیں کا کام کیسے کریں؟
پہلی بات؛
دعوتِ دین کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ یہ دنیا کے جتنے بھی کام ہیں سب سے افضل اور بہترین کام ہے۔کیوں کہ قران کریم میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ ” ترجمہ؛ جو آدمی اللہ رب العزت کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اس سے بڑھ کر اور کس کی بات اچھی اور بہترین ہو سکتی ہے۔ معلوم ہوا دعوت کا کام اتنا بڑا اہمیت اور فضیلت والا ہے کہ اس سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا اگر کوئی ہوتا تو اللہ پاک آیت میں چیلنج کا انداز اختیار نہ فرماتے ۔جب چیلنج کے انداز میں بات کی گئی تو یہ بدیہی اور واضح امر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کسی کی فضیلت نہیں ہو سکتی پھر مزید یہ کہ اس فضیلت کو بیان کرنے کے بعد اس کام کے طریقہ کار کی بھی وضاحت کر دی ۔ چنانچہ سورہ حج کے اندر اللہ پاک نے ارشاد فرمایا “ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنہ” ترجمہ اللہ کے راستے کی طرف لوگوں کو بلاؤ حکمت کے ساتھ اچھے انداز میں ان کو نصیحت کر کے۔ چنانچہ جس کام کی فضیلت خود رب تعالی بیان فرمائیں اور پھر اس کے آداب بھی رب تعالی خود بتلائیں یقینا وہ کام عظمتوں، رفعتوں، بلندیوں اور شان والا کام ہے۔ تو آئیے میں اور آپ اس کام میں اپنا حصہ ڈال کر اللہ رب العزت کی طرف سے دنیا و آخرت کی کامیابی کے طلبگار بنتے ہیں۔
دوسری بات؛
اب سوال دوسرا آتا ہے کہ دعوتِ دین کیا ہے ؟ چنانچہ اس کے لیے ہم شریعت کے اس اصول کی طرف جاتے ہیں کہ ” قرآن کریم کے اندر اللہ رب العزت نے مکمل احکامات کو بیان کر دیا ہے ان احکامات کو سمجھنے کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت مکمل نمونہ ہے” اس اصول کی روشنی میں ہم حضور کی مکمل زندگی پر غور کرتے ہیں جس سے یہ خلاصہ سمجھ میں آتا ہے کہ حضور کی زندگی کا ایک ایک لمحہ دعوتِ دین ہے ۔حضور نے اپنی گفتگو ،اپنے عمل سے بتا یا کہ تم میری زندگی میں کیا ہوا کوئی بھی کام کرو گے تو ایسے سمجھو دین کی دعوت کا کام کر رہے ہو( ہاں ! وہ چند امور مستثنیٰ ہوں گے جو رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہیں) چنانچہ ارشاد فرمایا” بلِّغُو عنی ولو آیۃ ” ترجمہ میری طرف سے پہنچنے والی ہر بات لوگوں تک پہنچاؤ اگرچہ ایک آیت ہی کیوں نہ پہنچے۔ لہذا جب ہر آیت امت تک پہنچانی ہے تو معلوم ہوا حضور کی زندگی کا ہر کام دعوت ہے اور ہر کام امت تک پہنچانا ہے اور نہ یہ کہ صرف آج کا امتی بلکہ قیامت تک آنے والے ہر امتی تک حضور کی مکمل زندگی ایک ایک عمل کے ساتھ پہنچانا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے اور یہی دعوت دین ہے۔
تیسری بات ؛
عہد نبوی اور عصرِ حاضر کے دعوتی منہج کا موازنہ؛
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوت کا کام کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب دو طرح کے لوگ تھے ؛
ایک وہ جو بالکل دینِ اسلام سے دور تھے کفار مکہ ،مشرکین مکہ اِن کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمے کی دعوت دی۔ سب سے پہلے انہیں کلمہ پڑھایا اور دائرہ اسلام کا حصہ بنایا۔
دوسرے مخاطبین آپ کے وہ تھے جو اسلام تو قبول کر چکے تھے لیکن اسلامی تعلیمات سے ابھی تک آشنا نہیں ہوئے تھے ۔مکہ کی زندگی میں دارِ ارقم ان کے لیے دعوت دیں کا مرکزرہا۔اور مدینہ کی زندگی میں مسجد نبوی مکمل طور پر ان کے لیے دعوتی ادارہ رہا۔ جس میں ان کو اسلامی تعلیمات نماز ،روزہ ،حج ، زکوۃ اور اس کے دیگر تمام ذیلی شعبہ جات سے آگاہ کیا گیا۔معاشرت سکھائی گئی۔ اخلاقِ حسنہ سےمزین کیا گیا۔ جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مقاصد بعثت کو پورا کیا جسے قرآن اِن الفاظ میں بیان کرتا ہے” و یزکیہم ویعلمھم الکتٰب والحکمۃ” ترجمہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کا تزکیہ نفس فرماتے ہیں اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوتی منہج ہمیں سمجھ میں آگیا تو ہم اپنے عصر حاضر کے حالات پہ غور کرتے ہیں جس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس وقت بھی امت کے داعیوں کو انہی دو طبقات کا سامنا ہے ایک طرف دنیا بھر میں پھیلے کفار ہیں ۔ اس لیے کہ اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اس سے پہلے ایک اور مذہب ہے اور نیچے اور بھی چھوٹے چھوٹے مذاہب ہیں جن سے اس وقت اسلام کو سامناہے ۔ اِن حالات کے تناظر میں حضور کے پہلے دعوتی منہج پر کام کرنے کی
ضرورت ہے کہ دنیا بھر میں پھیلے ان لوگوں کو دعوت دیں اور انہیں اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرا کر ایک آفاقی اور عظیم مذہب اسلام کا حصہ بنائیں۔ اور ان کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا سامان پیدا کریں۔
اور دوسرا دعوتی منہج جو لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں ان کے لیے ان کے عقائد کی پختگی، تزکیہ نفس ،تعلیم ِکتاب و حکمت ، حسنِ معاشرت، تزیینِ اخلاق پرمحنت اور کام کرنا ہے۔ اس وقت امت کی اصلاح کی بھی اشد ضرورت اور ہماری ذمہ داری میں شامل ہے۔ لوگ ظاہراًمسلمان ہیں لیکن اس کے باوجود حال یہ ہے کہ وہ بنیادی دینی شعائر سے نا واقف ہیں۔ آپ اگر سندھ کے علاقوں میں چلے جائیں تو پتہ چلے گا کہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن اسلامی تعلیمات پر ان کے عمل کا کیا حال ہے انسان خود دھنگ رہ جاتا ہے۔
چوتھی بات ؛
ہم دعوتِ دین کا کام کیسے کریں؟ اس کے دو مرحلے ہیں، سب سے پہلے ہم اپنے آپ کو مکمل طور پر اسلام کا عملی نمونہ بنائیں 24 گھنٹے کا ایک ایک لمحہ سنت کا آئینہ دار ہو۔تاکہ لوگ ہمیں دیکھ کر سمجھیں کہ واقعتاً یہ مسلمان ہیں۔اسلام سے متنفر نہ ہوں کیوں کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے فرمایا تھا ” دنیا اسلام قبول کرنے کے لیے اسلام کے دروازے پر آئی ہوئی ہے لیکن اس کے قبولِ اسلام میں ہم رکاوٹ بنے ہوئے ہیں سوال یہ ہے کہ ہم تو مسلمان ہیں ہم کیسے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں تو جواب واضح ہے کہ ہم نے اسلام کی تعلیمات تو پڑھ لی لیکن زندگی اسلام کے مطابق گزارنے کی بجائے من چاہی گزارنا شروع کر دی، رب چاہی زندگی نہ گزاری۔
اُدھر اسلام کی تعلیمات اَور تھیں اِدھر ہمارا نفس کچھ اور چاہتا تھا دونوں میں تصادم ہو گیا اب لوگوں نے اسلام کو پڑھا تو کچھ اور سمجھ میں آیا ہماری زندگی کو دیکھا تو کچھ اور سمجھ میں آیا نتیجتاً وہ لوگ اسلام قبول کرنے سے ڈگمگا گئے کہ اسلام کوئی اور مذہب ہے یہ اسلام نہیں ہے۔ سو اولاً ہم اپنے آپ کو مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کے مطابق بنائیں۔
جب خود کو مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیں گے۔
اب مرحلہ آئے گا دوسروں کو دعوت دینے کا دوسروں کو دعوت دینے کے پھر دو طریقے ہیں؛
ایک یہ کہ ہم ہر حال میں دعوت دین کا کام کرتے رہیں جیسے ہماری کسی سے ملاقات ہوئی اس نے “گڈ مارننگ” کہا ہم نے جواب دیا” السلام علیکم ورحمۃ اللہ ” یہ ہم نے دعوت دیں کا کام کیا۔
کسی سے ہماری ملاقات ہوئی اوردورانِ گفتگو اختلاف راۓ ہو گیا۔ اس نے ہمیں گالیاں دیں اور ہم نے درگزر کا معاملہ کیا۔ یہ دعوت دیں کا کام کیا۔
ہمارے گھر کے سامنے رہنے والے پڑوسی نے اپنے گھر کی صفائی کی اور کچرا ہمارے دروازے کے سامنے ڈال دیا ہم نے وہ کچرا اٹھایا اس کے گھر کے سامنے رکھنے کے بجائے کچرادان میں ڈال آۓ۔یہ ہم نے دعوت دین کا کام کیا۔
کسی نے واٹس ایپ پر ہمیں “HI” لکھا ہم نے جواب میں السلام علیکم لکھا یہ ہم نے دعوتِ دین کا کام کیا۔
فیس بک پر کسی نے غلط پوسٹ ڈال دی ہم نے جواب میں کچھ سنانے کے بجائے سلیقے سےکہہ دیا کہ “بھائی ! اس طرح کی پوسٹ کرنا غیر مناسب ہے “اسی طرح کی اور بہت ساری مثالیں جو ہمارے روزِ مرہ کی زندگی میں نظر آتی ہیں ان پر اگر ہم توجہ دیں تو چھوٹی چھوٹی بات پر سنت کا پرچار کرتے ہوئے دعوت دین کا کام کر سکتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ ہم منظم ہو کر دعوت کا کام کریں ۔جسے ہمارے عرف میں تبلیغ کا کام کہا جاتا ہے ۔ جس میں قریباً ایک صدی سے ایک خاص نظم ہے کہ اپنے آپ کو مستقل اللہ کے حوالے کر دیں۔ اور چند ایام( سہ روزہ،دس روزہ،چلہ،چار ماہ،ایک سال ) گھر سے باہر گذاریں۔جس میں اپنی اصلاح بھی کریں اور امت کی فکر بھی۔
یہ بنیادی دو طریقے ہین دعوت دیں کے ایک عمومی دعوت دعوت ایک نظم کے ساتھ ۔
جس طریقے سے بھی اپنے آپ کو منسلک کر سکتے ہیں ضرور کریں بلکہ پہلا طریقہ تو ہماری روز مرہ زندگی سے متعلق ہے تو اس سے بہر حال ہمیں محروم نہیں ہونا چاہیے۔