115

اللہ کی محبت سکون ہی سکون/تحریر/خدیجہ عبد الرحمن

“اللّٰہ کی محبت سکون ہی سکون “
جو بھی انسان اللہ کی خود سے محبت کی معرفت حاصل کرلیتا ہے اس کا یقین دل میں پیدا ہوجاتا ہے وہ انسانوں کی محبت ، توجہ پانے سے بےنیاز ہوجاتا ہے
لیکن ۔۔۔۔۔
اللہ سے محبت یا اللہ کی محبت ۔۔۔۔۔۔ یہ راستے خوبصورت تو بہت ہیں لیکن پھر آزمائش بھی ہے ۔۔۔۔ کہ اللہ امتحان لیتے ہیں میرا بندہ یا بندی اس جذبے میں کس حد تک صادق ، اور مستقیم ہیں ۔۔۔۔
لیکن جب اللہ کی محبت سمجھ آتی ہے نااااا تو یہ دنیا کی محبتیں کھلونوں کی طرح بے وقعت ہوجاتی ہیں مل جائیں تو بھی نہ ملیں تو بھی انسان کو فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔
اب آپ مانگ سکتی ہیں کہ کوئی دلیل دیں
۔۔۔۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم بحیثیت انسان دوسرے انسانوں کے اسباب کے درجے میں محتاج بھی ہوتے ہیں اور ان کے اچھے برے رویے بشری تقاضوں کے بقدر اثرانداز بھی ہوتے ہیں ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔۔ یہ لمحے بہت جلدی گزر جاتے ہیں ۔۔۔۔ ہوا کے جھونکے کی مانند ۔۔۔۔ کسی بھی انسان کے دئیے ہوئے اچھے رویوں کا سرور زیادہ دیر تک نہیں رہتا ۔۔۔۔ اسی طرح برے رویوں کا حزن ملال انسان کو مایوس ، پریشان اور ڈپریس نہیں کرتا زیادہ دیر تک ۔۔۔۔۔۔
اور یہ میرا ذاتی تجربہ ہے ۔۔۔۔ میری بہنیں ، بھانجی ،اور سٹوڈنٹ اکثر اس چیز کا ذکر کرتی ہیں کہ آپ اتنی بے نیاز اور پرسکون کیسے رہتی ہیں ۔۔۔۔ بڑی سے بڑی مشکل میں بھی پرامید پر یقین ؟؟؟ تو ۔۔۔۔ یہ ملتا ہے اللہ کی خود سے محبت کو جان لینے سے اس کی ذات پہ اعتماد کرنے سے اس کی ذات پہ یقین ہونے کی صورت میں ۔۔۔
دلیل مانگیں گی تو دلیل
میرے پیارے اللہ کا پیارا فرمان
💫الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون 💫
جی بالکل ۔۔۔۔ اللہ کی معرفت کے سفر پہ جب چلتے ہیں تو اس کی دوستی نصیب ہوجاتی ہے اور یہ کوئی چلے کاٹنے یا بہت جوگ بجوگ کام کرنے سے نہیں اللہ نے خود فرمایا

💫اللہ ولی الذین آمنوا 💫

اللہ نے یہ نہیں کہا کہ وہ ایمان والے متقی ہیں ، پکے ایمان والے ہیں ، سجدوں میں ہر لمحہ گرنے والے ہیں ،
نہیں اللہ میرے جیسے گنہگاروں کا بھی دوست ہے
اللہ کچے پکے ایمان والے کا بھی دوست ہے
شرط یہ ہے اس پہ ایمان ہو ،
اس پہ یقین ہو
اس کے نبی پہ ایمان ہو
اعمال کی کمی بیشی سے وہ دوستی ختم نہیں کرتا وہ ہمارا دوست ہے تو ہے ۔۔۔۔۔ وہ انسان کیا اپنی سب مخلوق سے بہت پیار کرتا ہے ۔۔۔ اتنا پیار کہ وہ اک کتے کو پانی پلانے کے صدقے اک انسان کے زنا کے گناہ کو بھی معاف فرمادے اتنا پیار کہ اک چیونٹی کی خیرخواہی کو ہمارے لئے بیان کرے اپنے قرآن عظیم الشان میں ۔۔۔ یاایھاالنمل ادخلوا فی مساکنکم
ایسا پیار ہے اسے اپنی مخلوق سے ۔۔۔ پھر اپنے حبیب کے امتیوں سے کتنا پیار ہوگا یہ ہماری سوچ کی حدوں سے بھی ماورا ہے
تو جس کو یہ محبت حاصل ہوجائے وہ تو ان دنیا کی محبتوں سے بےنیاز ہوجاتا ہے ، لاخوف سے چھننے کا خوف ختم ہوجاتا ہے اور ولا ھم یحزنون سے دنیاوی نقصانات سے بےنیاز ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔ مل گیا تو بھی ٹھیک نہیں ملا تو بھی ٹھیک ، چھن جائے تو بھی پرسکون ،،،، یہ بہت خوبصورت دور ہوتا ہے جب انسان کہتا ہے ہر ملنے والے غم ہر پہنچنے والی اذیت پہ بھیگی آنکھوں بہتے اشکوں سے آسمان کی طرف چہرہ کرتا ہے ۔۔۔ اور ۔۔۔۔ کہتا ہے

“”””اللہ اگر تو اس حال میں رکھنے پہ مجھ سے راضی ہے تو میں اس حال میں رہ کر تجھ سے راضی ہوں “”””
تیرا غم بھی مجھ کو عزیز ہے
کہ یہ تیری دی ہوئی چیز ہے
اور
ہجر اچھا نہ کہ وصال اچھا ہے
یار جس حال میں رکھے وہ حال اچھا ہے
تو محسوس کیجئے اللہ کی محبت کو وہ محبت جو وہ آپ سے کرتا ہے دیکھئے ۔۔۔ کتنے مقام پہ اس ذات نے آپکی مدد کی
کتنی بار گناہوں میں گرتے گرتے سنبھال لیا بچالیا ،کتنے غموں سے نجات دے کر خوشی عطا کی ۔۔۔۔۔ وہ رب العالمین وہ ودود ذات وہ رحمن ،وہ رحیم ، ذوالجلال والاکرام ہم سے انسانوں سے محبت کرتا ہے۔ یہ اعزاز کم نہیں ہے
💫اللہ ولی الذین آمنوا 💫اصل میں اللہ پیارے کی طرف سے پیغام ہے میسج ہے I Love you کا
کوئی آپ سے محبت کرے نہ کرے وہ آپ سے محبت کرتا ہے کتنے فرشتے ہماری حفاظت کے لئے دائیں بائیں مقرر فرمائے ہیں باڈی گارڈ بنائے ہیں
قدر کر لیجئے ۔۔۔ اسی زندگی میں پہچان لیجئے اپنے حقیقی دوست ،حقیقی محبوب کو زندگی سہل ہوجائے گی اور کامیاب و پرسکون بھی
کہ رہی ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ تو سمجھے خدا کرے کوئی
کمثل “”وکلبھم باسط ذراعیہ بالوصید “”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں