81

نئے سال کی آمد پر دعائیں/تحریر/محمدعرفان اللہ اختر

نئے سال کا آغاز ایک یاد دہانی ہے کہ وقت کتنا قیمتی ہے اور ہمیں اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے کتنا محنتی ہونا چاہیے۔ دعا اس عمل کا ایک اہم حصہ ہے، کیونکہ یہ ہمیں اللہ کے سامنے جھکنے اور اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ دعا کے ذریعے ہم اپنی تمام مشکلات اور خواہشات اللہ کے حوالے کرتے ہیں اور اس سے اپنی زندگی کی رہنمائی اور آسانی کی درخواست کرتے ہیں۔
دنیا میں سورج اور چاند کی گردش کے حساب سے دو قسم کی تقویم (کیلینڈر ) رائج ہیں۔ سورج کی گردش کے لحاظ سے جو تقویم رائج ہے وہ شمسی کہلاتا ہے، جنوری، فروری اور مارچ وغیرہ مہینے اس سن کے مہینے ہیں جبکہ چاند کی گردش کے حساب سے جو تقویم مروج ہے وہ قمری کہلاتا ہے ۔ محرم، صفر، ربیع الاول وغیرہ اس سن کے مہینے ہیں۔ ہجری تقویم قمری حساب سے ہے۔
ہجری تقویم کا آغاز جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت سے ہوتا ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے جس سال مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تھی وہاں سے ہجری سن شروع ہوتا ہے۔ ہجری نبوی سے اسلامی سن کے آغاز کا حکم سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا تھا اور اس کے بعد سے ہماری اسلامی تاریخ اسی حساب سے چلی آرہی ہے۔
سورج اور چاند دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اس لیے ایک کو شرعی اور ایک کو غیر شرعی کہنا درست نہیں۔ جیسے قمری ماہ و سال سے شرعی احکام و عبادات کا تعلق ہےاسی طرح سورج سے بھی احکام کا تعلق ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ دنوں اور مہینوں کا تعین چاند کے حساب سے ہوتا ہے جبکہ اوقات کا تعین سورج کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ پانچ وقت کی نماز کے اوقات، تہجد، اشراق، اوابین، چاشت، زوال، مختلف روزوںمیں نیت اور سحر و افطار سب سورج سے متعلق ہیں اور ان سب اوقات کا تعین سورج کی گردش کے ساتھ ہے، جبکہ رمضان المبارک، عیدین، ۱۰ محرم، حج کے ایام، عدت، بلوغ اور زکوٰۃ کا سال وغیرہ سب قمری حساب سےطے کی جاتی ہیں اور ان دِنوں کا تعین چاند کے حساب سے ہوتا ہے۔
شمسی سال کے آغاز کے موقع پر دینی پیغامات نشر کیےجاسکتےہیں۔ دعا و استغفار اور فکرِ آخرت کی طرف متوجہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
جو دعائیں مہینہ یا سال کےاعتبار سے آئی ہیں ان کا مصداق بھی قمری سال و ماہ ہی ہیں البتہ مسنون سمجھے بغیر محض ایک عام دعا کی نیت سے شمسی ماہ و سال میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ شمسی سال کے لیے کوئی مخصوص دعاء نہیں ہے،البتہ قمری سال کے شروع میں درج ذیل دعا پڑھنا بعض روایات سے ثابت ہے،لہٰذا ہر مہینہ کا چاند دیکھ کر اور قمری سال کے آغاز میں یہ دعا پڑھنی چاہیے
“اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ،وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ،وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمٰنِ،وَجِوَارٍ مِنَ الشَّيْطَانِ.”
ترجمہ:” اےاللہ اس چاند کو ہم پر امن،ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ اور رحمٰن کی رضامندی اور شیطان کےبچاؤ کے ساتھ داخل فرما۔”
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد میں ہے
” حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام ایک دوسرے کو سال یا مہینے کی آمد پر یہ دعا سکھاتے تھے”۔
نئے سال کا آغاز نہ صرف ایک نیا کیلنڈر، بلکہ ایک نیا موقع، امیدوں کی تجدید، اور زندگی میں بہتری لانے کے عزائم کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہ لمحہ ہمیں رک کر اپنی زندگی کا جائزہ لینے اور بہتر فیصلے کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس وقت کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ ہم اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کرتے ہوئے دعا مانگ سکتے ہیں۔ دعا ہماری زندگی کا وہ عمل ہے جو نہ صرف ہماری روح کو سکون بخشتا ہے بلکہ ہمیں اللہ کی قربت بھی عطا کرتا ہے۔
رحمت اور معافی کی دعا:
“یا اللہ! اس نئے سال میں ہمیں اپنی رحمتوں کی چھاؤں میں رکھ، ہماری تمام خطاؤں کو معاف فرما، اور ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا کر۔”
یہ دعا ہمیں اللہ کی رحمت اور معافی حاصل کرنے کا ذریعہ فراہم کرتی ہے تاکہ ہم اپنی گزشتہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھ سکیں۔
خوشحالی اور کامیابی کی دعا:
“یا رب! ہمیں اس سال میں کامیابی عطا کر اور ہماری محنتوں کو رنگ لانے والا بنا۔ ہمارے کاروبار، تعلیم اور زندگی کے ہر پہلو میں برکت عطا فرما۔”
یہ دعا ہماری تمام جائز کوششوں کی کامیابی اور خوشحالی کی ضمانت مانگنے کا ذریعہ ہے۔
صحت اور سلامتی کی دعا:
“یا اللہ! ہمیں اور ہمارے پیاروں کو صحت مند رکھ، بیماریوں سے محفوظ فرما، اور ہر قسم کے جسمانی و ذہنی مسائل سے نجات عطا کر۔”
یہ دعا نہ صرف ہمارے لیے بلکہ ہمارے خاندان اور دوستوں کے لیے بھی خوشحال اور صحت مند زندگی کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔
امن اور محبت کی دعا:
“یا رب! اس دنیا میں امن و محبت کو فروغ دے، نفرتوں کو ختم کر اور ہمیں ایک دوسرے کے لیے مددگار بنا۔”
یہ دعا ہماری دنیا میں امن، بھائی چارے اور انسانیت کے فروغ کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ دنیا کی خوشحالی ان ہی اصولوں پر منحصر ہے۔
شکرگزاری کی دعا:
“یا اللہ! ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں ایک اور سال عطا کیا۔ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار اور ہر حال میں راضی رہنے والا بنا۔”
یہ دعا ہمیں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا احساس اور ان کے شکر گزار بننے کی ترغیب دیتی ہے۔
ملک کی سلامتی اور امن کے لیے دعا:
“اے اللہ! ہمارے ملک کو ہر قسم کے شر اور فتنہ سے محفوظ فرما۔ اس کی سرزمین کو امن و امان کا گہوارہ بنا اور ہمارے عوام کو اتحاد و محبت عطا فرما۔”
معیشت کی بہتری کی دعا:
“اے رزاق! ہمارے ملک کی معیشت کو مضبوطی عطا فرما۔ بے روزگاروں کو روزگار نصیب کر اور ہمارے وسائل میں برکت عطا کر تاکہ ہم ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکیں۔”
قومی اتحاد کی دعا:
“اے اللہ! ہماری قوم کے درمیان محبت اور بھائی چارے کو فروغ دے۔ ہمیں فرقہ واریت، نفرت، اور اختلافات سے بچا اور ہماری صفوں کو متحد فرما۔”
تعلیم کی ترقی کے لیے دعا:
“اے رب العالمین! ہمارے ملک کے نوجوانوں کو علم کی روشنی عطا فرما۔ ہمارے تعلیمی اداروں کو بہتر بنا اور علم کے ذریعے ہمیں ترقی کی طرف لے جا۔”
رہنماؤں کے لیے دعا:
“اے اللہ! ہمارے حکمرانوں کو انصاف پسند، دیانتدار، اور ایماندار بنا۔ انہیں عوام کی خدمت کا جذبہ عطا فرما اور ملک کے لیے بہتر فیصلے کرنے کی توفیق عطا کر۔”
قدرتی آفات سے حفاظت کی دعا:
“اے رب کریم! ہمارے ملک کو زلزلوں، سیلابوں، اور دیگر قدرتی آفات سے محفوظ رکھ۔ ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں رکھ اور ہر مشکل سے بچا۔”
دفاع اور خودمختاری کے لیے دعا:
“اے اللہ! ہمارے ملک کی سرحدوں کی حفاظت فرما۔ ہماری فوج کو مضبوطی، عزم، اور کامیابی عطا کر اور ہمارے ملک کو ہر دشمن کے شر سے محفوظ فرما۔”
دعا کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے، کیونکہ دعا اور عمل ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ دعا ہمیں اللہ سے امید اور طاقت دیتی ہے، اور عمل ہماری دعا کی تکمیل کا ذریعہ بنتا ہے۔ نئے سال میں ہمیں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے عزم کرنا چاہیے اور اپنی دعا کے مطابق اپنے اعمال کو درست رکھنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں