73

سرائیکی شیکسپیئر ڈاکٹر شاکر شجاع آبادی حسنین احمد شیخ

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی (Pride of Performance) کے حامل سرائیکی وسیب و زبان کے ممتاز، نامور، ہر دل عزیز، بے تاج، معروف و محبوب، ہم عصر اور عہد ساز شاعر اور شخصیت، سرائیکی وسیب کے ماتھے کا جھومر شاکر شجاع آبادی کا اصل نام محمد شفیع ہے۔ وہ 31 دسمبر 1955ء کو ملتان سے 70 کلومیٹر دور شجاع آباد کے چھوٹے سے پسماندہ علاقے بستی راجہ رام جنوبی پنجاب، تحصیل شجاع آباد ضلع ملتان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تخلص شاکر اور ذات سیال ہے۔ نامساعد گھریلو حالات کی وجہ سے وہ صرف پرائمری تک رسمی تعلیم حاصل کر سکے۔ پھر حالات کی بے رحمی اور والدین کی بے بسی سے مجبور ہو کر مزدوری و محنت کشی کا رخ کیا۔ وہ نو عمری میں پولیو کی بیماری کا شکار بھی ہوئے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید سنگین ہوتا گیا لیکن ان کا دماغ اور اندر کا شاعر محفوظ رہا۔ قدرت نے شعر و سخن کی دولت سے مالا مال کیا اور یوں ان کی روح بے قراری نے شاعری کی خلعت فاخرہ پہن لی۔ انہیں غزل اور دوہڑے کا شہنشاہ بھی کہتے ہیں۔ شاکر شجاع آبادی نے زندگی بھر غربت، مصائب و الام اور پست معیار زندگی کا سامنا کیا۔ مسلسل 5 پانچ دن کی فاقہ کشی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے ان کی شاعری ان کی غربت، معاشی پسماندگی اور محرومی جیسے نمایاں عنصر کی ایک خوبصورت عکاس پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی کا جذبہ بھی رکھتی ہے۔ انہوں نے سماجی ظلم، معاشرتی نا انصافی، انتہا پسندی، دہشت گردی اور مذہبی فرقہ واریت کے خلاف باغیانہ انداز اپنایا اس لیے گزشتہ چند دہائیوں سے وہ سرائیکی کی مظلوم عوام اور مظلوم طبقات کے دلوں کی آواز بنے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں؛ “میرا مسئلہ صرف سرائیکی کا نہیں ہے بلکہ میں پوری دنیا کے مظلوموں کی بات کرتا ہوں چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ میں زیادہ سکول نہیں جاتا تھا سب کچھ دنیا کے غور و فکر اور تجربے سے سیکھا ہے۔” ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا؛ “پاکستان کے زوال کی بڑی وجہ ظالم جاگیرداروں، سرداروں، تمن داروں، سرمایہ داروں اور آباد کاروں کا کنٹرول ہے، عوام ان کے خلاف نہیں اٹھتی۔ اگر لوگوں کو غلامی سے نکلنے کا طریقہ سکھایا جائے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔”بھُکھ دے پھٹ کوں سیونڑ ڈیووسُکھ دا پانی پیونڑ ڈیوواساں وی ہیں مخلوق خدا دیظالم لوگو جیونڑ ڈیووشاکر شجاع آبادی خواجہ غلام فرید کو شاعری میں اپنا روحانی استاد مانتے ہیں جبکہ نصیر الدین نصیر، غالب اور محسن نقوی پسندیدہ شاعر ہیں۔ شاکر شجاع آبادی کو سرائیکی شاعری کا غالب اور انقلابی شاعر جبکہ سرائیکی قوم کا شیکسپیئر بھی کہا جاتا ہے۔ شاکر شجاع آبادی نے مقامی دربار میں اپنے خیالات سنانے شروع کیے۔ ان کا پہلا باقاعدہ مشاعرہ 1986ء میں ریڈیو پاکستان ملتان سے منعقد ہوا۔1990ء کی دہائی کے اوائل تک وہ سرائیکی کی ثقافت میں نمایاں مقام و عروج حاصل کر چکے تھے۔ انہوں نے 1991ء میں ہونے والے آل پاکستان مشاعرہ میں صدارت کی اور مشاعرہ اپنے نام کیا۔ ان کی سرائیکی پنجابی اور اردو شاعری خوبصورت نثر سے مزین ہے جو دنیا اور معاشرے کے حوالے سے حقیقت پیش کرتی ہے۔ وہ ایمانداری، غربت، عدم مساوات، غیر مساوی معاشی تقسیم اور خطے سے متعلق پسماندگی کے موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی شاعری اللہ تعالی پر پختہ یقین کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اپنے اسلوب کی وجہ سے انہوں نے اپنی شاعری کو عالمی حالات سے جوڑ دیا ہے۔ یہ اعزاز بھی کیا کم ہے کہ اس پرائمری پاس شاکر شجاع آبادی کی شاعری پاکستان کی پانچ بہترین یونیورسٹیوں کے نصاب (سلیبس) میں شامل ہے جس میں پنجاب یونیورسٹی لاہور، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور اسلامی یونیورسٹی بہاولپور شامل ہیں۔ان کی شاعری قومی اور بین الاقوامی سطح پر پڑھی اور سنی جاتی ہے۔ ان کے قلم سے نکلے الفاظ سامعین کی روح تک اتر جاتے ہیں۔ ان کی خوبصورت شخصیت کی طرح ان کی شاعری کا خوبصورت نظارہ؛میکوں میڈا ڈُکھ میکوں تیڈا ڈُکھ میکوں ہر مظلوم انسان دا ڈکھجتھے ظلم دی بھا پئی بلدی اے میکوں روہی چولستان دا ڈکھ جتھے کوئی انصاف دا ناں کوئی نیں میکوں پورے پاکستان دا ڈکھجیہڑے مر گئے ہن او مر گئے ہن میکوں جیندے قبرستان دا ڈکھ نہ جانے شاعر یہ بات کتنی کتابوں میں کہتا جسے شاکر شجاع آبادی صاحب نے دو سطروں میں بیان کیا ہے؛کیہندے کتے کھیر (دودھ) پیونکیہندے بچے بھُکھ مرنشاکر شجاع آبادی ایک عظیم عاشق رسول بھی ہیں۔ وہ نعت گوئی میں بھی گوہر نایاب پھیلاتے ہیں؛کعبے دا کعبہ ڈسدا اے ساکوں نبی روضہ کعبہ بے شک ہے اعلی پر مِل دا خدا مدینےایک اور جگہ لکھتے ہیں؛اِتھاں جو بھوگ بھوگے ہن اُتھاں کوئی جزا مِلسی تھکینڑیں سارے لہہ ویسن نبی مِلسی خدا ملسی۔شاکر شجاع آبادی 1994ء تک بولنے کے قابل تھے لیکن پھر فالج کا حملہ ہوا جو 2004ء میں بگڑ گیا اور مفلوجی کے مدار میں داخل ہو گیا۔ اب جسمانی معذوری کی وجہ سے وہ درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں۔ ان کے چشم و چراغ نوید شاکر اور ولید شاکر ان کی ترجمانی کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔اورنگزیب رامیس نے کہا؛ “زبان لوگوں کے درمیان رابطے کا بہترین ذریعہ ہے اور سرائیکی زبان کو خواجہ غلام فرید آف کوٹ مِٹھن شریف کے بعد شاکر شجاع آبادی نے پہچان دی۔ سرائیکی کے بارے میں کوئی بھی بات شاکر شجاع آبادی کے بغیر ادھوری ہے۔”شاکر شجاع آبادی کثیر اللسان شاعر ہیں۔ انہوں نے پانچ مختلف زبانوں میں شاعری لکھی ہے۔ ان کی شاعری کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں۔ وہ تقریبا 25 کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی شاعری مختلف زبانوں جیسے سرائیکی، ہریانوی اور اردو میں شائع ہوئی ہے۔ ان کی شاعری کا انگریزی میں بھی ترجمہ ہوا ہے۔ ان کی مقبول کتابوں میں لہو دا عرق، پیلے پتر، بلدی ہنجوں، منافقاں توں خدا بچاوے، روسیں تو دھاڑیں مار مار کے، گلاب سارے تمہیں مبارک، کلام شاکر، خدا جانے، شاکر دی غزلاں، شاکر دے دوہڑے اور کچ دی ونگ (شبنم شاکر) قابل تحسین ہیں۔ شاکر شجاع آبادی کو 14 اگست 2006ء میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارگردگی ملا۔ وہ ان چند افراد میں سے ہیں جو اپنی زندگی میں دوسری بار ایک ہی ایوارڈ حاصل کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے 2017ء میں دوسری بار صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی عطا کیا گیا۔ حال ہی میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے شاکر شجاع آبادی کو ان کی ادب میں زبردست خدمات پر ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا ہے۔ یوں یہ محمد شفیع سے شاکر اور شاکر سے ڈاکٹر شجاع آبادی بن گئے۔بے حسی کی انتہاء یہ ہے کہ درجنوں ایوارڈ یافتہ سرائیکی عظیم شاعر شاکر شجاع آبادی مفلسی، کسمپرسی اور اندھیر نگری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ان کی بیماری (ڈیسٹونیا) شدت اختیار کر چکی ہے۔ شاکر شجاع آبادی معاشرے اور اعلی حکام پر نوحہ کناں ہیں۔ ان کا علاج پاکستان میں تقریبا ناممکن ہے انہیں حکومتی سطح پر علاج اور اعلی طبی معیاری سہولیات کے لیے امریکہ یا برطانیہ بھیجنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ دیگر سرائیکی شاعروں اور ادیبوں کی بہت سی شکایات ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ شاکر شجاع آبادی پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہے۔ حکومت پاکستان کو ان کے علاج اور دیکھ بھال سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قیمتی اثاثہ کی نگہداشت کرے اور اسے گردش ایام سے بچائے۔ افسوس صد افسوس؛اساں شاکر مفت اِچ رُل گئے ہیں جڈاں ویسوں مر ساڈا مُل لگ سی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں