میری ماں جیسا میرا پاکستان/تحریر/حسیبہ انور
ماں اور وطن — یہ دونوں ایسے رشتے ہیں جنہیں الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں صرف محبت ہی نہیں، بلکہ جذبات، تحفظ، قربانی اور احساس کا ایک گہرا استعارہ چھپا ہوتا ہے۔
جب میں ماں کا لفظ بولتی ہوں تو میرے دل میں سکون ، اور ذہن میں سکون کا تحفظ ابھرتا ہے۔ اسی طرح جب میں ” پاکستان” کا نام لیتی ہوں تو وہی میرے دل کی کیفیت ہوتی ہے جو ایک بچہ ماں کی گود میں محسوس کرتا ہے۔
ماں کی گود میں جو سکون ہے، وہی مجھے اپنے پاکستان کی فضاؤں میں محسوس ہوتا ہے۔
ماں دکھ اور تکلیف میں راتوں کو جاگ کر میرے خوابوں کی حفاظت کرتی ہے۔ ایسے ہی میرا وطن اپنے شہیدوں کے لہو سے میرے کل کے خوابوں کو محفوظ رکھتا ہے۔
ماں محبت ہے، دعاؤں کا خزانہ ہے؛ اور پاکستان قربانیوں کی داستان،
میرے دل میں اپنی ماں اور وطن دونوں کے لیے ایک جیسا پیار، عزت، احترام اور فخر ہے۔
ماں خاندان کی روح رواں ہوتی ہے۔ اس کے وجود سے گھر کا نظام چلتا ہے۔
اگر ماں باپ نے اچھی تربیت دی ہو، تو خاندان کے افراد چاہے ساتھ رہیں یا جدا، ان کی پہچان اور وقار برقرار رہتا ہے۔
مشکل وقت میں وہ یک جان ہو کر حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔
اسی طرح پاکستان بھی ایک ماں کی مانند ہے، جس نے ہمیں سرزمین، شناخت، تعلیم، ترقی کے مواقع، جینے کا سلیقہ اور عبادت کی آزادی دی۔
قیامِ پاکستان کے وقت ہزاروں ماؤں کے سہاگ لٹے، لاکھوں بیٹے قربان ہوئے، بے شمار بہنوں کی عزتیں پامال ہوئیں، کئی بچوں اور بزرگوں نے جانوں کا نذرانہ دیا — تب جا کر ہمیں یہ آزاد خطہ نصیب ہوا۔
یہی پاکستان آج بھی ایک ماں کی طرح ہمیں اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے۔
ماں محبت کا درس دیتی ہے، اور پاکستان بھی ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم محنت، دیانت، اتحاد اور قربانی سے عظیم قوم بنیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:
(ترجمہ: سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو)
— سورہ آلِ عمران: 103
یہی سبق ہمیں پاکستان کی خوشحالی کے لیے درکار ہے — کہ ہم متحد رہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔”
— صحیح بخاری
ماں کی شان یہ ہے کہ وہ بدلہ نہیں مانگتی، بس چاہتی ہے کہ اس کی اولاد باشعور، باوفا، اور باوقار بنے۔
پاکستان بھی ہم سے یہی چاہتا ہے۔
قائداعظمؒ کا قول ہے:
“دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو مٹا نہیں سکتی!”
لیکن یہ تب ممکن ہے جب ہم خود اپنے وطن کی قدر کریں،
اس کی زمین، قانون، سرحدوں اور نظریے کے محافظ بنیں۔
میری ماں جیسا میرا پاکستان —
یہ میرا ایمان ہے، میری پہچان ہے، میری جان ہے۔
نہ کوئی اسے بدل سکتا ہے، نہ چھین سکتا ہے۔
میں اس کے لیے جیتی ہوں، اور اس کے لیے مرنے کا جذبہ رکھتی ہوں۔
ماں کے لیے قربانی باعثِ اجر ہے، وطن کے لیے قربانی باعثِ شہادت۔
اللہ کرے میرا وطن ہمیشہ سلامت، خوشحال، اور کرامت والا رہے۔
پاکستان ذندہ باد
میری ماں جیسا میرا پاکستان/تحریر/حسیبہ انور
تحریک پاکستان میں خواتین کا کردار/تحریر/ عذرا خالد
پاکستان کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار/ تحریر/ مائرہ سعید