
اسکے تین خوبصورت بچے جنکے لئے اپنی پوری زندگی صبر سے گزارتی ہے۔
ایک چھوٹے سے شہر میں تین بہن بھائی اپنی ماں کے ساتھ رہتے تھے۔ بڑا بیٹا ارحم، اس کے بعد بہن حرا اور سب سے چھوٹا بیٹا حسان ۔ والد کا انتقال ہو چکا تھا، اس لیے ماں نے ہی بچوں کی پرورش اور تعلیم کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔
ماں خود ایک چھوٹے اسکول میں پڑھاتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کے بچے نہ صرف علم میں کامیاب ہوں بلکہ اچھے کردار والے انسان بھی بنیں۔ وہ اکثر کہا کرتی:
“میرے بچوں! علم وہ روشنی ہے جو تمہیں خود بھی سنوارے گی اور دوسروں کو بھی راستہ دکھائے گی۔”
“ارحم – ذمہ دار بیٹا”
بڑا بیٹا ہونے کے ناطے ارحم پر زیادہ ذمہ داری تھی۔ وہ ماں کا ہاتھ بٹاتا اور چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے مثال بننے کی کوشش کرتا۔ اگرچہ اس کے دوست کھیل کود میں وقت ضائع کرتے، لیکن ارحم اپنی پڑھائی اور کام دونوں پر توجہ دیتا۔ ایک دن ماں نے کہا:
“بیٹا ارحم! تمہاری محنت صرف تمہارے لیے نہیں بلکہ حرا اور حسان کے لیے بھی راستہ ہے۔ اگر تم محنت کرو گے تو یہ دونوں بھی تمہیں دیکھ کر سیکھیں گے۔”
یہ الفاظ سن کر ارحم نے دل میں عزم کر لیا کہ وہ اپنی ماں کے خواب کو پورا کرے گا۔
“حرا – حوصلہ مند بہن”
حرا ذہین اور سمجھدار تھی۔ وہ اکثر کہتی:
“امی! میں بھی آپ کی طرح استاد بننا چاہتی ہوں تاکہ دوسروں کو علم کی روشنی دے سکوں۔”
ماں یہ سن کر مسکراتی اور جواب دیتی:
“بیٹی! استاد وہی بن سکتا ہے جو خود علم دوست اور صابر ہو۔ تم اگر محنت اور صبر کے ساتھ پڑھو گی تو تم بھی دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہو۔”
حرا ماں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نہ صرف پڑھائی میں آگے تھی بلکہ اپنے چھوٹے بھائی حسان کو بھی سبق یاد کرواتی۔
حسان – معصوم مگر شرارتی
حسان سب سے چھوٹابیٹا تھا، حسان کھیلنے کودنے میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔ حسان اکثر کتابیں ایک طرف رکھ کر کھلونوں میں مگن ہو جاتا۔ ایک دن ماں نے نرمی سے اس سے کہا:
” حسان بیٹا! کھیلنا برا نہیں، لیکن اگر تم صرف کھیلتے رہو گے تو ایک دن دوسروں سے پیچھے رہ جاؤ گے۔ دیکھو، ارحم محنت کر رہا ہے اور حرا بھی دل لگا کر پڑھ رہی ہے۔ حسان بیٹاتمہیں بھی ان کی طرح بننا ہے۔”
حسان پہلے تو ہنسنے لگا لیکن جب بہن بھائیوں نے اسے پیار سے سمجھایا تو وہ بھی پڑھائی میں دلچسپی لینے لگا۔
“ماں کی قربانی”
گھر کے حالات آسان نہ تھے۔ ماں کو اکثر اپنی ضروریات چھوڑ کر بچوں کے لیے کتابیں اور کاپیاں خریدنی پڑتیں۔ لیکن وہ کبھی شکوہ نہ کرتیں بلکہ کہتیں:
“میری اصل خوشی یہ ہے کہ میرے بچے ایک دن دوسروں کے لیے مثال بنیں۔”
یہ سن کر تینوں بہن بھائی اپنی ماں کے خواب کو پورا کرنے کے لیے مزید محنت کرنے لگے۔
“کامیابی کا دن”
سالوں کی محنت کے بعد امتحان کا نتیجہ آیا۔ ارحم نے اپنے اسکول میں اول پوزیشن حاصل کی، حرا نے بہترین کارکردگی دکھائی اور حسان نے بھی سب کو حیران کرتے ہوئے اپنی کلاس میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔
اسکول کے پروگرام میں تینوں بہن بھائی اسٹیج پر انعام لینے آئے تو ارحم نے سب کے سامنے کہا:
“یہ کامیابی ہماری نہیں، بلکہ ہماری ماں کی ہے، جو نہ صرف ہماری ماں ہے بلکہ ہماری سب سے بڑی استاد بھی ہے۔”
ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ ماں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے لیکن یہ آنسو فخر اور خوشی کے تھے۔
“نتیجہ یہ نکلا۔”
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ماں اپنی ذمہ داری محبت اور قربانی کے ساتھ نبھائے، اور بچے محنت، صبر اور اعتماد کے ساتھ ماں کے خواب کو پورا کریں تو سب مشکلات آسان ہو جاتی ہیں۔ ارحم کی ذمہ داری، حرا کا حوصلہ اور حسان کی معصومیت مل کر ایک ایسے خاندان کی تصویر پیش کرتے ہیں جو دوسروں کے لیے رول ماڈل بن جاتا ہے۔
آپکی شکر گزار
صبیحہ خانم