0

علاقائی تقدیر ۔۔۔۔گھبیر پل کی تعمیر/تحریر/ بلال احمد معاویہ اعوان

علاقائی تقدیر۔۔۔۔۔ گھبیر پل کی تعمیر
از قلم بلال احمد معاویہ اعوان

ہم ہی کو جرات اظہار کا سلیقہ ہے
صدا کا قحط پڑے گا تو ہم ہی بولیں گے

عصر حاضر میں بنیادی ضروریات اور سہولیات کی عوام کو فراہمی ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں عوامی فلاح و بہبود اور خوش حالی و تعمیر و ترقی اولین ترجیحات میں شامل ہوتی ہیں۔ مہذب ریاست کی ذمہ داریوں میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ تعلیم، صحت، ذرائع آمد و رفت کی فراہمی، امن و امان کا قیام اور رعایا کو سہولیات بہم پہنچانا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔

وطن عزیز میں بھی ایسا آئین موجود ہے جس میں رعایا ایک حکمران کے ماتحت ہوگی۔ عوام اپنی شہری ذمہ داریوں کو ادا کریں گے اور اس کے بدلے میں ارباب اختیار ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسی لیے حلف برداری کی تقاریب میں یہ بات بھی قابل ذکر ہوتی ہے کہ میں ملک کے ساتھ مخلص رہوں گا،ملکی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے اپنی صلاحیتوں وقف کروں گا۔پاکستان میں عرصہ دراز سے رائج جمہوری نظام کے تحت عوام اسی امید پہ مختلف امیدواروں کو ووٹ دیتی ہے کہ وہ آنے والے دورانیہ میں ان کی فلاح و بہبود کے کام سر انجام دیں گے۔ لہذا عوام تو عرصوں سے اعتماد اور امید پہ اپنا حق رائے دہی کو استعمال کر کے اپنے نمائندے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ ہماری آواز بن کر ہمارے مسائل حل کریں مگر بدقسمتی سے عوام کی وہ امیدیں کبھی بر نہیں آتیں اور ایک اور پنج سالہ گزر جاتا ہے۔

ضلع چکوال کی ندی نالوی، آبشاروں، قدرتی نظاروں اور تاریخی سنگم پر واقع خوبصورت تحصیل کلرکہار (المعروف بچہ کشمیر است) کے سرحدی گاؤں تھرچک سالوں سے محرومیوں اور لاوارثیت کا شکار ہے۔ یہاں پہ قدرتی حسن اور خوبصورت وادیوں کی بہتات ہے۔ اگر تاریخ کو ورق کنگھالے جائیں تو یہاں جلال الدین خوارزم کے سپاہیوں کے آماجگاہ ملتی ہے۔ یہاں پہ قدیم تہذیب کے آثار جا بجا ماہرین آثار قدیمہ کے پاؤں روک لیتے ہیں۔ یہاں کے چشموں، آبشاروں اور سدا بہار رواں دواں ندی نالوں کی مدھر آواز اور فطرت کا ساز ایک الگ ہی سکون اور طمانیت بخشتا ہے۔ یہاں کے جنگلات اور فصلات ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے۔ دھرتی کے فرزند سرحدوں پر اپنا فرض نبھا رہے۔ جن میں سے کچھ غازی بنے اور چند ایک اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کر کے سبز ہلالی پرچم اوڑھے تہہ خاک جا بسے۔ ان کی قبروں پہ لہراتے سبز پرچم سے دیگر جوان بھی یہ تجدید عہد کرتے ہیں کہ اے وطن ضرورت پڑی تو تیرے بیٹے دوڑے چلے آئیں گے۔یہاں کی محدود وسائل میں لوگوں نے اپنا سو فیصد ملک کے لیے پیش کیا اور تحسین کے لائق ٹھہرے یعنی اس خطے میں جہاں ایک طرف قدرت کا حسن ہے وہیں خداداد صلاحیتوں کی بہتات مگر بدقسمتی یہ کہ وسائل اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹیلنٹ مجبوراََ اپنی موت کی آخری سسکیاں لے رہا ہے۔

علاقہ تھرچک میں آخری ترقیاتی کام بجلی کی فراہمی تھی جو کہ 2008-2013 کے دورانیہ میں نصیب ہوئی۔ یہاں پہ لڑکوں کے لیے ایک ایلیمنٹری سکول ہے جب کہ میٹرک کی تعلیم حصول کے لیے کم از کم روازنہ چالیس کلومیٹر اور اعلی تعلیم کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ لڑکیوں کے لیے جدید دور میں بھی صرف پرائمری سکول کی سہولت حکمرانوں سے خیرات میں میسر آئی۔ اکثریت بچیاں پرائمری پڑھ کر ہی گھر بیٹھ جاتی ہیں کیوں کہ والدین اخراجات اٹھانے سے قاصر ہیں۔ علاج معالجہ کے لیے یہاں کوئی سہولت نہیں۔ بجلی کے نظام بھی یہاں درہم برہم ہے۔غلہ منڈیوں اور مویشی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایک خطیر رقم کسانوں کو برداشت کرنا پڑتی۔حکومت کی کوئی سکیم یا سہولت یہاں نہیں پہنچتی۔ نہ آن فیلڈ ہسپتال، نہ ویٹرنری ڈاکٹر کے دورے، نہ نادرہ کی موبائل وین کی آمد اور نہ ہی پولیس کی گشت۔یہ علاقہ دہائیوں سے لاوارث ہے جہاں نہ تو حکومتی رٹ قائم ہے اور نہ ہی منتخب نمائندے کچھ کرنے کو تیار ہیں۔

اب یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ خونی نالہ گھبیر پہ پل کی تعمیر کا ہے۔ یہ نالہ وادی سون سے شروع ہو کر تھرچک سے گزرتا ہوا آگے دریا میں جا گرتا ہے۔ تھرچک کے آگے جتنے علاقوں سے اس کا گزر ہوتا وہاں پہ پل تعمیر ہو چکے جب کہ ایک واحد تھرچک کے مقام ہے جہاں سے اسے نظر انداز کیا جا رہا حالاں کہ یہاں پہ پانی کا بہاؤ انتہائی شدید ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے اب تک کئی قسم کے جانی و مالی نقصان ہو چکے۔اس پل کے تعمیر نہ ہونے سے کئی لوگ بروقت ہسپتال نہ پہنچ سکے اور جان کی بازی ہار گئے، ان کی موت کا خون کس کے ہاتھ پر ہے یہ الگ سوالیہ نشان ہے۔ پل نہ ہونے کی وجہ سے ذرائع آمد و رفت مسدود ہیں حالاں کہ یہ ایک انتہائی مختصر ترین بین الاضلاعی شاہراہ ہے۔ پل نہ ہونے کی وجہ سے طلبا و طالبات اعلی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ لوگ سفری سہولیات سے محروم ہیں۔ کسانوں کی منڈیوں تک اپنی فصلوں کو پہنچانا مشکل ہے۔ مزید یہ کہ یہ نالہ برسات کے دنوں میں راستوں کو روک لیتا ہے اور علاقہ تھرچک و نگری (ملحقہ آبادیاں)کا کلرکہار اور چکوال سے زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے اور لوگوں کو شدید اذیت اٹھانی پڑتی ہے کیوں کہ تمام دفتری معاملات بشمول تھانہ، کچہری، یونین کونسل، ارضی سنٹر، نادرہ، ہسپتال، معیاری سکولز و کالجز، بازار،موٹر وے وغیرہ سب معاملات کلرکہار ہی میں طے ہوتے ہیں لیکن درمیان میں یہ نالہ گھبیر حائل ہو جاتا ہے اور عوام کو شدید کرب ناک صورتحال سے واسطہ آئے روز رہتا ہے۔

اس پل کی تعمیر کی افادیت کا اگر اندازہ لگایا جائے تو اس سے یونین کونسل بھرپور، یونین کونسل منارہ، یونین کونسل بھلومار، یونین کونسل جھاٹلہ، یونین کونسل تھوہا محرم خان سے لے کر وادی سون اور ترحدہ چوک(ختم نبوت چوک) میانوالی روڈ تک کی لاکھوں کی آبادیاں مستفید ہو سکتی ہے۔ اس پل کی تعمیر سے کئی آبادیوں کی آسانی سے موٹر وے تک رسائی ہو سکتی ہے جس سے وہ انتہائی مختصر وقت اور مختصر ٹریک سے کہیں کا سفر کر سکتے ہیں۔اس کے علاؤہ مسلح افواج کے لیے یہ ایک دفاعی روڈ کی حیثیت بھی رکھتا ہے جو کلرکہار ایئر بیس، میانوالی ایئر بیس، سون سکیسر بیس، میانی چھاؤنی اور مرید ایئر بیس کو انتہائی کم فاصلوں سے آپس میں ملاتی ہے۔ اس کے علاؤہ اس پل کی تعمیر سے یہاں پہ پھیلا قدرتی حسن اور تاریخ سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔ اس پل کی تعمیر سے کلرکہار اور چینجی نیشنل پارک کو انتہائی کم فاصلے سے لنک کیا جا سکتا ہے اور حکومت اس سے بھاری ریونیو بھی جنریٹ کر سکتی ہے۔اس کے علاؤہ مقامی سطح پہ روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور بڑھتی ہوئی بے روز گاری میں کمی واقع ہو گی۔یعنی یہ فقط ایک پل نہیں بلکہ گیم چینجر اور علاقے کے تقدیر ہے۔
مزید ستم یہ کہ یہ روڈ آخری بار 1985 میں بنا تھا اس کے بعد سے کئی سیاہ و سفید کے مالک آئے، کئی ترقی کے نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے آئے۔کئی اقتدار کے ہوس کے مالک ڈنگ ٹپاؤ تحریک والے آئے مگر اس چالیس سال کی عمر میں اب یہ سڑک ضعیف ہو چکی۔ یہ چالیس سالوں سے لاریوں، انسانوں،جانوروں اور مختلف انواع کی مخلوقات کے بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اس کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ اب یہ روڈ حکمرانوں سے فریاد کر رہا کہ میری بحالی پہ توجہ دی جائے بصورت دیگر یہ ایک قصہ پارینہ بن کر ہڑپہ و موہنجوڈارو کے تہذیب میں جا کر محو آرام ہو جائے گا۔
اب درج بالا تمام علاقوں کا وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیر اعلی پنجاب مریم نواز، چیئرمین کمیونیکیشن اینڈ ورکس، ایم این اے سردار غلام عباس، ایم پی اے فلک شیر اعوان، مقتدر علاقائی شخصیات، معتبر عسکری اداروں سے یہ متفقہ مطالبہ ہے کہ نالہ گھبیر پہ پل کی تعمیر کی جائے اور آٹھ کلومیٹر خستہ حالی سڑک کی از سر نو ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کی جائے تاکہ علاقائی تقدیر بدل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں