0

انسانی شعور کی تعمیر: تعلیم اور تربیت کا کردار /تحریر/ام عبد الرحمن

انسانی شعور کی تعمیر: تعلیم اور تربیت کا کردار
تحریر/ ام عبدالرحمن

انسانی زندگی میں شعور، تعلیم اور تربیت وہ بنیادی ستون ہیں جو فرد کی شخصیت کو مکمل اور معاشرے کو مستحکم بناتے ہیں۔ شعور انسان کو اپنے اعمال، ذمہ داریوں اور ماحول سے آگاہ کرتا ہے، جبکہ تعلیم اور تربیت اس شعور کو پروان چڑھانے اور عملی زندگی میں ڈھالنے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرتے ہیں۔ آج کے دور میں تعلیم صرف اعلیٰ ڈگری یا بہتر معاشی مواقع تک محدود سمجھ لی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی تعلیم دے رہے ہیں یا محض ڈگریاں بانٹ رہے ہیں؟جب تک ہمیں تعلیم کے اصل مفہوم کا شعور نہیں ہوگا، تربیت کا خواب بھی ادھورا رہے گا۔

اس بات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان بنیادی اصطلاحات کے مفہوم پر ایک نظر ڈالل لی جائے:

شعور:شعور عقل کی وہ کیفیت ہے جس میں حس، خود آگاہی اور دانائی پائی جاتی ہو اور ذاتی و ماحولی حالتوں میں ایک ربط قائم ہو۔ عام فہم میں باخبر ہونے یا ہوش و حواس میں ہونے کو شعور میں ہونا کہا جاتا ہے۔

تعلیم: لغت کے اعتبار سے تعلیم کا مادہ ’’علم‘‘ (ع ل م) ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز کا ادراک حاصل کرنا۔ لغوی معنی کسی کو کچھ بتانا، پڑھانا یا سکھانا ہیں۔ اصلاحی معنی میں تعلیم صرف تدریس یا چند مضامین کا درس نہیں، بلکہ مختلف علوم و فنون میں مہارت پیدا کرنا اور شخصیت کی ہمہ گیر ترقی و نشوونما بھی شامل ہے۔

تربیت: تربیت کا لفظ ’’ربّ‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں پرورش کرنے والا۔ تربیت نئی چیز پیدا کرنے کا نام نہیں، بلکہ انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانا اور ان کی پرورش کرنا ہے۔ ڈکشنری کے مطابق اس کے معنی باغبان کی طرح درخت کی کانٹ چھانٹ، گوڈی اور حفاظت کرنا بھی ہیں تاکہ وہ خوبصورت اور مفید بن سکے۔

لہٰذا ان اصلاحات کے مفہوم سے واضح ہوتا ہے کہ تعلیم اور تربیت ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ تعلیم انسان کو علم و آگہی عطا کرتی ہے جبکہ تربیت اسی علم کو کردار اور عمل کی صورت میں ڈھالتی ہے۔ یہی متوازن عمل انسان کو خود آگاہی بخشتا ہے اور اس کے احساس و شعور کو جِلا دیتا ہے۔ اگر سوال کیا جائے کہ شعور کی بنیاد تعلیم ہے یا تربیت، تو جواب یہی ہے کہ دونوں۔ اور یہی سنتِ الٰہی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرتِ سلیمہ پر پیدا کیا لیکن اسے بغیر علم و رہنمائی کے دنیا میں نہیں چھوڑا۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا:
“اور اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا جبکہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔”(النحل: 78)

اللہ تعالٰی کی طرف سے اس رہنمائی کا مقصد نہ صرف انسان کو زندگی کے فرائض اور مقاصد کا شعور دینا ہے بلکہ اسے ایک معزز اور باوقار فرد کے طور پر زندگی گزارنے کے قابل بنانا بھی ہے۔ یہ مقصد صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی، اخلاقی، روحانی اور معاشرتی سطح پر بھی پھیلا ہوا ہے۔ اسی لیے انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اصل مقصد بھی انسانی شعور کی تعلیم و تربیت تھا۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:
“ہم نے تمھاری طرف ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا جو تم کو ہماری آیتیں سناتا ہے، تمہارا تزکیہ کرتا ہے، کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔” (البقرہ: 151)

جب سلسلہ نبوت ختم ہوا تو یہ ذمہ داری امت محمدی کے سپرد کی گئی تاکہ تعلیم و تربیت کا تسلسل قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی بھلائی کے لیے ظاہر کی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور ایمان رکھتے ہو اللہ پر۔” (آل عمران: 110)

یہ سب اصول ہمارے سامنے اس لیے رکھے گئے کہ ہم تعلیم و تربیت کے اصل مقصد کو سمجھ سکیں، مگر آج کے دور میں ان اصولوں سے انحراف نمایاں ہے۔ اب اگر خالقِ کائنات کے اصول — یعنی انسانی شعور کی تعمیر تعلیم و تربیت کے ذریعے — کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو یقیناً ناکامی انسان کا مقدر بن جاتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ شعور تعلیم سے پروان چڑھتا ہے یا تربیت سے، بلکہ یہ ہونا چاہئے کہ تعلیم و تربیت کا مقصد اور بنیاد کیا ہے؟

تعلیم و تربیت کے ذرائع ہر دور اور قوم میں مختلف رہے، مگر ان کی اصل قدر صرف اسی وقت ہے جب وہ اعلیٰ مقاصد سے جُڑے ہوں۔ اگر یہ وسائل محض رسمی یا ظاہری بن جائیں تو ان کی حیثیت ریت کے ذروں سے زیادہ نہیں رہتی۔ اسی لیے انبیائے کرام اور فکری رہنما تعلیم و تربیت کو فرد اور معاشرے کی کردار سازی کے لیے ضروری قرار دیتے تھے۔

آج کی تعلیم ڈاکٹر، پروفیسر، انجینئر اور تاجر پیدا کرتی ہے، لیکن مربی، رہنما یا عوام کے دکھ درد کو سمجھنے والا فرد ناپید ہوتا جارہا ہے۔ آج تعلیم و تربیت کا اصل مقصد انسانی ارتقاء اور روحانی بالیدگی کے بجائے مادی پرستی تک محدود ہو گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو اپنی آخرت کو اپنا مقصد بنائے، اللہ تعالیٰ اس کے دل میں غنا (روحانی سکون) ڈال دیتا ہے، اس کے معاملات کو سنوار دیتا ہے اور دنیا خود بخود اس کے پاس آتی ہے۔ اور جو شخص دنیا کو اپنا مقصد بنائے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے تنگی اور پریشانی رکھ دیتا ہے اور اسے دنیا میں وہی کچھ ملتا ہے جو اس کے لیے مقدر ہوتا ہے۔” (جامع ترمذی، حدیث: 2465، صحیح)
یہ حدیث آج کے دور کی آئینہ دار ہے۔ آج علم اور تعلیم کے وسیع تر مواقع موجود ہیں مگر ان کی جہت بدل چکی ہے۔ وہ علم جو کبھی انسان کو آزادی، کردار کی بلندی اور حق و صداقت کے شعور تک پہنچاتا تھا، اب محض دنیاوی فائدے اور وقتی آسائش کا ذریعہ بن چکا ہے۔
بقول علامہ اقبال:
“جو لوگ تعلیم و تربیت کے صحیح اور علمی اصول کو مدنظر نہیں رکھتے وہ اپنی نادانی سے سوسائٹی کے حقوق پر ایک ظالمانہ دست درازی کرتے ہیں جس کا نتیجہ تمام افراد اور سوسائٹی کیلئے نہایت درجہ کا مضر ہوتا ہے۔’

مختصراً، علم کا حصول خود مقصد نہیں بلکہ وسیلہ ہے، اور تربیت کے بغیر علم بے اثر ہے۔ انسانی شعور کی تعمیر صرف تعلیم یا تربیت سے نہیں بلکہ دونوں کے متوازن امتزاج سے ممکن ہے۔ تعلیم علم و آگہی دیتی ہے اور تربیت اسے کردار اور عمل میں ڈھالتی ہے۔ جب یہ دونوں اپنی اصل روح سے خالی ہو جائیں تو فرد اور معاشرہ زوال پذیر ہو جاتا ہے۔


عملی اقدامات برائے تعلیم و تربیت

1. نصاب میں سیرتِ نبوی ﷺ اور صحابہ کی زندگیاں شامل کی جائیں، تاکہ طلبہ کو عملی اور اخلاقی نمونے میسر آئیں۔
2. اساتذہ کو محض علم دینے والا نہیں بلکہ مربی سمجھا جائے، جو اپنی زندگی سے کردار کا نمونہ پیش کرے۔
3. جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کو دینی و اخلاقی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے، تاکہ مادی و روحانی توازن قائم رہے۔
4. عملی سرگرمیوں جیسے ورکشاپس، مباحثے اور رضاکارانہ خدمت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے، تاکہ طلبہ اقدار کو عمل میں ڈھال سکیں۔
5. ہر بچے کی انفرادی صلاحیت اور رجحان کو مدنظر رکھا جائے، تاکہ وہ اپنی فطری استعداد کے مطابق بہترین کردار ادا کر سکے۔
6. تعلیم کے ساتھ انسانی خدمت اور ایثار کو فروغ دیا جائے، مثلاً سماجی فلاحی منصوبوں میں طلبہ کی شمولیت۔
7. رہنما اور صالح مربی پیدا کیے جائیں، جو صرف پروفیشنلز نہ ہوں بلکہ عوام کے مسائل سمجھ کر کردار ادا کرنے والے ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں