
بھارتی جنرل کا لاہور چائے پینے کا خواب، خواب ہی رہا
*حافظ بلال بشیر*
چھ ستمبر کا دن پاکستانی قوم کی تاریخ میں وہ درخشاں دن ہے جب چھ گنا بڑے دشمن نے اپنی عسکری طاقت اور افرادی برتری کے نشے میں چور ہوکر رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کیا۔ بھارت کا خیال تھا کہ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر لاہور فتح کر لے گا اور شام کی چائے جم خانہ کلب میں پی کر اپنی کامیابی کا جشن منائے گا۔ لیکن اسے یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ قوم خواب غفلت میں نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور حب الوطنی کے لازوال جذبے کے ساتھ جاگ رہی ہے۔ 1965ء کی جنگ نے دنیا کو یہ حقیقت باور کرا دی کہ جنگیں صرف بڑی فوج سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ اصل فتح اس قوم کے حصے میں آتی ہے جو متحد ہو کر اپنے مقصد کے لیے جان دینے کو تیار ہو۔ پاکستانی قوم نے اس دن دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے اور ثابت کر دیا کہ لاہور کی سرزمین پر چائے پینے کا خواب دیکھنے والے جنرل کو نہ صرف شکست کا ذائقہ چکھنا پڑے گا بلکہ ہمیشہ کے لیے تاریخ میں ایک طنزیہ باب بن کر رہ جائے گا۔ وہ کیسے آئیے جائزہ لیتے ہیں۔
جنگ کا آغاز اُس وقت ہوا جب بھارت نے رات کی تاریکی میں سرحد پار کرنے کی کوشش کی۔ بھارتی جنرل کا مقصد بڑا واضح تھا، لاہور پر قبضہ کرنا اور پھر شام کی چائے لاہور کے جم خانہ میں پہنچ کر پینا، گویا لاہور کوئی سسرال تھا اور بھارتی جنرل مہمان بن کر برات کے ساتھ پہنچنے والا تھا۔ اگر ہم اس وقت کے حالات و واقعات اور بھارتی افسران کے متکبرانہ انداز و بیان کو سامنے رکھتے ہوئے عام فہم انداز میں قارئین کی دلچسپی کے لیے یہاں بیان کریں، تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بھارتی جنرل نے اپنے احکامات کے دوران جب یہ چائے نوشی کا خواب بیان کیا ہو گا، تو پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا ہو گا۔ ایسا لگ رہا ہو گا جیسے کوئی محفلِ مشاعرہ ہو رہا ہو، جنگی پلاننگ کی میٹنگ کے ساتھ ساتھ۔ جناب نے بڑے فخر سے کہا تھا:” ہم شام تک لاہور پہنچیں گے، اور لاہور کے جم خانہ کلب میں چائے پی جائے گی۔“ سبحان اللہ! جیسے لاہور کے لوگ ان کے آنے کی راہ دیکھ رہے ہوں۔
ایک دوست کے ساتھ اسی موضوع پر ہم محو گفتگو تھے وہ کہنے لگے، بھارتی جنرل نے پلاننگ تو کمال کی، کی ہوئی ہو گی میں نے پوچھا کیسے، کہتا ہے پلاننگ کے دوران جنرل صاحب نے اپنے برگیڈ کمانڈرز کو بڑے بڑے فرمان صادر کیے ہوں گے۔ ایک برگیڈ کو کہا ہو گا: تم سیدھا لاہور جم خانہ کی طرف بڑھنا، وہاں کے ملازمین کو کچھ نہ کہنا کیوں کہ وہ ہمارے لیے ٹیبل بھی صاف کریں گے اور کڑک سی چائے بھی پلائیں گے۔ دوسرے کو فرمایا ہو گا: “تم مال روڈ پر پہنچ کر اپنی فوجیوں کی تصویریں کھنچوانا، تا کہ لاہور کی فتح اور چائے پینے کے مزے ہم اپنے وزیر اعظم لال بہادر کو بھجوا سکیں، چونکہ ہمارے دوست کا تعلق افواج پاکستان سے ہے، گفتگو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس پلاننگ میں بٹالین کی کمان کرنے والے لیفٹیننٹ کرنل کے افسران کو بھی خاص احکامات ملے ہوں گے۔ ایک کرنل کو کہا گیا ہو گا: تم قذافی اسٹیڈیم میں کھڑے ہو کر بھارتی جھنڈا لہرانا۔ دوسرے کو حکم ملا ہو گا: لاہور قلعہ میں داخل ہو کر اعلان کرنا کہ یہ قلعہ اب بھارت کی ملکیت ہے۔ گویا جنرل صاحب نے جنگ نہیں، کوئی فلمی اسکرپٹ لکھنا تھا، کہ اتنی جلدی لاہور چائے پینے کا خواب دیکھ کر عمل کرنے چل پڑے۔
اس قسم کی تمام پلاننگ اور متکبرانہ گفتگو پاکستان کے شیر دل جوانوں کے کانوں تک پہنچی چکی تھی۔ لیکن ادھر کے جوان ہنس کر بولے: چائے تو لاہور میں ضرور بنے گی، لیکن پینے والے تم نہیں، ہم ہوں گے۔ بھارت کی فوج جب پاکستان کی سرحدوں کی طرف بڑھ رہی تھی تو انہیں لگا تھا شاید سب کچھ آسان ہوگا۔ مگر سامنے پاکستان کے وہ جوان تھے جنہوں نے اپنے جسموں کو ٹینکوں کے نیچے بچھا دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے جذبے دنیا کی کسی فوج نے نہیں دکھائے۔
بھارتی جنرل کا خواب پہلی ہی جھڑپ میں چکنا چور ہوگیا۔ نہ لاہور کی چائے نصیب ہوئی اور نہ جم خانہ کے دروازے تک پہنچنے کا حوصلہ رہا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی ان کے خواب راکھ میں بدل گئے۔
پاکستانی افواج اور عوام نے جس جرات و بہادری سے بھارتی ٹینکوں کو اڑایا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ ”نعرہ تکبیر” اللہ اکبر“ کے نعرے میدان جنگ میں گونجتے تو دشمن کے ہوش اڑ جاتے، دشمن کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے، بھارتی جنرل کے لیے یہ دن کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔
لاہور کے باسیوں نے بھی فوج کے ساتھ مل کر شاندار کردار ادا کیا۔ خواتین جوانوں کو کھانا پہنچا رہی تھیں، بچے نعرے لگا رہے تھے، اور بزرگ دعائیں کر رہے تھے۔ لاہور کے در و دیوار دشمن کے لیے فولادی دیوار ثابت ہوئے۔ بھارتی جنرل کی پلاننگ اب طنز کا سامان بن گئی۔ جس جگہ بیٹھ کر اُس نے چائے نوشی کی نشان دہی کی تھی، وہ پاکستانی فوجیوں کے جوتوں تلے روندے جا چکے تھے۔ جس جم خانہ کا ذکر وہ کر رہا تھا، وہاں آج بھی صرف پاکستانی پرچم لہراتا ہے۔ بھارت کا غرور اس جنگ میں بار بار ٹوٹا۔ ان کے ٹینک جلتے رہے، ان کے سپاہی پیٹھ دکھا کر بھاگتے رہے اور ان کے جنرل حسرتوں کے بوجھ تلے دبے رہے۔ چائے کی پیالی ان کے ہاتھ نہ آئی، بلکہ میدانِ جنگ میں شکست ان کے حصے میں آئی۔ اس جنگ نے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان وسائل اور تعداد میں کم سہی، مگر جذبوں میں کسی سے کم نہیں۔ یقیناً خواب دیکھنا کوئی گناہ نہیں، لیکن ہر خواب حقیقت نہیں بنتا۔ بھارتی جنرل کا یہ خواب پاکستان کی تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ ایک طنزیہ کہانی کی طرح یاد رکھا جائے گا۔ یہ بھی سچ ہے کہ بعد ازاں 1971 میں ہم نے اپنی کچھ غلطیوں اور اندرونی غداروں کی وجہ سے مشرقی پاکستان کو کھو دیا۔ لیکن اس نقصان کے باوجود قوم کے جذبے میں کبھی کمی نہیں آئی۔
آج بھی بھارت وہی پرانے خواب دیکھتا ہے۔ کبھی کہتا ہے ہم آزاد کشمیر کو ہڑپ کر لیں گے، کبھی کہتا ہے ہم پاکستان کو سبق سکھائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے خواب ہمیشہ خواب ہی رہتے ہیں۔ جیسا کہ حال ہی میں بھارت نے خواب دیکھا کہ رافیل طیارے آ کر پاکستان کی فضاؤں پر راج کریں گے۔ لیکن جب ہمارے ایف-16 اور جے ایف-17 تھنڈر نے ان کے رافیل طیاروں اور پائلٹس کو نیچے گرا کر زمین بوس کیا تو ان کے رافیل بھی محض مذاق بن کر رہ گئے۔
بھارتی جنرل کا لاہور چائے پینے کا خواب اور آج کے رافیل والے خواب میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں میں غرور ہے، تکبر ہے، اور دونوں کا انجام رسوائی ہے۔ پاکستان کے شاہین، پاکستان کے جوان، اور پاکستان کی عوام ہمیشہ متحد رہے ہیں۔ یہی اتحاد ہے جو بھارت کے ہر خواب کو چکنا چور کر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی جنرل کا خواب، لاہور کی چائے، جم خانہ کی میز، اور رافیل کے نعرے، یہ سب قصے کہانیاں ہیں۔ پاکستان کے شیر دل جوانوں کے سامنے بھارت کے خواب ہمیشہ خواب ہی رہیں گے۔