0

آزادی/افسانہ نگار/عالیہ ذوالقرنین

آزادی/افسانہ نگار/عالیہ ذوالقرنین

شہر کے پرانے حصے میں ایک ٹوٹا ہوا مکان تھا۔ شکستہ دیواروں پر نمی اور لکڑی کا دیمک زدہ پرانا سا دروازہ جو کھولنے پر ایسے کھلتا تھا جیسے کھلنا ہی نہ چاہتا ہو ۔ لوگ کہتے تھے وہاں ایک آدمی رہتا ہے کچھ اسے پاگل سمجھتے تو کچھ مجذوب کہتے۔
میں ایک صحافی ہوں ہمیشہ سے پر تجسس۔۔ ایک دن تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس مکان کا رخ کیا۔ دروازہ ہمشکل دھکیلا تو کھل گیا۔ اندر نیم اندھیرا اور پرانی سیلن زدہ در و دیوار کی مخصوص بو۔ کمرے کے کونے میں وہ لیٹا تھا وہی پاگل یا مجذوب، بند آنکھیں اور ساکت جسم، بدن پر موٹی موٹی رسیاں لپٹی ہوئی۔ جانے کیوں مجھے اس سے خوف محسوس نہیں ہوا میں نے دھیرے سے ہلایا اور پوچھا،
“کیا آپ زندہ ہیں؟”
اس نے آنکھیں کھول دیں فضا میں دیکھتی ہوئی خالی آنکھیں ۔۔
“ہاں… شاید۔ مگر مکمل نہیں۔“
میں اس کے قریب بیٹھ گیا “آپ نے خود کو کیوں باندھ رکھا ہے؟” وہ تھوڑی دیر خاموش رہ کر گویا ہوا
” چلو آج کسی کو اپنی کہانی سنا ہی دوں میں رسیوں کا کاریگر تھا۔ بندرگاہ کے قریب ایک چھوٹی سی دکان تھی میری، جہاں میں کشتیوں کے لیے رسی بناتا تھا۔ ماہی گیر آتے، کہتے رسی مضبوط ہو، سمندر کے بوجھ کو سہہ لے۔ میں ان کے لیے رسی بناتا اور وہ خوش ہو کر جاتے پھر ایک دن میں نے سوچا کہ میں نے ساری عمر دوسروں کی کشتیوں کو باندھنے کے لیے رسی بناتا رہا، مگر خود کب سے اپنے اندر کے کسی ساحل سے بندھا ہوں۔ جنہیں میں باندھنے کے لیے بناتا تھا، وہی رسیاں شاید میری روح میں اتر گئیں۔”
وہ لمحہ بھر کو رکا، پھر دھیرے سے بولا
”میں نے سوچا شاید اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لیے خود کو باندھنا ضروری ہو میں نے بھی یہی کیا۔ پہلے خود پر چھوٹی چھوٹی پابندیاں لگائیں، کم بولنا، کم ہنسنا، احساسات کو دبانا۔ پھر آہستہ آہستہ ہر چیز پر قفل لگ گیا۔ میں سمجھتا تھا میں ضبط سیکھ رہا ہوں، مگر وہ ضبط رفتہ رفتہ میری قید بن گیا۔ ایک دن رسی اٹھائی اور خود کو باندھ لیا جسم سے نہیں، عادت سے۔
اب ہر دن اسی رسی کا تسلسل ہے میں بظاہر آزاد ہوں، مگر اندر سے مکمل طور پر بندھا ہوا ہوں۔“
میں کچھ لمحے خاموش کھڑا رہا۔ کمرے میں عجیب سی نمی پھیل گئی تھی۔ میں نے نوٹ بک بند کی، دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازے پر پہنچ کر ایک بار مڑ کر دیکھا
وہ اب وہاں نہیں تھا۔
فرش پر صرف رسیاں رہ گئی تھیں۔ میں نے جھک کر رسی اٹھائی اور باہر نکل آیا سمندر کنارے ، وہ رسی جو کچھ دیر پہلے زمین پر پڑی تھی، مگر یوں لگتا تھا جیسے یہی رسی برسوں سے میرے قدموں میں لپٹی ہو۔ میں نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر پانی میں اچھال دیا۔ رسی لہروں میں ڈولتی رہی، پھر غائب ہو گئی۔
اُسی پل دل کے اندر ایک بوجھ سا ہلکا ہوا۔ ایسا لگا جیسے میں نے صرف رسی نہیں، اپنے اردگرد بُنی ہوئی اُن ان دیکھی گرہوں کو بھی کھول دیا ہے جو مجھے برسوں سے کسی انجانے خوف، خواہشات کی کسی خاموش قید میں جکڑے ہوئے تھیں۔ میں دیر تک سمندر کو دیکھتا رہا اور پہلی بار مجھے یوں محسوس ہوا کہ ہم سب کے لیے اپنی اپنی رسیوں کو کھول کر پھینک دینے سےکھل کر ہوا میں سانس لینا ممکن ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں