
الرحیق المختوم – ایک تبصرہ، ایک رائے/تبصرہ نگار/محمد عاصم بلال
میں اک عامی، خطا کار اور عاصی، ان کے در کا فقیر اور سوالی، کسی خوش نصیب نے اس بلند مرتبہ ،عالی ذات پر خامہ فرسائی کی ہے تو میری کیا مجال کہ اس پر تبصرہ کروں….؟ البتہ مطالعہ سیرت کے کچھ مشاہدات، کچھ منفرد تجربات ضرور ہیں جنہیں نقشِ قرطاس کرنا یوں بھی ضروری ہے کہ شاید یہ دیا کسی اور دل میں شوق کا چراغ جلا دے گا ۔
عالمی سطح پر سیرت نگاری کے مقابلہ میں اولیت کی حقدار قرار پانے والی یہ کتاب “الرحیق المختوم” ہندوستان کے شہر مبارک پور سے تعلق رکھنے والے “مولانا صفی الرحمن مبارک پوری” صاحب کی شاہکار تصنیف ہے ،اصل تصنیف اردو میں ہے مترجم بھی مولانا موصوف خود ہیں ۔ آغاز میں تبصرہ نگاری سے گریز کا ذکر کردیا سو پیشِ نظر صرف ترغیبی پہلو ہیں ۔
ماہِ ربیع الاول کے آتے ہی قصد کیا کہ اس ماہ سیرت کی ایک کتاب کی تکمیل تو خود پر لازم کرنی ہے ،سو نظرِ انتخاب اسی کتاب پر ٹھہری ۔ گردشِ وقت اور ہنگام ہائے زماں میں الجھے ایک بے راہ روی کے شکار شخص کے لیے سیرت کے اوراق اس قدر علاجِ شافعی ثابت ہونگے یہ تصور تو کبھی کیا ہی نہ تھا ۔ جدید زمانے کے رائج اطوار میں سے ایک اہم ترین یہ بھی ہے کہ ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے کبھی ارادے متزلزل ہونے لگیں یا حالات ناموافق ہوجائیں تو موٹیویشن حاصل کی جائے، شاید کچھ الفاظ، کچھ مثالیں یا کسی کی محنت سے بھرپور کہانی آپ کے ارادوں میں ازسرِنو توانائی بھردے ۔
سیرت نگار کا قلم جب آپ کے تصور کی انگلی تھام کر 14 صدیاں پیچھے مکہ کی گلیوں میں لے جاتا ہے جہاں تکالیف ہیں، مصائب ہیں ،مشکلات ہیں، لیکن ان تمام سے بحسن و خوبی نبرد آزما ہوتے رسول اکرم ﷺ- جن کی ثابت قدمی، جن کا ضبط اور جن کا تحمل ایسا کہ نہ دیکھا نہ سنا ۔ ہر مشکل میں ڈٹے رہنے کا یہ پہلا سبق ہی کتنا شاندار ہے لیکن ورق پر ورق پلٹتے یہ دوسرا سبق بھی مل جاتا ہے کہ آپ کا کھڑے رہنا، کوشش کرتے رہنا رائیگاں نہیں جائے گا، کبھی تو نصرتِ خداوندی اترے گی اور انصار بیعت کو بھی آجائیں گے ۔ لیکن یہاں آپ نے یہ بھی سیکھنا ہے کہ پھر جو آپ کے “انصار” ہوں آپ نے کیسے ان کا ہوکر رہنا ہے۔ آپ کا یوں “بہم” ہوکر رہنا آپ کے لیے کتنا مفید ہوگا، یہ اتفاق اور پھر آپ کی لگن شامل حال ہو تو کتنی دنیائیں ،کتنی طاقتیں آپ کے قدموں میں نچھاور ہوتی چلی جائیں گی، اگر رفتہ رفتہ سارا عرب زیرِ نگیں آگیا تھا تو ان کی تعلیمات کا پلو تھام کر چلیں، ان کا ہوکر رہیں، آپ کی منازل بھی کسی روز ضرور گردِ راہ بن کر رہ جائیں گی، پھر بدترین دشمنی کرنے والے اہل مکہ بھی سر جھکائے کھڑے ملیں گے اور ابو سفیان جیسے سخت مخالف کی جانثاری بھی آپ کو حیران کرے گی۔
اگر کبھی آپ اپنے عقائد کی پختگی میں وساوس کا شکار ہوجاتے ہیں یا مشکلات کی چومکھی لڑائی نڈھال کر دیتی ہے، یا مخالفت کے تند و تیز نشتر عزائم کو لہو لہو کرتے ہیں یا کم ہمتی و بے سرو سامانی سفر کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے تو ایک بار کتاب سیرت سے ضرور رجوع کیجیے، اپنا کردار اتنا ہی بلند رکھیں جتنا مکہ کے دُر یتیم کا تھا ،پھر دیکھیے گا کہ آپ حالات سے لڑنا بھی سیکھ جائیں گے اور مشکلات سے نکلنا بھی، آپ کی محنت سچی ہوئی تو ہاتھ تھامنے والے بھی ملیں گے ،خلوص مکمل ہوا تو جان وارنے والے بھی ، مکہ کی گلیوں سے صبر سیکھیں گے، ہجرت مدینہ صبر کا صلہ بتائے گی، معرکہ بدر سے توکل کا سبق ملے گا اور خندق سے مینجمنٹ ،پلاننگ ،اندرونی و بیرونی ہر دو قسم کی مخالفت سے نجات کا طریقہ ملے گا ، حدیبیہ کی صلح آپ کو تحمل و دور اندیشی کا درس دے گی اور مکہ کی فتح خوشی کے اشکوں سے اشکبار کرے گی ۔ آنحضرت ﷺ کی رحلت و اصحاب کا رد عمل آپ کو اپنی ذمہ داری کا احساس بھی دلائے گا اور عشق رسول کو مہمیز بھی لگائے گا ۔اور آخرش شمائل پڑھ کر آپ اپنی نسبت پر فخر کرنے لگیں گے ۔یعنی مکمل سیرت ایک ایسا کامل مضمون ہے کہ ایمان کی تازگی، شکوک، توہمات اور شبہات کا ازالہ، زندگی کے تمام تر پہلوؤں کی خوبصورت ترین راہنمائی اور اس جیسے لا تعداد فوائد یکبارگی حاصل کیے جاسکتے ہیں، بس آغاز ضرور کیجیے، پڑھیں ضرور، ہر کچھ عرصے بعد مطالعہ سیرت کو اپنی زندگی میں لزوم کا درجہ ضرور دیجیے۔