0

جدید ٹیکنالوجی کے انسانی زندگی پر اثرات /تحریر /عبدالرحیم عزم ساہیوال

جدید ٹیکنالوجی کے انسانی زندگی پر اثرات /تحریر /عبدالرحیم عزم ساہیوال

اللہ عزوجل نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر فضیلت کل بخشی۔انسان کو یہ مرتبہ اعلیٰ اور فضیلت یقیناًعلم و آگاہی، عقل و شعور کی نعمت عظمٰی کی بنا پر ملی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ اسے اپنی ضروریات و احتیاجاتِ زندگی کی تحصیل و تکمیل کے لیے اس علم و آگاہی سے کام لینے کا شرف بھی عطا کیا گیا ہے۔چناں چہ انسان نے اللہ عزوجل کے عطا کردہ علم سے کام لے کر ترقی کے بے شمار مراحل طے کر لیے ہیں۔یہاں تک کہ آج کا انسان زندگی کی تمام آسائشوں، سہولتوں اور عیش سامانیوں کے ساتھ آراستہ پیراستہ ہے بل کہ اس میں نت نئے انقلابات لا رہا ہے۔ بقول شاعر
؎ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
علم،عقل و شعورکی بنا پر ایجاد و دریافت کردہ کلوں اور مشینوں سے جدید طریقہ اور برق رفتاری سے کام لینا ٹیکنالوجی کہلاتا ہے اس کے انسانی زندگی پر حیران کن اور دائمی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ہم یوں کہہ سکتے ہیں یہ ہماری زندگیوں کا ایک جزو لازم بن چکی ہے کیوں کہ حیات انسانی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس پر اس کا اثر نہ ہو،یہ انسانی زندگی کے معاشی و معاشرتی عوامل کے ساتھ ساتھ نفسیاتی، توارثی اور جینیاتی خصوصیات پر بھی اثر پذیر ہو چکی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی انسان کے علاوہ دیگر مخلوقات پربھی اثر انداز ہو رہی ہے کیوں کہ اس کے ذریعے انسان فطرت کے کثیر راز ہائے سربستہ سے پردہ وا کر کے اسے مسخر کر رہا ہے، دیگر دنیاؤں تک اس کی رسائی ہو چکی ہے۔ ابتدائے آفرینش کے وقت اللہ عزوجل نے زمین پر سفر حیات طے کرنے کا اذن دیا لیکن اللہ تعالٰی کی رضا اور عطا کردہ علم کے ذریعے انسان دیگر سیاروں تک قدم رنجہ فرما چکا ہے بقول شاعر اس عروج آدم خاکی سے ستارے بھی محو حیرت ہیں۔
؎ عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے
اگر ماضی کا نگاہ عمیق سے مطالعہ کریں تومعلوم ہوتا ہے کہ ”اھبطو من الجنہ“(جنت سے نکل جاؤ)کے حکم ربی پر انسان جب زمین پر وارد ہوا تو تہی دست تھا حتیٰ کہ اپنا بدن تک ڈھانپنے کے لیے درختوں کے پتوں سے کام لیتا تھا۔پھرآہستہ آہستہ اپنی زندگی میں بہتری اور سہولت کے لیے نت نئی ایجادات کرتا رہا یہاں تک کہ آج اس مقام پر ہے کہ اگر ماضی کا کوئی انسان دنیا میں آجائے تو ٹیکنالوجی کی بدولت بدلی اس دنیا کو دیکھ کر انگشت بدنداں ہو کر، ورطہ حیرت میں پڑ کر کہنے لگے کہ شاید میں کسی اور جہاں میں آگیا ہوں۔
جدید ٹیکنالوجی سے انسان کا نہ صرف سفر و حضر، قیام و طعام بدلا بل کہ آمد ورفت، رسل و رسائل، مواصلات، حرب و امن کا طریقہ غرض سب کچھ بدل چکا ہے۔ انسان فضا کی بلندیوں میں محو پرواز ہو کر،خلاؤں کو عبور کر نے کے ساتھ ساتھ زمین اور سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں بھی غوطہ زن ہے۔ اپنے لیے گوہر نایاب نہ صرف زمانے کے سمندر سے نکال رہا ہے بل کہ بحارِ سنسار میں زیر آب نئی دنیائیں بھی دریافت کر چکا ہے۔
انسانی زندگی پر اثر پذیر ٹیکنالوجی میں سے سب سے زیادہ سرایت کر جانے والی بل کہ یوں کہیے کہ رگ جاں بن جانے والی ٹیکنالوجی انٹر نیٹ ہے۔ عصر حاضر میں حیات انسانی پر سب سے زیادہ اثرات اس کے ہیں اس کی بدولت دنیا ایک عالمی گاؤں (گلوبل ویلج) بن چکی ہے اس نے دنیا کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے۔
؎ ساری دنیا اس کی مٹھی میں ہے بند ایسی ایجاد ہے یہ انٹر نیٹ
ماضی میں رات ہوتے ہی انسان کا کاروبار زندگی جمود کا شکار ہو جاتا تھا۔ اب جدید ٹیکنالوجی سے مختلف ذرائع مثلاًآبی،ہوائی،شمسی،معدنی،زمینی اور حرکی توانائی سے کام لے کر وافر مقدار میں بجلی بنا رہا ہے جس سے روشنی کا سیلاب امڈ آیا ہے کہ دن اور رات میں تفاوت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ضروریات انسانی کی چھوٹی سے چھوٹی اشیا سے لے کر دیو ہیکل صنعتی مشینری تک سب اس برقی توانائی سے چل رہی ہیں۔اب انسان آسمانی بجلی کی کڑک و چمک سے خوف زدہ ہو نے کے بجائے اسے مسخر کرنے کی ٹیکنالوجی بنانے کی فکر میں ہے۔
ازمنہ پارینہ میں انسان کو خوراک کی قلت کا شدید سامنا کرنا پڑتا تھا حتیٰ کہ قحط کی اس قدر گھمبیراور خوفناک صورت حال ہوتی تھی کہ پوری کی پوری انسانی بستیاں قحط اور خشک سالی کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی تھیں لیکن آج جدید حیاتیاتی اور جینیاتی ٹیکنالوجی نے انسانی خوراک کی فراہمی میں ایسی انقلاب انگیز تبدیلیاں کر دی ہیں کہ پھل سبزیاں اور اجناس سارا سال دستیاب ہوتی ہیں۔وہ بھی بغیر کسی موسمی رکاوٹ کے۔ یہاں تک صحرا سر سبز و شاداب کیے جا رہے ہیں نئی نئی قسم کے پھل اور سبزیاں تیار کی جا رہی ہیں جو ہر طرح کے موسم اور جغرافیائی حالات کو برداشت کر سکتے ہیں۔ زرعی شعبہ میں حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اب ڈرون اور لیزر ٹیکنالوجی کا استعمال عام بات ہو چکی ہے جس سے زمین کی ہمواری سے لے کر فصل کی پیداوار، خصوصیات، بیماریوں کا سد باب ایسے دیگر عوامل کو وسیع سطح پر حل کیا جاتا ہے۔ انسان زمین پر اتنا سب کچھ بدلنے کے باجود بھی ترقی کے میدان میں برق رفتاری سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بقول شاعر
ع اور وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
یعنی افلاک اور خلاؤں کو مسخر کر رہا ہے۔آسمانی دنیا کی تسخیر کی ترقی اس قدر تیز رفتا رہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک نے بھی اپنا خلائی نظام سپارکو بنایا ہوا ہے اور بعض ترقی یافتہ ممالک کی طرح اپنے خلائی مشن مختلف مقاصد کے لیے جیسا کہ رہبر،بدر، بدر اول ایسے کئی راکٹ، سیٹلائٹ اور خلائی جہاز کامیابی سے خلا میں بھیج چکا ہے۔جس سے اب دنیا میں کہیں بھی تازہ ترین رابطہ اور نشریا ت، دشمن کی فضائی منصوبہ بندی کی معلومات اور عالمی زمینی معلومات پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔یہ سب ہمارے محب وطن افراد کی بدولت ممکن ہے اور شاعر مشرق نے ایسے ہی جوانوں کے متعلق کہا تھا کہ
؎ محبت مجھے ان جوانوں سے ہے جو ستاروں پہ ڈالتے ہیں کمند
ماضی میں جنگیں افرادی قوت اور سامان حرب کی تعداد کی بنا پر لڑی جاتی تھیں لیکن اب یہ تصور غلط ہو چکا ہے۔ اب ٹیکنالوجی نے دفاعی شعبہ اس قدر بدل دیا ہے کہ محاذ جنگ کے بغیر ہی فوج اپنے عسکری مرکز میں بیٹھ کر ایک بٹن دبا کر جنگ کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ دفاع وطن کے سلسلہ میں ہمارے بہادر اور سرمایہ افتخار سپوتوں جن میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان،ڈاکٹر عطا الرحمان،ڈاکٹر ثمر مبارک، ڈاکٹر منیر خان اور ڈاکٹر اشفاق او ردیگر سائنس دانوں نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے ”واعدو لھم ما استعطم من قوۃ ومن رباط الخیل،جہاں تک ممکن ہو سکے اپنے گھوڑے فوج کی قوت،سامان جنگ کو ہر وقت تیار رکھو“ پر عمل کرتے ہوئے وطن عزیز کو نہ صرف ایٹمی ٹیکنالوجی دی ہے بل کہ الخالد، البدر ٹینک، ایف 17تھنڈر طیارے،سعد آبدوز اور میزائل جیسی دفاعی ٹیکنالوجی سے بھی مزین و آراستہ کر کے دشمن کے ہوش اڑا دیے ہیں۔
صحت کے شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی سے ایک انقلاب برپاہے۔اب متعدی امراض کے علاوہ سنجیدہ اور مہلک ترین امراض کا علاج ممکن ہے۔ ریڈیالوجی،لیزر، الٹرا ساؤنڈ، اور دیگر آلات جراحت و طب کی ایجاد نے انسانی صحت کے مسائل کو ناقابل یقین حد تک آسان بنا دیا ہے یہاں تک کہ ڈی این اے اور جینز کی ٹیکنالوجی سے مدد لے کر بغیر ماں باپ کے انسانی بچوں اور دیگر جانداروں کی تخلیق جسے کلوننگ اور سارو گیسی کہتے ہیں،ممکن ہو چکی ہے۔ اسی طرح مصنوعی انسانی اعضا کی دستیابی سے حادثات میں معذور ہونے والے افراد کی زندگی کی مشکلات کافی حد تک کم ہو رہی ہیں۔
سائنسی ایجادات سے جہاں انسانی زندگی میں یکسر آسانی آئی، یہ پر تعیش بن گئی وہاں اس سے انسان کے لیے مسائل و مشکلا ت کے انبار بھی لگ گئے ہیں ان میں سے ایک زمینی آلودگی ہے جس سے صحت و صفائی کے بہت سے مسائل نے جنم لیا ہے اس مسئلے میں اہم کردار پلاسٹک کی اشیا کا ہے جو بے کار ہوجانے کے باوجود لمبے عرصہ تک ضائع نہیں ہوتیں اور زمین پر صحت و صفائی کی تباہی کا بڑا سبب ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔”اور زمین پر سارا فساد، خرابی انسان کا اپنا پھیلایا ہوا ہے۔“
تاہم انسان نے ان مسائل سے نبرد آزما ہو نے کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی سے مدد لے لی ہے بقول سائنس دانوں کے اس پر کف افسوس ملنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اس فکر اور پریشانی کا حل ان اشیا کو دوبارہ استعمال کی حالت میں لانا ہے یعنی ری سایکلنگ کی صورت میں انھیں دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ سائنس دانوں نے ایسی پھپھوندی بھی دریافت کر لی ہے جو پلاسٹک اور اس کی مصنوعات کو بھی کھا جاتی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی انسانی فطرت اور رویوں پر بھی اثر انداز ہوئی ہے ان میں سے سب سے اہم انسان کی سہل پسندی ہے۔ اب ہر کام مختلف مشینوں کی مدد سے کیا جاتا ہے انسان کو کم سے کم جسمانی محنت کی ضرورت پڑتی ہے جس کی وجہ سے لوگ سست الوجود ہو رہے ہیں۔ نتیجتاً مختلف امراض نے انسانی صحت کو گھیر لیا ہے مثلاً دل،جگر، معدے ،شوگر اور کینسر کی بیماریاں ہیں گو کہ ان امراض کا علاج بھی ممکن ہے لیکن وہ ہر ایک کی پہنچ میں نہیں، دوسراانسانی سکون کی بربادی اور پریشانی کا سبب تو لازماًیہ مسائل ہیں۔
اسی طرح ٹیکنالوجی نے انسانی حافظے کو بھی متاثر کیا ہے۔ ہمارے اسلاف انتہائی تیز حافظے کے مالک تھے انھیں ہزار ہا باتیں،کتابیں معلومات وغیرہ ازبر ہوتی تھیں لیکن آج بہت سے کام کمپیوٹر اور دیگر مشینوں کی مدد سے کرنے کی وجہ سے انسانی قلب و ذہن کی وسعتیں محدود ہو چکی ہیں انسان قدرتی حافظے سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی نے ہماری معاشرتی و سماجی، اخلاقی و دینی اقدار کو بھی شدید متاثر کیا ہے بل کہ یوں کہیے کہ ان اقدار کا جنازہ نکال دیا ہے جس سے انسان میں صبرو تحمل، برداشت اور رواداری کی صفات مفقود ہو رہی ہیں۔دوسرے کے خیال، ہمدردی اور احساس کی جگہ بے حسی اور خود غرضی نے لے لی ہے آج کا انسان ہر کام اور معاملے کو فوائد اور مادیت کے نکتہ نظر سے دیکھتا پرکھتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ ترقی کے اس پر شور و پر زور دور کی چکا چوند میں دوسروں کے دکھ سکھ کا احساس رکھنے والی آنکھوں کی بصارت چندھیا چکی ہے، دوسروں کی سسکیاں آہیں فریاد و ا لتجا سننے والی سماعت ختم اور محبت پیار اور ہمدردی کے جذبات و خیالات رکھنے والے دل و ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ بقول شاعر
؎ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
بہر حال ٹیکنالوجی کی بدولت یکسر بدلی سنوری اس دنیا میں زندگی کے ہر عیش و آرام کے ساتھ مشکلات و مسائل بھی ہیں لیکن اگر اعتدال سے کام لیا جائے تو ٹیکنالوجی وبال کی بجائے انعام خداوندی ثابت ہو گی اور انسان کی ترقی پر آسمان بھی رشک کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں