0

سالانہ سیرت سیمینار / تحریر / حفیظ چوہدری

سالانہ سیرت سیمینار, سیرتِ طیبہ کی روشنی میں امتِ مسلمہ کا تصور اور اجتماعی ذمہ داریاں
حفیظ چوہدری
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریجنل دعوہ سینٹر کراچی میں سالانہ سیرت سیمینار 16 اکتوبر 2025 بروز جمعرات کو نہایت شان و شوکت سے منعقد ہوا۔ ریجنل ڈائریکٹر و ممبر رحمت اللعالمین اتھارٹی، سید ڈاکٹر عزیزالرحمن کی زیرِ سرپرستی ہونے والا یہ اجلاس فکری و علمی اعتبار سے انتہائی اہم نوعیت کا تھا۔
اس سال کے سیمینار کا موضوع تھا:
“سیرتِ طیبہ کی روشنی میں امتِ مسلمہ کا تصور اور اس کی اجتماعی ذمہ داریاں”
یہ موضوع نہ صرف موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے بلکہ امت کے فکری و عملی زوال کے پس منظر میں ایک واضح رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔

اس فکری نشست میں ملک بھر سے ممتاز علمائے کرام، تعلیمی ماہرین، اور دانشور حضرات نے شرکت کی، جنہوں نے سیرتِ رسول ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر سید محسن نقوی (سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل) نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اسلام میں امتِ مسلمہ کا تصور باہمی حقوق و فرائض کی ادائیگی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے پر مبنی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ “انَّ الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ” کا فلسفہ ہمیں اتحاد، ہمدردی اور باہمی تعاون کی تعلیم دیتا ہے۔ ان کے مطابق، آج کے دور میں اخلاقی زوال کا علاج سیرتِ نبوی ﷺ کے اخلاقی معیار پر عمل میں پوشیدہ ہے۔

ڈاکٹر ذیشان احمد ( چانسلر جامعہ الغزالی) نے کہا کہ امتِ مسلمہ کی بنیاد لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے کلمے پر قائم ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر وحدتِ امت کا شعور پیدا کریں، گروہی، لسانی اور مسلکی تفریق سے بالاتر ہوکر اسلامی اخوت کے عملی مظاہر پیش کریں۔

مفتی ڈاکٹر نعمان نعیم (صدر جامعہ بنوریہ العالمیہ) نے کہا کہ امتِ مسلمہ کی وحدت کی اصل بنیاد میثاقِ مدینہ میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں سیرتِ طیبہ ﷺ کو محض تاریخی مطالعے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اسے اپنی اجتماعی زندگی کا مرکز بنانا ہوگا۔

ڈاکٹر حافظ منیر احمد خان (ڈین جامعہ سندھ) نے صدارتی خطبے میں کہا کہ دعوتِ دین کو محبت، اخلاص اور حسنِ اخلاق کے ذریعے عام کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ دور میں دعوت کا سب سے مؤثر ذریعہ خوش اخلاقی اور خدمتِ انسانیت ہے۔

ڈاکٹر عارف خان ساقی (صدر شعبہ اسلامیات، جامعہ کراچی) نے امت کے اجتماعی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امت کا اصل فریضہ دعوتِ اسلام کا فروغ ہے، اور ریجنل دعوہ سینٹر نے اس سیمینار کے ذریعے ایک بہت اہم فکری ذمہ داری ادا کی ہے۔

دیگر مقررین ڈاکٹر باچا آغا، ڈاکٹر عاطف اسلم راؤ، اور ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی نے بھی اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ امت کی بقا اور عروج صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم سیرتِ رسول ﷺ کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔

سیمینار کا ماحول نہایت پُرمغز، سنجیدہ اور فکری تھا۔ مقررین کی گفتگو میں عصر حاضر کو امت مسلمہ کو جن بحرانوں کا سامنا ہے۔ ان میں سب سے بڑے بحران کی نشاندہی فکری اور اخلاقی وحدت قرار دی گئی۔
شرکاء کا اتفاق تھا کہ اگر امتِ مسلمہ اپنے تمام مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتی ہے تو اسے نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی طرف لوٹنا ہوگا۔ سیرتِ طیبہ پر عمل پیرا ہو کر ہی ایک مثالی معاشرہ عدل، رحم، مساوات اور امانت پر قائم ہوسکتا ہے۔

تقاریر میں اجتماعی ذمہ داریوں پر خاص زور دیا گیا، جیسے عدل و انصاف کا قیام، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، علم و تحقیق میں قیادت کرنا، نوجوان نسل میں دینی شعور بیدار کرنا، اور اقوامِ عالم میں اسلام کے امن و انصاف کے پیغام کو عام کرنا قابل ذکر ہے۔
مقررین نے یہ بھی کہا کہ امت کے ہر فرد کو اپنی ذات سے اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا۔ اگر ہر مسلمان اپنے اخلاق و کردار کو نبی کریم ﷺ کے سانچے میں ڈھال لے تو معاشرہ خود بخود خیر و بھلائی کا گہوارہ بن جائے گا۔

ریجنل دعوہ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر سید عزیزالرحمن نے افتتاحی اور اختتامی گفتگو میں کہا کہ مایوسی اور ناامیدی کے اس دور میں نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہی ہمیں امید، استقامت، اور رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ سیمینار کے انعقاد سے نوجوان نسل میں شعور اور فکری بیداری پیدا ہوگی۔

سیمینار کا اختتام شکرگزاری اور دعا کے ماحول میں ہوا۔ آخر میں معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔ شرکاء، طلبہ، اساتذہ اور عوام کی بڑی تعداد نے اس فکری نشست میں شرکت کی۔
پروگرام کا مجموعی پیغام یہ تھا کہ اگر امتِ مسلمہ آج بھی کامیابی، اتحاد اور ترقی چاہتی ہے تو اسے سیرتِ رسول ﷺ کو اپنی اجتماعی، اخلاقی اور سیاسی زندگی کا محور بنانا ہوگا۔ یہ سیمینار دراصل اس عہدِ نبوی کے پیغام کو تازہ کرنے کی کوشش تھی کہ امت ایک جسم ہے۔ اور اس کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں